Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان کے چھوٹے شہروں اور بلوچستان کے لیے نئی ایئرلائن ’ساؤتھ ایئر‘ کیوں اہم سمجھی جا رہی ہے؟

پاکستان میں فضائی سفر کا نظام طویل عرصے سے چند بڑے شہروں کے گرد گھومتا رہا ہے، جہاں کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے مراکز کو زیادہ اہمیت حاصل رہی۔ 
تاہم ملک کے کئی دُوردراز اور نسبتاً کم آبادی والے علاقوں، خصوصاً بلوچستان، اندرون سندھ اور بعض دیگر خطوں میں فضائی رابطے محدود رہے ہیں۔ 
ایسے میں نئی علاقائی ایئرلائن ساؤتھ ایئر کی متوقع آمد کو ایوی ایشن کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ساؤتھ ایئر کا دعویٰ ہے کہ اس کا بنیادی مقصد پاکستان کے ان شہروں اور علاقوں کو آپس میں جوڑنا ہے جہاں فضائی سہولیات یا تو محدود ہیں یا پھر مسافروں کی ضرورت کے مطابق دستیاب نہیں۔ 
کمپنی کے مطابق وہ محفوظ قابل اعتماد اور نسبتاً آسان فضائی سفر کے ذریعے علاقائی رابطوں کو بہتر بنانا چاہتی ہے۔
حال ہی میں ایئرلائن کے پہلے طیارے کی کراچی ایئرپورٹ آمد کو اس منصوبے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔ طیارے کو کراچی پہنچنے پر روایتی واٹر سلیوٹ بھی دیا گیا، جو عموماً کسی نئی ایئرلائن یا اہم فضائی سنگِ میل کے موقعے پر دیا جاتا ہے۔
ساؤتھ ایئر کیا ہے؟
ساؤتھ ایئر ایک نئی پاکستانی علاقائی ایئرلائن ہے جو اپنی کمرشل فلائٹس کے آغاز کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ کمپنی کی جانب سے اردو نیوز کو بتایا گیا کہ اس کی توجہ بڑے شہروں کے بجائے ایسے رُوٹس پر ہو گی جہاں فضائی رابطوں کی ضرورت تو موجود ہے مگر سہولیات محدود ہیں۔
ایئرلائن نے گوادر، تُربت، سکھر، ڈیرہ اسماعیل خان اور چترال جیسے شہروں کو بڑے شہروں سے جوڑنے کے منصوبے کا عندیہ دیا ہے۔ 
ان شہروں کا انتخاب محض اتفاق نہیں بلکہ اس کے پیچھے جغرافیائی اور سفر کی طلب میں زیادہ گنجائش سمیت دیگر وجوہات شامل ہیں۔
بلوچستان پر خصوصی توجہ کیوں؟
پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان رقبے کے اعتبار سے ملک کے قریباً 44 فیصد حصے پر مشتمل ہے، مگر آبادی کے لحاظ سے بلوچستان کے اعدادوشمار کم ہیں۔

ساؤتھ ایئر کی کراچی سے سکھر جانے والی آزمائشی پرواز کو اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے (فائل فوٹو: ساؤتھ ایئر)

یہی وجہ ہے کہ ایک شہر سے دوسرے شہر تک سفر طویل اور بعض اوقات دُشوار ہو جاتا ہے اور بلوچستان میں امن و امان کی موجودہ صورت حال میں فضائی سفر کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
کوئٹہ سے گوادر یا تُربت تک زمینی سفر کئی گھنٹوں پر محیط ہو سکتا ہے۔ بعض علاقوں میں سفر کا انحصار سڑکوں کی حالت اور موسمی صورت حال پر بھی ہوتا ہے اور امن و امان کے مسائل بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ 
ایسی صورت میں فضائی رابطے وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ سفری سہولت میں بھی نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر کراچی، گوادر، تُربت اور کوئٹہ کے مابین باقاعدہ پروازیں دستیاب ہو جائیں تو اس سے صوبے کے مختلف حصوں کے درمیان رابطے بہتر ہو سکتے ہیں۔ 
اس کا فائدہ صرف مسافروں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ کاروبار، تعلیم، صحت اور سرکاری اُمور بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
گوادر کے لیے کیا اہمیت ہے؟
بلوچستان کا ساحلی شہر گوادر گذشتہ ایک دہائی سے قومی اور بین الاقوامی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ بندرگاہ، تجارتی امکانات اور مختلف ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے اسے پاکستان کے اہم معاشی مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ’گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کامیاب آپریشنز ایئرلائن کی تیاریوں کا حصہ ہے‘ (فائل فوٹو: اے پی)

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی شہر کی معاشی ترقی صرف بنیادی ڈھانچے سے ممکن نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مؤثر نقل و حمل اور رابطوں کا نظام بھی ضروری ہوتا ہے۔
اسی تناظر میں ساؤتھ ایئر کی ممکنہ پروازوں کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اگر گوادر کو کراچی اور دیگر بڑے شہروں کے ساتھ باقاعدہ فضائی رابطہ حاصل ہو جاتا ہے تو تاجروں، سرمایہ کاروں اور سیاحوں کی آمدورفت میں آسانی پیدا ہو سکتی ہے۔
تُربت اور کوئٹہ کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟
تُربت بلوچستان کے اہم شہری مراکز میں شمار ہوتا ہے جہاں تعلیمی، تجارتی اور انتظامی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں، لیکن ملک کے دیگر بڑے شہروں تک رسائی کے لیے مسافروں کو طویل زمینی سفر کرنا پڑتا ہے۔
اگر تُربت سے کراچی یا کوئٹہ کے لیے مستقل فضائی سروس دستیاب ہوتی ہے تو طلبہ، کاروباری افراد اور عام شہریوں کو نمایاں سہولت حاصل ہو سکتی ہے۔
اسی طرح کوئٹہ، جو صوبائی دارالحکومت ہے، بلوچستان کا انتظامی اور سیاسی مرکز بھی ہے۔ بہتر فضائی رابطے نہ صرف سرکاری معاملات میں آسانی پیدا کر سکتے ہیں بلکہ صوبے کے مختلف علاقوں کو قومی معاشی دھارے کے قریب لا سکتے ہیں۔

اگر پاکستان میں علاقائی ایئرلائنز کامیاب ہوتی ہیں تو اس سے فضائی سفر کے مواقع بڑھ سکتے ہیں (فائل فوٹو: آئی سٹاک)

علاقائی ایئرلائنز کیوں اہم سمجھی جاتی ہیں؟
ایوی ایشن امور کے ماہر سینیئر صحافی راجا کامران نے اردو نیوز کو بتایا کہ دنیا کے کئی ممالک میں علاقائی ایئرلائنز بڑے شہروں اور نسبتاً چھوٹے مراکز کے درمیان رابطہ قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ 
یہ ایئرلائنز عام طور پر ایسے طیارے استعمال کرتی ہیں جو کم مسافروں کے ساتھ مختصر فاصلہ طے کرنے کے لیے موزوں ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ساؤتھ ایئر کے زیراستعمال بھی  اے ٹی آر طیارہ اسی نوعیت کا ہے۔ یہ نسبتاً کم لاگت پر آپریٹ کیا جا سکتا ہے اور چھوٹے ہوائی اڈوں کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔
ایوی ایشن کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان میں علاقائی ایئرلائنز کامیابی سے کام کرتی ہیں تو اس سے نہ صرف فضائی سفر کے مواقع بڑھ سکتے ہیں بلکہ کئی ایسے شہروں کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے جو اس وقت محدود فضائی سہولیات کے باعث ترقی کے بعض مواقعوں سے محروم ہیں۔
آزمائشی پروازوں کا سلسلہ

ماہرین کے مطابق ’ساؤتھ ایئر کے زیراستعمال اے ٹی آر طیارے چھوٹے ہوائی اڈوں کے لیے موزوں ہیں‘ (فائل فوٹو: ساؤتھ ایئر)

اسی طرح گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کامیاب آپریشنز کو بھی ایئرلائن کی تیاریوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ ان پروازوں کا مقصد تکنیکی اور آپریشنل صلاحیتوں کا جائزہ لینا اور باقاعدہ کمرشل پروازوں کے لیے تیاری مکمل کرنا ہے۔
کیا چیلنجز بھی موجود ہیں؟
اگرچہ ساؤتھ ایئر کے منصوبوں کو مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم پاکستان میں علاقائی ایئرلائنز کو مختلف چیلنجز کا بھی سامنا رہا ہے۔ 
ان میں ایندھن کی قیمتیں، آپریشنل اخراجات، مسافروں کی محدود تعداد اور بعض رُوٹس کی تجارتی پائیداری جیسے چیلنجز شامل ہیں۔
ماضی میں کئی علاقائی فضائی منصوبے انہی وجوہات کی بنا پر زیادہ عرصے تک جاری نہیں رہ سکے۔ اسی لیے بعض مبصرین کا خیال ہے کہ ساؤتھ ایئر کی کامیابی کا انحصار صرف نئے رُوٹس شروع کرنے پر نہیں بلکہ مستقل اور قابل اعتماد سروس برقرار رکھنے پر بھی ہو گا۔
ساؤتھ ایئر خود کو ایک ایسی ایئرلائن کے طور پر پیش کر رہی ہے جو پاکستان کے کم توجہ پانے والے علاقوں کو فضائی رابطوں کے ذریعے قومی دھارے سے جوڑنا چاہتی ہے۔ 
خاص طور پر بلوچستان کے لیے اس منصوبے کو اس لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ صوبے کے مختلف شہروں کے درمیان فاصلے طویل ہیں اور متبادل سفری ذرائع ہمیشہ آسان نہیں ہوتے۔
اگر ایئرلائن اپنے اعلان کردہ منصوبوں کے مطابق کراچی، گوادر، تُربت اور کوئٹہ کے مابین مستقل پروازیں شروع کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف مسافروں کے لیے سہولت کا باعث بن سکتی ہے بلکہ تجارت، سیاحت اور علاقائی ترقی کے نئے امکانات بھی پیدا کر سکتی ہے۔

شیئر: