آبنائے ہرمز میں ٹیکس وصولی کا فیصلہ واپس، صدر ٹرمپ کا خلیجی ممالک سے تجارتی معاہدے کرنے کا اعلان
آبنائے ہرمز میں ٹیکس وصولی کا فیصلہ واپس، صدر ٹرمپ کا خلیجی ممالک سے تجارتی معاہدے کرنے کا اعلان
منگل 14 جولائی 2026 20:41
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ یہ فیس عائد کرنے کی بجائے خلیجی ممالک کے ساتھ سرمایہ کاری کے معاہدے کرنے پر توجہ دیں گے (فوٹو: روئٹرز)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے جہازوں پر 20 فیصد فیس عائد کرنے کا منصوبہ ترک کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ یہ فیس عائد کرنے کے بجائے خلیجی ممالک کے ساتھ سرمایہ کاری کے معاہدے کرنے پر توجہ دیں گے۔
عرب نیوز کے مطابق یہ فیصلہ اس مجوزہ فیس کے نفاذ سے چند گھنٹے قبل یعنی عالمی معیاری وقت کے مطابق رات 8 بجے سے پہلے واپس لیا گیا۔ یہ پیش رفت شپنگ انڈسٹری کی جانب سے تنقید اور امریکہ و ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے پس منظر میں ہوئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے پیر کو اس فیس کا اعلان اُس وقت کیا جب ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کر دیا ہے، جبکہ امریکہ نے ایرانی جہازرانی کی ناکہ بندی کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔ تاہم منگل کو سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایرانی جہازوں کے علاوہ تمام تجارتی ٹریفک کے لیے کھلی رہے گی۔
اس اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ کچھ کم ہو گیا، کیونکہ دنیا کی توانائی کی مصروف ترین گزرگاہوں میں ممکنہ رکاوٹ کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا تھا۔
یہ پالیسی تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی افواج نے مسلسل تیسری رات بھی ایرانی اہداف پر حملے کیے، جس کے باعث اس حوالے سے نئے شبہات پیدا ہوئے کہ آیا گزشتہ ماہ طے پانے والی ایران، امریکہ مفاہمتی یادداشت اس تنازع کے مستقل خاتمے کا باعث بن سکتی ہے یا نہیں۔
اس لڑائی نے پہلے ہی عالمی توانائی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے اور تیل کی سپلائی میں غیر یقینی صورتِ حال کے باعث مہنگائی میں اضافے کے خدشات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔
ایران نے تازہ امریکی حملوں کے جواب میں اُردن کی جانب بیلسٹک میزائل داغے، جبکہ بحرین نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی فضائی حملے کو ناکام بنا دیا۔ اُردن کے مطابق اس نے چار بیلسٹک میزائل مار گرائے، جبکہ بحرین کے دارالحکومت منامہ میں دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایرانی جہازوں کے علاوہ تمام تجارتی ٹریفک کے لیے کھلی رہے گی (فوٹو: اے ایف پی)
تنازع سے قبل آبنائے ہرمز کے ذریعے روزانہ عالمی تیل اور گیس کے تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل ہوتی تھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مجوزہ 20 فیصد ٹرانزٹ فیس سے روزانہ تقریباً 240 ملین ڈالر آمدن حاصل ہو سکتی تھی۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن، جو جہازرانی سے متعلق معاملات کی نگرانی کرتا ہے، نے بین الاقوامی آبی گزرگاہوں پر فیس عائد کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی گزرگاہوں پر لازمی ٹرانزٹ چارجز نافذ کرنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔