سابق سی آئی اے اہلکار پر کروڑوں ڈالر کے سونے کے بسکٹ چوری کرنے کا الزام
سابق سی آئی اے اہلکار پر کروڑوں ڈالر کے سونے کے بسکٹ چوری کرنے کا الزام
جمعرات 28 مئی 2026 11:37
ڈیوڈ رش کو گزشتہ ہفتے گرفتار کر کے اُس کے خلاف سرکاری خزانے میں غبن کا مقدمہ درج کیا گیا (فوٹو: نیویارک ٹائمز)
سی آئی اے میں خطیہ سطح کی کلیئرنس کے بعد خدمات انجام دینے والے ایک سابق سینئر اہلکار پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے وفاقی حکومت سے 40 ملین ڈالر سے زیادہ مالیت کے سینکڑوں سونے کے بسکٹ چرائے اور انہیں اپنے گھر میں چھپا کر رکھا۔
عرب نیوز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عدالتی دستاویزات کے مطابق، ڈیوڈ رش کو گزشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا اور سرکاری خزانے میں غبن کا مقدمہ درج کیا گیا۔ یہ اہل کار ریاست ورجینیا کا رہائشی ہے۔
ایف بی آئی کے ایک تفتیشی ایجنٹ کے حلف نامے کے مطابق، نومبر سے مارچ کے دوران ڈیوڈ رش نے کام سے متعلق اخراجات کے لیے ’غیر ملکی کرنسی کی بڑی مقدار اور کروڑوں ڈالر مالیت کے سونے کے بسکٹ‘ طلب کیے اور حاصل کیے۔
حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ ڈیوڈ رش ان رقوم کو کس مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا، تاہم اس کا کچھ حصہ اس کے دفتر کے قریب سٹوریج کے لیے بنائی گئی ایک جگہ سے برآمد ہوا۔
18 مئی کو وفاقی حکام نے اس کے گھر کی تلاشی لی اور 300 سے زائد سونے کے بسکٹ ضبط کیے جن کی مالیت 40 ملین ڈالر سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 20 لاکھ ڈالر نقد رقم اور لگ بھگ 35 قیمتی گھڑیاں بھی برآمد ہوئیں، جن میں کئی رولیکس شامل تھیں۔ ایف بی آئی کے مطابق ڈیوڈ رش کو اگلے روز ہی گرفتار کر لیا گیا۔
ایف بی آئی کے حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ اس بات کے معقول شواہد موجود ہیں کہ ڈیوڈ رش نے ’جانتے بوجھتے ہوئے امریکہ کے سرکاری اثاثوں میں خرد برد، چوری یا ان کا ناجائز استعمال‘ کیا اور انہیں ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا۔
ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ وہ اس تفتیش میں سی آئی اے اور محکمۂ انصاف کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
بدھ کے روز ڈیوڈ رش کے وکیل نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
یہ واضح نہیں کہ ڈیوڈ رش سی آئی اے میں کس عہدے پر فائز تھا یا اس نے یہ ادارہ کب چھوڑا؟ عدالتی ریکارڈ میں اسے صرف ’امریکی حکومت کے ایک ادارے کا سابق سینئر سطح کا ایگزیکٹو ملازم‘ قرار دیا گیا ہے۔
ایف بی آئی کے ترجمانوں نے مزید تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ سی آئی اے نے اس حوالے سے بھیجی گئی ای میل کا کوئی جواب نہیں دیا۔
ڈیوڈ رش کے گھر سے 300 سے زائد سونے کے بسکٹ ضبط کیے گئے جن کی مالیت 40 ملین ڈالر سے زیادہ ہے (فائل فوٹو: بلومبرگ)
حلف نامے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈیوڈ رش نے برسوں تک اپنی تعلیم اور فوجی پس منظر کے بارے میں بھی مبینہ طور پر جھوٹ بولا۔
تفتیش سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس نے غلط دعویٰ کیا تھا کہ وہ نیوی کا پائلٹ رہا ہے اور اس نے ساؤتھ کیرولائنا کی کلیمسن یونیورسٹی اور نیویارک کے رینسیلر پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ سے تعلیم حاصل کی ہے۔
تفتیش سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ 1997 میں نیوی میں بھرتی ہوا اور 2004 سے 2015 تک امریکی نیوی ریزروز میں خدمات انجام دیتا رہا، جہاں سے اسے لیفٹیننٹ کے عہدے پر باعزت طور پر فارغ کر دیا گیا۔
حلف نامے کے مطابق اس عرصے کے دوران اس نے بطور پائلٹ کوئی تربیت حاصل کی اور نہ ہی وہ جانچ کے مرحلے سے گزرا، اور تو اور اس نے مذکورہ تعلیمی اداروں سے تعلیم بھی حاصل نہیں کی۔
ڈیوڈ رش کو اس وقت حراست میں رکھا گیا ہے اور جمعہ کے روز ورجینیا کے شہر الیگزینڈریا کی وفاقی عدالت میں اس پر عائد الزامات پر سماعت متوقع ہے۔