Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

منافع کے قواعد میں تبدیلی، شہریوں کے بینک اکاؤنٹس پر کیا اثر پڑے گا؟

سٹیٹ بینک نے ’انویسٹ پاک‘ کے نام سے ایک نیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی متعارف کرایا ہے (فائل فوٹو: وِکی پیڈیا)
اگر آپ اپنی سیونگز بینک میں رکھتے ہیں تو سٹیٹ بینک آف پاکستان کا اعلان آپ کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینک ڈیپازٹس پر کم سے کم منافعے کی شرح سے متعلق قواعد میں تبدیلی کی ہے۔
پاکستان کے مرکزی بینک نے ایک ایسا ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے عام شہری براہِ راست حکومتی سکیم کا حصہ بن کر اپنی بچت پر منافع کما سکیں گے۔
سٹیٹ بینک کے مطابق ’اب بینک ڈیپازٹس پر کم سے کم منافعے کی شرح صرف انفرادی کھاتہ داروں پر لاگو ہوگی، جن کے اکاؤنٹ میں ماہانہ اوسط بیلنس ایک کروڑ روپے (10 ملین روپے) یا اس سے زیادہ ہوگا۔
اس فیصلے سے عام شہری پر کیا اثر پڑے گا؟
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں بینک اکاؤنٹ رکھنے والے زیادہ تر افراد کے پاس ایک کروڑ روپے سے کم رقم ہوتی ہے، اس لیے اُن کے لیے کم سے کم منافع کی موجودہ سہولت برقرار رہے گی۔‘
اُن کے مطابق ’اگر آپ ایک عام ملازم، تاجر، پنشنر یا گھریلو بچت کرنے والے فرد ہیں تو اس فیصلے سے آپ کے بینک اکاؤنٹ پر فوری طور پر کوئی منفی اثر پڑنے کا امکان نہیں۔‘
البتہ اس پالیسی سے بڑے سرمایہ کاروں کے لیے راستہ ضرور کھلے گا۔ اب وہ اپنی رقم بینک ڈیپازٹس میں رکھنے کے بجائے حکومتی سکیورٹیز میں منتقل کر سکیں گے، جہاں انہیں مارکیٹ کی صورت حال کے مطابق بہتر منافع ملنے کی امید ہو سکتی ہے۔
اسی مقصد کے لیے سٹیٹ بینک نے ’انویسٹ پاک‘ کے نام سے ایک نیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی متعارف کرایا ہے۔ 
مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے عام شہری اور کارپوریٹ سرمایہ کار اپنے موبائل فون یا کمپیوٹر کے ذریعے براہِ راست حکومتی سکیورٹیز میں سرمایہ کاری کر سکیں گے۔

اب عام شہری اپنے موبائل فون یا کمپیوٹر کے ذریعے حکومتی سکیورٹیز میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں‘ (فائل فوٹو: پِکسابے)

سادہ الفاظ میں اگر پہلے کسی شخص کو حکومتی بانڈز یا دیگر سرکاری سرمایہ کاری کی مصنوعات خریدنے کے لیے مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا تھا، تو اب یہی کام ایک آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے نسبتاً آسان انداز میں کیا جا سکے گا۔
معاشی تجزیہ کار اور سینیئر صحافی وکیل الرحمان کے مطابق ’پاکستان میں بچت کی شرح طویل عرصے سے کم رہی ہے اور زیادہ تر افراد اپنی رقم صرف بینک اکاؤنٹس تک محدود رکھتے ہیں۔ ‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر عام شہریوں کو آسان اور محفوظ انداز میں حکومتی سکیورٹیز تک رسائی ملتی ہے تو اس سے سرمایہ کاری کے رُجحان میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
’دنیا کے کئی ممالک میں حکومتیں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے عوام سے براہِ راست سرمایہ حاصل کرتی ہیں۔ اگر پاکستان میں بھی یہ نظام موثر انداز میں چلایا گیا تو لوگوں کے پاس اپنی بچت کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کا ایک نیا راستہ دستیاب ہوگا۔‘

معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ ’سٹیٹ بینک نے بڑے سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری کا نیا راستہ کھولا ہے‘ (فائل فوٹو: پِکسابے)

بینکاری امور کے ماہر سابق بینکر فیصل بیگ نے اردو نیوز کو بتایا کہ اس فیصلے میں عام کھاتہ داروں کو ریلیف دیا گیا ہے کیونکہ کم سے کم منافعے کی شرط اب بھی ان ہی صارفین کے لیے برقرار ہے جو تعداد کے لحاظ سے اکثریت میں ہیں۔
ان کے مطابق ’سٹیٹ بینک نے ایک طرف عام صارف کے مفاد کو برقرار رکھا ہے، جبکہ دوسری طرف بڑے سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری کا نیا راستہ کھولا ہے۔ اس سے حکومتی سکیورٹیز کی مارکیٹ بھی مزید فعال ہو سکتی ہے۔‘
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت گذشتہ چند برسوں سے کوشش کر رہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ مقامی ذرائع سے حاصل کیا جائے تاکہ بیرونی قرضوں پر انحصار کم ہو۔ 
اگر زیادہ لوگ ’انویسٹ پاک‘ کے ذریعے حکومتی سکیورٹیز خریدتے ہیں تو اس سے حکومت کو بھی مالی وسائل حاصل کرنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔
تاہم ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ کسی بھی سرمایہ کاری سے پہلے اس کے منافعے، مدت اور ممکنہ خطرات کو اچھی طرح سمجھنا ضروری ہے۔ 
’ہر سرمایہ کاری ہر فرد کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتی، اس لیے فیصلہ اپنی مالی ضروریات اور حالات کو مدنظر رکھ کر کرنا چاہیے۔‘
سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ’انویسٹ پاک‘ کو محفوظ، شفاف اور آسان بنایا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری ڈیجیٹل ذرائع سے سرمایہ کاری کی طرف راغب ہوں۔

 

 

شیئر: