Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کے فلسطینی شہریوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کی کیا وجوہات ہیں؟

مغربی کنارے کے تقریباً 20 فیصد سکول اسرائیلی فوج کی کارروائیوں یا آبادکاروں کے تشدد کے باعث بند رہے (فوٹو: اے ایف پی)
16 برس کے یوسف کعبنہ کو 13 مئی کو وسطی مغربی کنارے کے فلسطینی قصبوں سنجل اور جلجلیہ پر اسرائیلی آبادکاروں کی کارروائی کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
عرب نیوز کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ ان کو مسلح آبادکاروں یا اسرائیلی فوج نے قتل کیا، جو اس وقت تک کھڑی تماشا دیکھتی رہی جب تک چند دیہاتیوں نے پتھراؤ کر کے اپنا دفاع کرنے کی کوشش نہیں کی، جس پر فوجیوں نے فائرنگ شروع کر دی۔
یہ بھی ممکن ہے کہ قاتل مقامی ’ہگانا مرہاویت‘ ملیشیا کا کوئی رکن ہو، جو آبادکاروں کی علاقائی دفاعی یونٹس ہیں اور جنہیں اسرائیلی دفاعی افواج نے بھرتی اور مسلح کیا ہوا ہے۔
یوسف اکتوبر 2023 کے بعد مغربی کنارے میں فوجیوں اور آبادکاروں کے ہاتھوں قتل ہونے والے 1,076 فلسطینیوں میں تازہ ترین ہیں، جن میں 235 بچے بھی شامل ہیں۔
اسرائیل میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق یہ سب کے سب ایک بے قابو انتہا پسند آبادکار تحریک کا نشانہ بنے۔
یہ آباد کار انتہا پسند اسرائیلی وزرا کی مدد اور علاقائی حالات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

اکتوبر 2023 کے بعد ہلاک ہونے والے 1076 افراد میں سے 1044 کو اسرائیلی فوجیوں نے گولی مار کر قتل کیا (فوٹو: اے ایف پی)

بی تسلیم (مقبوضہ علاقوں میں انسانی حقوق کا اسرائیلی معلوماتی مرکز) کے مطابق گزشتہ ڈھائی سال میں کم از کم 59 فلسطینی بستیاں آبادکاروں کی جانب سے خالی کروائی جا چکی ہیں، جبکہ مغربی کنارے میں 180 نئی آبادیاں قائم کی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ اوسلو معاہدے کے تحت مغربی کنارے کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، جس میں ایریا سی میں سکیورٹی، منصوبہ بندی، تعمیرات اور زمین کا کنٹرول اسرائیل کے پاس ہے۔
ایریا اے مکمل طور پر فلسطینی کنٹرول میں ہے جبکہ ایریا بی میں سول انتظام فلسطینیوں کے پاس اور سکیورٹی مشترکہ ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ فلسطینی اگر پولیس کو بلائیں تو وہ یا تو آتی ہی نہیں یا سب کچھ ختم ہونے کے بعد آتی ہے۔ فوج بھی یا تو نہیں آتی، یا آ کر کچھ نہیں کرتی، صرف تماشا دیکھتی رہتی ہے۔
اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ فلسطینیوں کے خلاف تشدد کے 90 فیصد سے زائد کیسز میں فردِ جرم عائد ہی نہیں ہوتی، اور جو مقدمات عدالتوں تک پہنچتے ہیں ان میں سے بھی بہت کم میں سزا ہوتی ہے۔
قتل کے جرم میں سزا پانے والے آخری شدت پسند امیرام اولیئل تھا، جس نے 2015 میں دوما گاؤں میں سعد اور ریہام دوابشہ اور ان کے 18 ماہ کے بیٹے علی کو ان کے گھر پر آگ لگا کر قتل کر دیا تھا۔ امیرام اولیئل کو مئی 2020 میں سزا سنائی گئی۔
اس وقت اسرائیلی حکومت نے اس کیس کو انصاف کی مثال کے طور پر پیش کیا، لیکن اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ کے ایک تجزیے میں مختلف مؤقف اختیار کیا گیا۔
اخبار نے لکھا کہ ’ٹوٹی ہوئی گھڑی بھی دن میں دو بار صحیح وقت دکھا دیتی ہے۔ اسرائیل نے ایسے برتاؤ کیا جیسے اس کا قانون نافذ کرنے کا نظام منصفانہ اور عدل پر مبنی ہو مگر یہ گھڑی ٹوٹی ہوئی تھی اور اب بھی ٹوٹی ہوئی ہی ہے۔‘
1953 میں اس علاقے میں کام کر رہی غیر سرکاری تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کی سرگرمیوں کے بچوں پر ہولناک اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق فلسطینیوں کے خلاف تشدد کے 90 فیصد سے زائد کیسز میں فردِ جرم عائد ہی نہیں کی جاتی (فوٹو: اے ایف پی)

کیمبرج یونیورسٹی اور اقوامِ متحدہ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2023-24 کے تعلیمی سال کے دوران مغربی کنارے کے تقریباً 20 فیصد سکول فوجی کارروائیوں یا آبادکاروں کے تشدد کے باعث بند رہے، جس سے متاثرہ بچوں کی تعلیم کے تقریباً تین ماہ ضائع ہو گئے۔
اگرچہ بعض اوقات یہ تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو کس نے قتل کیا، لیکن ایک اندازے کے مطابق اکتوبر 2023 کے بعد ہلاک ہونے والے 1076 افراد میں سے 32 کو آبادکاروں جبکہ 1044 کو فوجیوں نے گولی مار کر قتل کیا۔
یورپی یونین نے اسرائیلی فوج کے مظام پر تنقید کی تو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ ’یورپی یونین نے اسرائیلی شہریوں اور حماس کے دہشت گردوں کے درمیان غلط برابری قائم کر کے اپنا اخلاقی دیوالیہ پن ظاہر کر دیا ہے۔‘

شیئر: