Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا کا آسٹریلیا کے ساتھ یورینیم سپلائی کے معاہدے کا اعلان

ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ انتظام یورینیم کی طویل مدتی برآمدات کو صرف پُرامن مقاصد کے لیے ممکن بناتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو آسٹریلیا کے دورے کے دوران اعلان کیا کہ انہوں نے یورینیم سپلائی کا معاہدہ کر لیا ہے، جو انڈیا کی جوہری توانائی کی خواہشات میں اہم کردار ادا کرے گا۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں بجلی کی شدید طلب کے پیشِ نظر مودی نے آئندہ برسوں میں جوہری توانائی کی پیداوار کو نمایاں طور پر بڑھانے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔
آسٹریلیا دنیا کے یورینیم وسائل کا تقریباً 28 فیصد رکھتا ہے، مگر قانونی رکاوٹیں اور سیاسی حساسیت انڈیا کو برآمدات میں رکاوٹ ڈالتی رہی ہیں۔
مودی نے کہا کہ ’ہم نے آج جوہری توانائی پر ایک اہم معاہدہ کیا ہے۔ یہ آسٹریلیا سے انڈیا کو یورینیم سپلائی کا راستہ ہموار کرے گا اور ہمارے صاف توانائی کے مقاصد کو نئی رفتار دے گا۔‘
ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ انتظام یورینیم کی طویل مدتی برآمدات کو صرف پُرامن مقاصد کے لیے ممکن بناتا ہے۔ یہ برآمدات بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں ہوں گی۔
آسٹریلوی وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے کہ ’یہ انتظام آسٹریلوی یورینیم کی انڈیا کو برآمدات کو آسان بناتا ہے، تاکہ غیر فوسل ایندھن توانائی کی صلاحیت میں اضافہ ہو سکے۔‘
انڈیا اور آسٹریلیا نے 2015 میں جوہری تعاون کا معاہدہ کیا تھا، جس نے یورینیم برآمدات کا راستہ کھولا۔
حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات نمایاں طور پر مضبوط ہوئے ہیں، جزوی طور پر بیجنگ کی فوجی خواہشات کو قابو میں رکھنے اور چین سے باہر تجارتی شراکت دار تلاش کرنے کی مشترکہ خواہش کے باعث۔
مودی اور البانیز نے دفاعی تعاون کو بڑھانے اور اہم معدنیات کی سپلائی چین کو مضبوط کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ دونوں ممالک بحرِ ہند میں آسٹریلیا کے کوکوس کیلنگ جزائر پر ایک ’عارضی سپیس ٹریکنگ ٹرمینل‘ قائم کریں گے، جو انڈیا کے خلائی منصوبوں کی معاونت کرے گا۔

آسٹریلیا میں انڈین ڈائسپورا حالیہ برسوں میں نمایاں طور پر بڑھا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

’بڑی آبادیاتی تبدیلی‘
البانیز نے دن کے آغاز میں دونوں رہنماؤں کے ساتھ سیلفی لیتے ہوئے مسکراہٹ کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے پہلے بھی مودی کو ’دی باس‘ کہا تھا، مذاق میں کہا کہ وہ امریکی راک سٹار بروس اسپرنگسٹین سے بھی بڑے ہجوم جمع کر سکتے ہیں۔
البانیز نے کہا کہ ’وزیرِاعظم مودی، آپ کی قیادت اور آسٹریلیا کے ساتھ آپ کی ذاتی وابستگی اس تبدیلی کے لیے بالکل مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔‘
آسٹریلیا میں انڈین ڈائسپورا حالیہ برسوں میں نمایاں طور پر بڑھا ہے، جس نے مودی کو ملک میں ایک بڑا حمایتی حلقہ دیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پہلی بار آسٹریلیا میں بیرونِ ملک پیدا ہونے والے رہائشیوں کا سب سے بڑا گروہ انڈیا سے تھا۔
آسٹریلیا انڈیا انسٹیٹیوٹ سے ٹیستا پرکاش نے کہا کہ ’2014  میں آسٹریلیا میں انڈین برادری نسبتاً چھوٹی تھی۔ مگر 2026 میں یہ سب سے بڑی ڈائسپورا کمیونٹی بن گئی ہے۔ اس نے برطانویوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جو ایک بڑی آبادیاتی تبدیلی ہے۔‘
مودی جمعرات کو میلبرن کے ایک سٹیڈیم میں کمیونٹی ریلی میں شرکت کریں گے، جہاں منتظمین کو توقع ہے کہ 20 ہزار سے زیادہ افراد شریک ہوں گے۔

آسٹریلیا کی ’الائنس اگینسٹ اسلاموفوبیا‘ نے کہا کہ وہ سٹیڈیم کے باہر احتجاج کرے گی (فوٹو: اے ایف پی)

تاہم مودی کے دورے سے مخالفت بھی جنم لینے کی توقع ہے، بشمول یہ تنقید کہ انہوں نے انڈیا میں خطرناک ہندو قوم پرستی کو فروغ دیا ہے۔
آسٹریلیا کی ’الائنس اگینسٹ اسلاموفوبیا‘ نے کہا کہ وہ سٹیڈیم کے باہر احتجاج کرے گی، تاکہ انڈیا میں اقلیتوں کے خلاف مبینہ مظالم کی طرف توجہ دلائی جا سکے۔
اینٹی امیگریشن مظاہرین بھی ریلی سے پہلے جمع ہوئے، جنہوں نے ’آسٹریلویوں کو پہلے رکھو‘ کے نعرے والے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔

 

شیئر: