Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

میانوالی پولیس اہلکاروں نے موٹرسائیکل پر لفٹ لے کر قتل کے ملزم کو کیسے گرفتار کیا؟

پانچ مئی کی صبح  پنجاب کے ضلع میانوالی کے جہاز چوک پر معمول کی ہلچل تھی۔ ضلعی انتظامیہ کے دفاتر اور سیشن کورٹ کے درمیان واقع اس مرکزی چوک پر شہریوں کی آمدورفت جاری تھی۔
پولیس اہلکار سمیع اللہ ڈی پی او آفس کے مرکزی دروازے پر داخل ہونے والوں کی معمول کی تلاشی لے رہے تھے جبکہ حوالدار ندیم سیشن کورٹ کے دروازے پر تعینات تھے۔ 
چند ہی لمحوں بعد عدالت میں پیشی کے لیے آنے والے ملزموں اور ان کے رشتے داروں، راہگیروں، پولیس اہلکاروں اور سرکاری دفاتر کے ملازمین نے اس مقام پر ایک ایسا منظر دیکھا جس کی بازگشت پورے شہر میں سنائی دی۔ یہ کسی دھواں دار ایکشن فلم کے منظر سے کم نہ تھا۔ 
صبح تقریباً 10 بجے چکے تھے اور عدالت میں مختلف مقدمات کی سماعت جاری تھی جب اچانک فائرنگ کی تھرتھراہٹ سنائی دی۔ اس فائرنگ کے بعد دو پولیس اہلکاروں نے ڈرامائی انداز میں موٹرسائیکل سواروں سے لفٹ لیتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ سابقہ دشمنی کا شاخسانہ تھا۔ فائرنگ میں ایک نوجوان موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ ایک راہگیر سمیت تین افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں ایک بزرگ اور ایک بچہ بھی شامل تھے جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں پولیس اہلکاروں کے مطابق ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی۔
واقعے کے فوراً بعد ضلع میانوالی کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر وقار عظیم کھرل ایس پی انوسٹی گیشن اظہر سعید کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچے۔ ایس ڈی پی او صدر، ایس ایچ او تھانہ سٹی اور ایس ایچ او تھانہ صدر نے انہیں ابتدائی بریفنگ دی جبکہ انوسٹی گیشن ٹیم شواہد جمع کرنے اور جائے وقوعہ کا جائزہ لینے میں مصروف ہو گئی۔
اس واقعے کے خلاف تھانہ سٹی میانوالی میں مقدمہ درج کیا گیا ہے جس کے مطابق 2025 میں مدعی کے خاندان کے ایک فرد پر مخالف فریق کی ایک خاتون کے ساتھ ناجائز تعلقات کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔
بعد ازاں خاتون اور مذکورہ شخص دونوں قتل کر دیے گئے جس کا مقدمہ بھی درج ہوا تھا۔ پانچ مئی کو اسی مقدمے کی سماعت کے سلسلے میں مدعی فریق اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سیشن کورٹ میانوالی آیا ہوا تھا۔
مقدمے کے متن کے مطابق مخالف فریق کے افراد قریبی مسافر خانے میں گھات لگائے ہوئے تھے۔ وہ جیسے ہی عدالت سے باہر نکلے تو ملزموں نے انہیں للکارا اور کہا کہ انہوں نے ان کی عزت خراب کی ہے اور وہ اب بچ نہیں جا سکیں گے۔ اس کے بعد فائرنگ شروع ہو گئی۔
فائرنگ کرنے والا ملزم واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تاہم اس کی آزادی صرف چند منٹوں کی مہلت ثابت ہوئی۔

سمیع اللہ کے مطابق فائرنگ کی آواز سنتے ہی وہ گیٹ سے باہر آئے تو ایک شخص بھاگتا ہوا دکھائی دیا (فوٹو: سمیع اللہ)

پولیس اہل کار سمیع اللہ نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ اس وقت ڈی پی او آفس کے مرکزی دروازے پر تعینات تھے اور معمول کے مطابق اندر آنے والے افراد کی تلاشی لے رہے تھے۔‘
وہ اس دن کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ ’صبح تقریباً دس بجے تھے کہ اچانک نائن ایم ایم پستول کے پورے برسٹ کی آواز سنائی دی۔ فائرنگ کی آواز سنتے ہی سب سے پہلے میں نے اپنا تحفظ یقینی بنایا اور اور اپنا اسلحہ لوڈ کیا۔‘
ان کے مطابق فائرنگ کی آواز سنتے ہی وہ گیٹ سے باہر نکلے تو ایک شخص بھاگتا ہوا دکھائی دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ جیسے ہی باہر پہنچے تو ملزم فرار ہو رہا تھا۔ عدالت کے دروازے پر حوالدار ندیم تعینات تھے۔ ایک طرف سے میں پہنچا اور دوسری طرف سے ندیم صاحب آئے۔ ہم دونوں نے ملزم کا تعاقب شروع کر دیا۔‘
ملزم تیزی سے تھل کینال کی طرف بڑھ رہا تھا۔ پولیس اہلکار سمیع اللہ کے مطابق تعاقب کے دوران ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جب ملزم نے اپنا ہتھیار پھینک دیا لیکن وہ بھاگتا رہا۔
انہوں نے کہا کہ ’وہ کافی آگے نکل چکا تھا۔ ہم مسلسل اس کا تعاقب کر رہے تھے۔ تھل نہر کے قریب ایک پل زیر تعمیر ہے۔ ندیم صاحب کے پاس اس وقت اسلحہ نہیں تھا، اس لیے میں نے انہیں کہا کہ محتاط رہتے ہوئے اس کا پیچھا جاری رکھیں۔‘

پولیس کے مطابق یہ واقعہ سابقہ دشمنی کا شاخسانہ تھا جس میں ایک نوجوان موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا (فوٹو: سمیع اللہ)

دوڑتے دوڑتے جب فاصلہ بڑھنے لگا تو اچانک ایک موٹر سائیکل سوار وہاں سے گزرا۔ سمیع اللہ اس حوالے سے بتاتے ہیں کہ ’میں نے اسے اشارہ کیا تو وہ رُک گیا۔ میں اس کی موٹر سائیکل پر سوار ہو گیا اور کہا کہ اس شخص کا پیچھا کرو۔ اسی دوران ایک اور موٹرسائیکل سوار آ گیا جس کے ساتھ ندیم صاحب سوار ہو گئے۔ یہ دونوں عام شہری تھے جو اپنے کام سے جا رہے تھے۔ ہم نے ان سے بھاگتے بھاگتے لفٹ لی اور ملزم کا پیچھا جاری رکھا۔‘
اس واقعے کی ایک ویڈیو بھی اردو نیوز کو موصول ہوئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حوالدار ندیم اور پولیس اہلکار سمیع اللہ بھاگتے ہوئے دو موٹرسائیکل سواروں سے لفٹ مانگ رہے ہیں جس کے بعد انہیں ملزم کو گرفتار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
سمیع اللہ کے مطابق، ہم نے ملزم کو زیر تعمیر پل کے قریب سے قابو کر لیا۔ بعدازاں ان ملزموں کو مقامی تھانے منتقل کر کے اور چالان مکمل کرنے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا اور وہ اب جیل میں ہے۔‘
میانوالی پولیس کے مطابق ملزم کی گرفتاری میں حوالدار ندیم اور پولیس اہلکار سمیع اللہ نے کلیدی کردار ادا کیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دونوں اہلکاروں نے جان پر کھیل کر ملزم کا تعاقب کیا اور اسے فرار ہونے کا موقع نہیں دیا۔

محکمۂ پولیس کی جانب سے ملزم کی گرفتاری پر دونوں پولیس اہلکاروں کو تعریفی اسناد اور انعام بھی دیا گیا ہے (فوٹو: سمیع اللہ) 

ڈی پی او وقار عظیم کھرل اور ایس پی انوسٹی گیشن اظہر سعید نے بعد ازاں دونوں اہلکاروں کو شاباش دی۔
پولیس حکام کے مطابق حوالدار ندیم جوڈیشل گیٹ پر تعینات تھے جبکہ سمیع اللہ ڈی پی او آفس کے داخلی دروازے پر ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔ فائرنگ کے واقعے کے بعد دونوں نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے ملزم کا تعاقب کیا اور بالآخر اسے گرفتار کر لیا۔
پولیس اہلکار سمیع اللہ کے مطابق انہیں محکمۂ پولیس کی جانب سے ملزم کی گرفتاری یقینی بنانے پر سرٹفیکیٹ اور انعام سے بھی نوازا گیا ہے۔ 

شیئر: