Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان نے کابل فضائی حملے پر ایمنسٹی کے الزامات رد کر دیے، ’حملہ اپنے دفاع میں تھا‘

پاکستان نے بین الاقوامی حقوقِ انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں افغان دارالحکومت کابل کے ایک منشیات بحالی مرکز پر رواں برس مارچ میں کیے گئے فضائی حملے کو ’جنگی جرم‘ قرار دیتے ہوئے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے ایمنسٹی کے الزامات کو بے بنیاد اور غیر مصدقہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان دعوؤں کو مکمل طور پر رد کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ انتہائی افسوس ناک ہے کہ اتنے سنگین الزامات بغیر کسی معتبر ثبوت کے عائد کیے گئے۔‘
ایمنسٹی کی رپورٹ میں کیا ہے؟
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بدھ کو جاری کردہ اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ 16 مارچ کو کابل کے ’امید‘ ڈرگ ری ہیبلیٹیشن سینٹر پر ہونے والے حملے کے حوالے سے پاکستان کے ان دعوؤں کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ یہ عمارت فوجی مقاصد یا اسلحہ و بارود کے ذخیرے کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔
حقوقِ انسانی کی تنظیم کے مطابق انہوں نے 60 سے زائد تصاویر اور ویڈیوز، جن میں پاکستانی فوج کی جاری کردہ فوٹیج بھی شامل ہے، کا تجزیہ کیا۔
اس کے علاوہ 30 سے زائد سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لیا گیا اور عینی شاہدین کے انٹرویوز کیے گئے۔ ایمنسٹی نے بتایا کہ انہوں نے 9 جولائی کو پاکستان کے وزارتِ خارجہ سے رابطہ کر کے تحقیقات کی پیشرفت اور حملے کا جواز فراہم کرنے والے شواہد مانگے تھے تاہم رپورٹ کی اشاعت تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
افغان حکام کے مطابق اس حملے میں قریباً 400 عام شہری ہلاک ہوئے جبکہ اقوامِ متحدہ کے مشن (یوناما) نے مئی میں کم از کم 269 شہریوں کی ہلاکت اور 122 کے زخمی ہونے کی آزادانہ تصدیق کی تھی۔ پاکستانی حکام ان اعداد و شمار کو غلط قرار دیتے ہوئے موقف اپنائے ہوئے ہیں کہ کارروائی صرف جائز اور معتبر عسکری ٹھکانوں پر کی گئی تھی۔
’اپنے دفاع کا قانونی حق‘
ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرا بی نے صحافیوں کو بتایا کہ افغانستان کی طالبان حکومت کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بی ایل اے جیسے عسکریت پسند گروہوں کو پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا ’پاکستان کی جانب سے کی جانے والی تمام عسکری کارروائیاں ضرورت کے اصولوں کے تحت، بطورِ آخری حربہ اور اپنے دفاع کے قانونی حق کا استعمال کرتے ہوئے کی گئیں۔ ان کا نشانہ صرف اور صرف دہشت گرد اور افغانستان میں موجود ان کے لاجسٹک مراکز تھے۔‘
پاکستان کا موقف ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں میں ہزاروں پاکستانی شہری اور سکیورٹی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
یہ فضائی حملہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان گزشتہ چند ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی کا نتیجہ تھا۔ پاکستان کا مسلسل یہ الزام رہا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے اندر خونریز کارروائیاں کر رہی ہے، تاہم کابل حکومت ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہے۔
پاکستانی ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغان طالبان کو اس بات کا پابند بنائے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اپنے عوام کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

 

شیئر: