Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان کی سڑکوں پر الیکٹرک انقلاب، سال کے آخر تک 23 نئی گاڑیاں متوقع

بی وائی ڈی اور مرسڈیز کا مشترکہ برانڈ ڈینزا اپنے دو پلگ ان ہائبرڈ ماڈلز ڈینزا بی فائیو اور ڈینزا بی ایٹ مارکیٹ میں اتارے گا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری میں ہر سال ہی مختلف کمپنیوں کی جانب سے نئی گاڑیاں متعارف کرائی جاتی ہیں، جن پر خریداروں اور مارکیٹ کی نظریں ہوتی ہیں۔ تاہم سال 2026ء کے باقی ماندہ مہینوں میں متوقع لانچنگز روایتی رجحان سے کافی مختلف دکھائی دیتی ہیں۔
عام طور پر جب کوئی نئی گاڑی مارکیٹ میں آتی ہے، تو صارفین کی توجہ زیادہ تر توجہ گاڑی کی قیمت، ڈیزائن، بناوٹ یا ظاہری خوبصورتی پر ہوتی ہے۔ لیکن اس بار کمپنیوں کی توجہ ظاہری تبدیلیوں کے بجائے گاڑیوں کے انجن اور فیول ٹیکنالوجی کو بدلنے پر ہے۔
حالیہ انڈسٹری رپورٹس کے مطابق، سال 2026ء کے آخری چھ مہینوں (جون سے دسمبر) کے دوران پاکستان میں تقریباً 23 نئی گاڑیاں متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔
اس ڈیٹا کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ان 23 گاڑیوں میں سے صرف 3 ماڈلز روایتی پٹرول انجن پر مبنی ہیں، جبکہ باقی تمام 20 گاڑیاں الیکٹرک اور مختلف اقسام کی ہائبرڈ ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔
اس رپورٹ میں ہم ان گاڑیوں کے نام، ماڈلز، متوقع قیمتوں پائیداری اور ملکی آٹو مارکیٹ پر ان کے ممکنہ اثرات پر نظر ڈالیں گے۔

کونسی گاڑی کس ماہ میں۔۔

اگر آٹو کمپنیوں کی منصوبہ بندی کے مطابق چیزیں آگے بڑھتی ہیں، تو سال کا دوسرا حصہ خریداروں کے لیے انتخاب کے حوالے سے کافی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
ابتدائی مرحلہ یعنی  جون کا ذکر کریں تو اس میں جون کا مہینہ مارکیٹ کے لحاظ سے سب سے مصروف رہنے کا امکان ہے جہاں سات نئی گاڑیاں متعارف کرائی جا سکتی ہیں۔
ان میں چنگان کی جانب سے پٹرول انجن پر مبنی یونی ایس لانے کا منصوبہ ہے، جبکہ گریٹ وال موٹرز اپنا پلگ ان ہائبرڈ پک اپ ٹرک جی ڈبلیو ایم کینن الفا مارکیٹ میں اتارنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

Caption

اسی مہینے پریمیم الیکٹرک سیگمنٹ میں ایم جی کی دو گاڑیاں آئی ایم فائیواورآئی ایم 6 متوقع ہیں، جبکہ جیٹور اپنے دو پٹرول ماڈلز ٹی ون اور ٹی ٹو اور اوموڈا اپنی پلگ ان ہائبرڈ گاڑی او موڈا سی سیون پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
سال کے وسط یعنی جولائی کے مہینے میں چار گاڑیوں کی لانچنگ طے کی گئی ہے، جس میں جیکو کی پلگ ان ہائبرڈ ایس یو وی جیکو جے ایٹ اور دیپال کی رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑی دیپال جی تھری ایٹین شامل ہیں۔
اس کے ساتھ ہی نیوو برانڈ کے تحت دو ماڈلز نیوو کیو زیرو فائیو اور الیکٹرک سیڈان نیوو اے زیرو 6 متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔
انڈسٹری رپورٹ کے مطابق اگست کے مہینے میں یہ رفتار کچھ مدہم ہوگی جہاں تین گاڑیاں لسٹ میں شامل ہیں۔ ان میں اورا برانڈ کی الیکٹرک کار اورا او فائیو،دیپال کا رینج ایکسٹینڈڈ پک اپ ٹرک دیپال ہنٹر کے ففٹی اور ایواٹر کی پریمیم الیکٹرک کار ایواٹر الیون مارکیٹ کا حصہ بن سکتی ہیں۔

ستمبر اور اکتوبر کی چھوٹی گاڑیاں

اسی طرح ستمبر میں دو گاڑیوں کی لانچنگ کا امکان ہے جن میں چیری کی چھوٹی الیکٹرک کار چیری کیو کیو تھری اور دیپال کی فیملی ایس یو وی دیپال ایس زیرو نائنشامل ہیں۔
جبکہ اکتوبر کے مہینے میں صرف ایک گاڑی ہی متوقع  ہے، جہاں چنگان اپنی چھوٹی اور اسمارٹ الیکٹرک کار چنگان لومین کو مارکیٹ میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ستمبر اور اکتوبر کا یہ مرحلہ مڈل کلاس خریداروں کے لیے زیادہ اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

بی وائی ڈی کی اپنی مقبول پلگ ان ہائبرڈ ایس یو وی سی لائن 6  کی لانچنگ بھی متوقع ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

سال کا اختتام انڈسٹری کے لیے ایک بار پھر بڑی ہلچل لے کر آئے گا جہاں دسمبر میں چھ نئی گاڑیاں پیش کیے جانے کا منصوبہ ہے۔ اس آخری مرحلے میں بی وائی ڈی اور مرسڈیز کا مشترکہ برانڈ ڈینزا اپنے دو پلگ ان ہائبرڈ ماڈلز ڈینزا بی فائیو اور ڈینزا بی ایٹ مارکیٹ میں اتارے گا۔
اسی دوران بی وائی ڈی کی اپنی مقبول پلگ ان ہائبرڈ ایس یو وی سی لائن 6  بھی متوقع ہے۔ دسمبر کی باقی تین گاڑیوں میں نیوو کی پلگ ان ہائبرڈ نیوو کیو زیرو سیون، ایواٹر کی الیکٹرک گاڑی ایواٹر زیرو سیون اور آئیون کی الیکٹرک سیڈان آئیون ای ایس شامل ہیں جو سال 2026ء کی اس پوری لانچنگ ٹائم لائن کو مکمل کریں گی۔
ہم نے ان گاڑیوں کی ممکنہ قیمتوں اور اس پورے رجحان پر آٹو سیکٹر کے ماہرین سے بھی گفتگو کی ہے۔
ماہرین کے مطابق، قیمتوں کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ کون سی گاڑی مکمل تیار شدہ حالت (سی بی یو) میں امپورٹ ہو رہی ہے اور کس کی مقامی اسمبلنگ (سی کے ڈی) پاکستان میں کی جا رہی ہے۔
 ستمبر اور اکتوبر میں متوقع چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں، جیسے چنگان لومین اور چیری کیو کیو تھری کی قیمتیں مارکیٹ اندازوں کے مطابق 35 سے 48 لاکھ روپے کے درمیان رہ سکتی ہیں۔
ان کا مقصد ان خریداروں کو متبادل دینا ہے جو شہر کے اندر روزمرہ استعمال کے لیے پٹرول کا خرچہ کم کرنا چاہتے ہیں۔
اسی طرح مڈ رینج فیملی ایس یو وی اور کراس اوورز کے لیے  بی وائی ڈی سی لائن6، چنگان یونی ایس اور دیپال کے ماڈلز کی قیمتیں 75 لاکھ سے لے کر 1.3 کروڑ روپے تک متوقع ہیں۔

چنگان کی جانب سے پٹرول انجن پر مبنی یونی ایس لانے کا منصوبہ ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

پریمیم اور لگژری کیٹیگری کٹیگری میں ہائی اینڈ الیکٹرک اور ہائبرڈ ماڈلز، جیسےجی ایم ڈبلیو  کینن الفا، ایواٹر اور ڈینزا برانڈز کی قیمتیں 1.4 کروڑ سے شروع ہو کر 2.2 کروڑ روپے تک جا سکتی ہیں، جن کا ہدف صرف پریمیم خریدار ہیں۔
آٹو سیکٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کاغذ پر یہ 23 لانچنگز جتنی اہم دکھائی دیتی ہیں، زمین پر ان کی کامیابی کا دارومدار چند اہم عوامل پر ہوگا۔
اسلام آباد میں گاڑیوں کا کاروبار کرنے والے ماہر تاجر عثمان خان کے مطابق  پاکستانی صارف الیکٹرک گاڑی کی طرف صرف ماحول دوستی کے لیے نہیں، بلکہ بنیادی طور پر پٹرول کے اخراجات سے بچنے کے لیے دیکھ رہا ہے۔
’اگر ملک میں بجلی کے نرخ اسی طرح مسلسل بڑھتے رہے، تو الیکٹرک گاڑی چلانے کا معاشی فائدہ کم ہو جائے گا، جس سے صارفین کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔‘
اُن کا کہنا ہے کہ جب تک بڑے شہروں کو ملانے والی موٹر ویز اور ہائی ویز پر تیز رفتار ڈی سی فاسٹ چارجرز کا نیٹ ورک قائم نہیں ہوتا، خریدار ان گاڑیوں کو طویل سفر کے لیے خریدنے سے کترائیں گے۔

شیئر: