تشریق کے دوسرے دن بھی رمی (کنکریاں مارنے) کا سلسلہ صبح سے شروع ہو گیا، حجاج وقفے وقفے سے اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق جمرات آتے ہیں اور تینوں شیطانوں کو سات، سات کنکریاں مارنے کے بعد اپنے خیموں کی جانب لوٹ جاتے ہیں۔
غروبِ آفتاب سے قبل ہی حجاج وادی منیٰ سے رخصت ہونا شروع ہو جائیں گے جس کے ساتھ ہی چند دنوں کے لیے لاکھوں فرزندانِ اسلام سے آباد ہونے والی عارضی خیمہ بستی آئندہ برس تک کے لیے غیرآباد ہو جائے گی۔
مزید پڑھیں
-
حج 2026: یوم النحر کو جمرہ عقبہ پر رمی کے مناظر
Node ID: 904734
تفصیلات کے مطابق غروب آفتاب سے قبل وادی منیٰ کی حدود سے نکل جانے والے حجاج کو ’متعجلین‘ یعنی جلدی واپسی کرنے والے کہا جاتا ہے۔
جلد واپسی کرنے والے حجاج مکہ مکرمہ میں اپنی رہائشی عمارتوں میں منتقل ہو جائیں گے جہاں طواف الوداع کرنے کے بعد مقررہ تاریخوں کو ان کی اپنے اپنے ملکوں کو روانگی شروع ہو جائے گی۔
وہ حجاج جو 12 ذوالحج یا تشریق کے دوسرے دن غروب آفتاب کے بعد بھی منیٰ کی حدود میں رہ جائیں گے ان کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ تشریق کے تیسرے دن یعنی 13 ذوالحجہ کو بھی تینوں جمرہ کی رمی مکمل کریں اور اس کے بعد واپسی کے سفر کا آغاز کریں۔

حج خدمات فراہم کرنے والے اداروں کی جانب سے حجاج کے لیے شیڈول مقرر کیا جاتا ہے جس کا مقصد مناسکِ حج کی ادائیگی اور حجاج کی روانگی کے انتظامات کو بروقت مکمل کرنا ہے۔
تشریق کے دوسرے دن کی رمی کو منظم رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات دیکھنے میں آئے، جمرات کمپلیکس پر جگہ جگہ سکیورٹی اہلکاروں کے مختلف یونٹس متعین تھے جو جمرات پل پر حجاج کی آمدورفت کو منظم کرنے میں مصروف تھے۔ علاوہ ازیں سکاؤٹس اور ہلال الاحمر کے رضاکار جن میں خواتین بھی شامل تھیں حجاج کی خدمت میں خلوص دل سے پیش پیش رہیں۔












