Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

گلگت بلتستان انتخابات: غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کا سلسلہ جاری، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں مقابلہ

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی کا سلسلہ جاری ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق اس وقت غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق حلقہ جی بی اے 4 نگر 1 کے تمام 53 پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد علی اختر 7530 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کے محمد ایوب وزیری 6491 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ جی بی اے 2 گلگت 2 کے 91 پولنگ سٹیشنز میں سے 27 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حفیظ الرحمان 4129 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جمیل احمد 2695 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 3 گلگت 3 کے 82 پولنگ سٹیشنز میں سے 42 کے نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد اقبال 5000 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار سید سہیل عباس 3867 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 7 اسکردو 1 کے تمام 31 پولنگ سٹیشنز کے نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سید توقیر مہدی 4337 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال حسین خان 3891 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ جی بی اے 13 استور 1 کے 57 پولنگ سٹیشنز میں سے 36 کے نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رانا فرمان علی 4368 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار شاہدہ 4312 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 14 استور 2 کے 51 پولنگ سٹیشنز میں سے 24 کے نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رانا محمد فاروق 3390 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے شمس الحق لون 3383 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 18 دیامر 4 کے 32 پولنگ سٹیشنز میں سے 25 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کفایت الرحمان 3631 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان 3298 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 19 غذر 1 کے 78 پولنگ سٹیشنز میں سے 21 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ظفر محمد 2233 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار نواز خان ناجی 2155 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حلقہ جی بی اے 1 گلگت 1 کے 80 پولنگ اسٹیشنز میں سے 64 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امجد حسین 8677 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد شفیق الدین 4907 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 20 غذر 2 کے 69 پولنگ اسٹیشنز میں سے 20 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار صفدر علی شیرازی 1530 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے عبدالجہاں 1504 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 21 غذر 3 کے 60 پولنگ اسٹیشنز میں سے 28 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار امان علی 4647 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے غلام محمد 3016 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 24 گھانچے 3 کے تمام  46 پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار اسد شفیق 8092 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل 5072 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

پرامن پولنگ

قبل ازیں انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل صبح آٹھ بجے شروع ہوا اور بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہا۔  پولنگ کا عمل پرامن رہا اور امن و امان یا تشدد کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
ووٹر پولنگ کا وقت شروع ہونے سے قبل ہی پولنگ سٹیشنز پر پہنچ چکے تھے اور کافی جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔

24 نشستوں پر 396 امیدواروں میں مقابلہ

انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی تفصیل کے مطابق تمام اضلاع میں ایک ہزار تین سو 91 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے تھے جن میں سے تین سو 49 کو حساس جبکہ پانچ سو 51 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔
قانون ساز اسمبلی کی 24 نشستوں پر مجموعی طور پر 396 امیدواروں میں مقابلہ رہا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے 23 امیدوار میدان میں تھے جبکہ مسلم لیگ ن کے 22، استحکام پاکستان پارٹی کے 15، پاکستان مسلم لیگ کے 11 اور جعیت علمائے اسلام کے نو امیدوار الکشن لڑ رہے  تھے۔
اسی طرح ایم ڈبلیو ایم، جماعت اسلامی، ایم کیو ایم بھی بالترتیب سات اور چھ چھ امیدواروں کے ساتھ میدان میں تھے جبکہ مختلف حلقہ جات سے دو سو 66 آزاد امیدوار بھی قسمت آزمائی کر رہے تھے۔

شیئر: