سلامتی کونسل کے ارکان کی اسرائیل کے مغربی کنارے کے منصوبوں پر کڑی تنقید
جمعرات 19 فروری 2026 7:26
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں ہونے والی جنگ بندی کو مستقل بنایا جائے۔ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے پر اپنا کنٹرول بڑھانے کی کوششوں کو دو ریاستی حل کے امکانات کے لیے خطرہ قرار دیا۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ مطالبہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس سے ایک دن قبل بدھ کو سامنے آیا ہے جس میں فلسطینی علاقوں کے مستقبل پر بات کی جائے گی۔
نیویارک میں ہونے والا اعلیٰ سطح کا اجلاس ویسے تو جمعرات کو شیڈول تھا لیکن اسے ایک دن پہلے کر دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ صدر ٹرمپ نے اسی دن بورڈ آف پیس کے اجلاس کا اعلان کر دیا تھا اور واضح ہو گیا تھا کہ دونوں اجلاسوں میں شرکت کا ارداہ رکھنے والے سفارتکاروں کے سفر کے پلانز متاثر ہوں گے۔
یہ اس بات کی علامت ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سب سے طاقتور کونسل اور امریکی صدر کے نئے اقدام کے مقاصد کے درمیان ٹکراؤ ہو سکتا ہے۔ بعض ممالک کو خدشہ ہے کہ یہ نیا فورم عالمی تنازعات حل کرنے کی کوشش میں سلامتی کونسل کا متبادل بننے کی کوشش کر سکتا ہے۔
سلامتی کونسل کے 15 ارکان میں سے پاکستان واحد ملک ہے جس نے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت بھی قبول کی۔ اجلاس میں پاکستان نے اسرائیل کی مغربی کنارے میں متنازع بستیوں کے منصوبے کو بے بنیاد اور کالعدم قرار دیا اور کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی ہے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ’اسرائیل کے حالیہ غیر قانونی فیصلے، جن کے ذریعے وہ مغربی کنارے پر اپنا کنٹرول بڑھا رہا ہے، انتہائی تشویشناک ہیں۔‘
برطانیہ، اسرائیل، اردن، مصر اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ بھی سلامتی کونسل کے ماہانہ مشرقِ وسطیٰ اجلاس میں شریک ہوئے۔ کئی عرب اور اسلامی ممالک نے گزشتہ ہفتے درخواست کی تھی کہ واشنگٹن جانے سے پہلے غزہ اور مغربی کنارے پر بات کی جائے۔
فلسطین کے اقوامِ متحدہ میں سفیر ریاض منصور نے کہا کہ ’کسی علاقے کو ضم کرنا اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اُصولوں کی خلاف ورزی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ (اقدام) صدر ٹرمپ کے منصوبے کی بھی خلاف ورزی ہے اور امن کی کوششوں کے لیے خطرہ ہے۔‘
اسرائیل کے وزیر خارجہ جدعون ساعر نے کہا کہ ’توجہ اقوامِ متحدہ کے اجلاس پر نہیں بلکہ بورڈ آف پیس کے اجلاس پر ہے، اور دنیا کی نظر اسی پر ہوگی۔‘
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ سلامتی کونسل ’اسرائیل مخالف رویے‘ کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی قوم کا اپنی تاریخی اور مذہبی سرزمین پر اس سے زیادہ مضبوط حق نہیں جتنا اسرائیل کا ہے۔‘
یہ بورڈ جس کی صدارت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے، ابتدا میں ایک چھوٹے سے عالمی رہنماؤں کے گروپ کے طور پر دیکھا جا رہا تھا جو غزہ کے مستقبل کے لیے ان کے 20 نکاتی منصوبے کی نگرانی کرے گا۔ لیکن ریپبلکن صدر نے جب اعلان کیا کہ یہ بورڈ دنیا بھر کے تنازعات میں ثالثی کرے تو ان کے اس نے نئے وژن نے بڑے اتحادی ممالک میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔
اب تک 20 سے زائد ممالک نے اس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت قبول کی ہے، مگر امریکہ کے قریبی شراکت دار ممالک جن میں فرانس، جرمنی اور دیگر شامل ہیں، نے تاحال اس میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور اقوامِ متحدہ کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ اس وقت خود بھی بڑی اصلاحات اور فنڈنگ میں کمی جیسے مسائل سے گزر رہی ہے۔
برطانیہ کی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر نے کہا کہ ’اقوامِ متحدہ کی سب سے طاقتور کونسل کے پاس موقع ہے کہ وہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے لیے ایک بہتر مستقبل کی تعمیر میں مدد دے۔‘
اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’غزہ کو امن اور جنگ کے درمیان ایک بے یقینی صورتحال میں نہیں پھنسنا چاہیے۔‘
اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سفیر مائیک والٹز نے ان ممالک پر تنقید کی جو ابھی تک بورڈ آف پیس میں شامل نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ’سلامتی کونسل کے برعکس یہ بورڈ صرف باتیں نہیں کرتا بلکہ عملی اقدامات کرتا ہے۔‘
بدھ کے روز انہوں نے کہا کہ ’کچھ لوگ بورڈ کی ساخت پر اعتراض کر رہے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ غیر روایتی ہے اور اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، لیکن پرانے طریقے کارآمد ثابت نہیں ہوئے۔‘
