پاکستان کی وفاقی حکومت نے پہلی ’قومی امیگریشن اور ویلفیئر پالیسی 2026‘ کا باضابطہ اجرا کر دیا ہے۔
پالیسی کا مقصد بیرونِ ملک مقیم 1 کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ پاکستانیوں کے حقوق کا تحفط، 41 ارب 58 کروڑ ڈالر کے سالانہ زرِمبادلہ کا فروغ اور عالمی منڈی کے تقاضوں کے تحت باصلاحیت انسانی وسائل کی بین الاقوامی سطح پر فراہمی ہے۔
اردو نیوز سے اس حوالے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین کا کہنا تھا کہ ’ہمارا ہدف صرف زیادہ تعداد میں لوگوں کو بیرونِ ملک بھیجنا نہیں بلکہ ان کے لیے معیاری روزگار کا بندوبست بھی کرنا ہے۔‘
مزید پڑھیں
انہوں نے کہا کہ ’اس پالیسی پر گزشتہ نو سال سے کام جاری تھا، جسے ہم نے آخری دو برسوں میں حتمی شکل دے کر آج پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر نافذ کر دیا ہے۔ اس پالیسی میں ایسی جامع اصلاحات شامل کی گئی ہیں جو ماضی میں کبھی نہیں کی گئیں۔‘
قومی امیگریشن و ویلفیئر پالیسی کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
عالمی لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی کے تحت خلیجی ممالک کے ساتھ ساتھ یورپی یونین، جاپان، کوریا، امریکہ اور آسٹریلیا کو خصوصی طور پر ٹارگٹ کیا گیا ہے، جہاں ’ٹیلنٹ پارٹنرشپس‘ اور ’مائیگریشن اینڈ موبلٹی ڈائیلاگ‘ کے ذریعے پاکستانی ورک فورس کے لیے باقاعدہ اور قانونی روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔
عالمی معیار کی ہنرمند افرادی قوت کی تیاری کے لیے نیوٹیک کے تحت بین الاقوامی سرٹفیکیشن اور ملک بھر میں ’سینٹرز آف ایکسی لینس‘ قائم کیے جائیں گے، جن میں خواتین، معذور افراد اور سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان و آزاد کشمیر جیسے پس ماندہ علاقوں کے شہریوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا۔
نئی پالیسی کے تحت قانون کے دائرے میں رقم کی منتقلی اور حوالہ اور ہنڈی کے خاتمے کے لیے تارکینِ وطن کو خصوصی مراعات سمیت سوہنی دھرتی ریمیٹنس پروگرام، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اور نیا پاکستان سرٹفیکیٹ میں اضافی مالیاتی انسینٹیوز دیے جائیں گے۔

اوورسیز پاکستانیوں کے قانونی تحفظ کے لیے خصوصی عدالتیں، ای او بی آئی کے تحت پینشن سکیم، تعلیمی واؤچرز اور خلیجی ممالک میں مقیم ورکرز کے لیے مقامی لا فرمز کے ذریعے مفت قانونی امداد کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے گا۔
تارکینِ وطن کی وطن واپسی پر ڈیجیٹلائزیشن
پالیسی کے اگلے مرحلے میں بیرونِ ملک سے لوٹنے والے ورکرز کی باوقار اور پائیدار بحالی پر توجہ دی گئی ہے، جس کے تحت واپس آنے والوں کا مرکزی ڈیٹا بیس بنا کر ان کے تجربے اور اسناد کو ملک کے اندر تسلیم کرنے کے لیے ’ایکویولنسی فریم ورک‘ تشکیل دیا جائے گا۔
اوورسیز کے لیے کال سنٹرز اور آن لائن ایپلیکیشن
مزید برآں، شفافیت اور تیز رفتار خدمات کے لیے پاک ٹاک ایپ، ’پاک ایمیگرنٹ مینجمنٹ فریم ورک‘ اور ای-انفارمڈ سسٹمز کے ذریعے امیگریشن کے پورے عمل کو خودکار بنایا جائے گا، جبکہ سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر جیسے کم نمائندگی والے علاقوں میں دفاتر کھولے جائیں گے۔
نئی پالیسی میں بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے پر 1، 2 اور 3 سالہ اہداف کے تحت تیز رفتار عملدرآمد کے لیے وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی ٹاسک فورس قائم کر دی گئی ہے
پالیسی کے تحت ادارہ جاتی اصلاحات متعارف کرواتے ہوئے عالمی مارکیٹ کی ریسرچ کے لیے باقاعدہ ’لیبر مارکیٹ ریسرچ سیل‘ کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ بیرونِ ملک سفارت خانوں میں کمیونٹی ویلفیئر اتاشیوں کے دائرہ کار میں توسیع اور اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے لائسنسنگ نظام کو جدید بنایا جا رہا ہے۔
تارکینِ وطن کی شکایات کے ازالے اور ہنگامی مدد کے لیے ایک بین الاقوامی ’کال سینٹر‘ قائم کیا جا رہا ہے، جبکہ قدرتی آفات، وبائی امراض یا ہنگامی حالات میں ورکرز کی بحفاظت واپسی کے لیے خصوصی میکانزم تشکیل دیا گیا ہے۔
قومی امیگریشن پالیسی کے تحت غیر قانونی امیگریشن، گداگری اور منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے اداروں کے درمیان رابطے قائم کرنے اور روانگی سے قبل تربیتی پروگرام لازمی قرار دیے گئے ہیں۔
علاوہ ازیں، نمایاں خدمات انجام دینے والے اوورسیز پاکستانیوں کو سول ایوارڈز، سرکاری بورڈز و مشاورتی کمیٹیوں میں نمائندگی، اور ان کے تعاون سے سیاحت کے فروغ کے لیے سپیشل گروپ ٹوورز کی منصوبہ بندی بھی پالیسی کا حصہ ہے۔













