وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ’پاکستان کے وزیراعظم نے پاک فوج کے چیف آف جنرل سٹاف، لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا، ہلالِ امتیاز (ملٹری)، ستارہ بسالت کو ’فور سٹار جنرل‘ کے عہدے پر ترقی دینے اور انہیں ’کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ‘ مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔‘
نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کے کمانڈر کا یہ نیا عہدہ گزشتہ برس منظور کی جانے والی 27 ویں آئینی ترمیم کے تحت تخلیق کیا گیا تھا جس کے ذریعے ملک کی عسکری قیادت کی اعلیٰ ترین سطح پر بڑی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔
ان آئینی اصلاحات کے تحت جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ ختم کر دیا گیا جبکہ چیف آف آرمی سٹاف کو ’چیف آف ڈیفنس فورسز‘ کا نام دے کر تمام مسلح افواج کی مجموعی کمان ان کے سپرد کر دی گئی۔
اسی قانون سازی کے تحت نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کے سربراہ کا نیا عہدہ بھی وجود میں آیا۔
ترمیم کے ذریعے فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کے اعلیٰ ترین عسکری عہدوں کو بھی قانونی اور آئینی تسلیم دیا گیا جس کے تحت ان عہدوں پر ترقی پانے والے افسران تاحیات ان رینکس پر برقرار رہیں گے۔
یہ تبدیلیاں گزشتہ چند دہائیوں میں پاکستان کے عسکری کمانڈ سٹرکچر میں کی جانے والی سب سے بڑی اصلاحات میں شمار کی جا رہی ہیں۔
تاہم اپوزیشن سیاسی جماعتوں کی جانب سے ان اصلاحات پر شدید تنقید بھی کی گئی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ اس سے تمام عسکری اختیارات چند ہاتھوں میں مبذول ہو کر رہ جائیں گے۔
جنرل عامر رضا اس ترقی اور نئی تعنیاتی سے قبل فوج کے چیف آف جنرل سٹاف کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
نئے کمانڈر کون ہیں؟
جنرل عامر رضا اس ترقی اور نئی تعنیاتی سے قبل فوج کے چیف آف جنرل سٹاف کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
اس سے قبل وہ کور کمانڈر لاہور اور ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا دفاعی کمپلیکس کے سربراہ کے طور پر بھی فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔
آئین کے تحت نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کے کمانڈر کی تعنیاتی چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر وزیراعظم کی جانب سے پاک فوج کے حاضر سروس جنرلز میں سے کی جائے گی اور اس عہدے کی مدت تین سال ہو گی۔
پاکستان دنیا کی ان نو ریاستوں میں شامل ہے جو ایٹمی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ملک کی ایٹمی پالیسی کا تعین ’نیشنل کمانڈ اتھارٹی‘ کرتی ہے جو سٹریٹجک فیصلے کرنے والا اعلیٰ ترین شہری و عسکری ادارہ ہے جبکہ نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا قیام آئینی اصلاحات کے تحت ملک کی سٹریٹجک افواج کی عسکری نگرانی کے نظام کو ازسرِ نو منظم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔