لاہور: امریکی شہری ماں اور تین بچوں کی ہلاکت، کیا زہر دے کر قتل کیا گیا؟ مقدمہ درج
ہفتہ 18 جولائی 2026 16:08
متاثرہ خاندان کا تعلق ضلع سیالکوٹ کے علاقے پسرور سے ہے اور تمام اہل خانہ امریکی شہری ہیں۔ (فوٹو: لاہور پولیس)
لاہور کے علاقے کاہنہ میں امریکی شہریت رکھنے والی ایک خاتون اور اس کے تین بچوں کی پراسرار ہلاکت کے معاملے میں پولیس نے قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے جبکہ فرانزک ٹیمیں شواہد اکٹھے کرنے اور مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔
پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 16 سالہ ریحان، 11 سالہ اریشہ، 9 سالہ ارصل اور ان کی والدہ علینہ ڈوگر شامل ہیں۔ خاتون کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ دم توڑ گئیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق بچوں کو ممکنہ طور پر زہریلی چیز دی گئی، تاہم حتمی وجہ موت پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹس کے بعد ہی سامنے آئے گی۔
ماڈل ٹاؤن پولیس نے اردو نیوز کو بتایا کہ متاثرہ خاندان کا تعلق ضلع سیالکوٹ کے علاقے پسرور سے ہے اور تمام اہل خانہ امریکی شہری ہیں۔ خاندان یکم جولائی کو پاکستان آیا تھا۔
پولیس نے بچوں کے والد ناصر ڈوگر کا بیان بھی قلمبند کر لیا ہے۔ ناصر کے مطابق جب وہ گروسری لے کر گھر پہنچے تو انہوں نے اپنی اہلیہ سے بچوں کے بارے میں پوچھا، جس پر انہیں بتایا گیا کہ بچے فلم دیکھنے گئے ہیں۔ ان کے بقول کچھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی اور محلے داروں نے اطلاع دی کہ گھر کے پچھلے صحن میں بچے پڑے ہیں۔ ناصر نے بتایا کہ وہ صحن میں پہنچے تو تینوں بچے مردہ حالت میں موجود تھے، جبکہ ان کی اہلیہ کی طبیعت بھی بگڑ گئی جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔
ناصر نے پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ان کی اہلیہ گزشتہ تین برس سے ذہنی مسائل کا شکار تھیں اور چھ ماہ قبل انہوں نے ادویات لینا چھوڑ دی تھیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ممکن ہے بچوں کو آئس کریم یا کسی اور چیز میں زہریلا مادہ دیا گیا ہو تاہم اس حوالے سے تفتیش جاری ہے۔
ایس پی ماڈل ٹاؤن اسد علی کے مطابق پولیس اور فرانزک ٹیمیں جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر رہی ہیں جبکہ گھر سے حاصل کیے گئے کھانے کے نمونے فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔ پولیس یہ بھی تفتیش کر رہی ہے کہ زہر جان بوجھ کر دیا گیا یا کھانا کسی وجہ سے زہریلا ہو گیا تھا۔ پولیس نے بچوں کے والد کے بیان کے بعد لاشوں کا دوبارہ معائنہ شروع کر دیا ہے
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کے رشتہ داروں سے امریکہ اور کینیڈا میں بھی رابطہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس مرحلے پر والد یا والدہ میں سے کسی کو بچوں کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دینا قبل از وقت ہوگا اور تمام پہلوؤں سے باریک بینی سے تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ سرکاری مدعیت میں قتل کی دفعات کے تحت درج کر لیا گیا ہے جبکہ پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹس کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔