Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’بڑے سکینڈل کا خدشہ‘: پاکستان میں لیتھیم بیٹریز کی بڑھتی مانگ اور کوالٹی پر سوالات

پاکستان میں سولر پینلز کے ساتھ بھی لیتھیم بیٹری کا استعمال بڑھ گیا ہے (ٖفوٹو: ٹیکنیکل چینل)
پاکستان میں موسمِ گرما کے دوران جہاں لیتھیم بیٹریوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے تو وہیں دوسری جانب مارکیٹ میں ان بیٹریوں کے معیار اور  کوالٹی کنٹرول کے حوالے سے مختلف سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
صارفین اور کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ لیتھیم بیٹریوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کے دوران مارکیٹ میں ناقص مٹیریل پر مبنی پرزے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں، جبکہ مقامی سطح پر اسمبل کی جانے والی بیٹریوں کو درآمد شدہ (امپورٹڈ) برانڈز کے نام پر فروخت کیا جا رہا ہے۔
کیا واقعی پاکستان میں لیتھیم بیٹریوں کے نام پر کوئی ’ہیرا پھیری‘ ہو رہی ہے، یہ بیٹریاں کیسے تیار ہوتی ہیں اور ان کے فوائد و نقصانات کیا ہیں؟
قائمہ کمیٹی میں تشویش اور ’بڑے سکینڈل‘ کا خدشہ
جہاں عام مارکیٹ میں لیتھیم بیٹریوں کے حوالے سے چہ مگوئیاں جاری تھیں تو وہیں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
سینیٹر طلحہ محمود کا کہنا تھا کہ پاکستان میں لیتھیم بیٹریوں کا ایک بڑا سکینڈل مستقبل میں سامنے آ سکتا ہے کیونکہ لیتھیم بیٹریوں کو فروغ دینے کے لیے روایتی ٹیوبرلر بیٹریوں کو جان بوجھ کر پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
انہوں نے یہ انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ان بیٹریوں میں استعمال شدہ کاربن دوبارہ استعمال ہو رہا ہے جبکہ ان کے اصل ’سیلز‘ پاکستان میں تیار ہی نہیں ہوتے۔ 
ان کا کہنا تھا کہ باہر سے سیلز منگوا کر یہاں صرف ان کی کیسنگ (ڈبہ بندی) کی جاتی ہے اور انہیں ’امپورٹڈ بیٹریوں‘ کا نام دے کر بیچا جا رہا ہے اور ناقص مٹیریل کی وجہ سے ان بیٹریوں میں آگ لگنے کے واقعات بھی رونما ہو رہے ہیں۔
لیتھیم بیٹریاں کیا ہیں اور یہ روایتی بیٹریوں سے کیسے مختلف ہیں؟
تکنیکی لحاظ سے لیتھیم بیٹری سے مراد ایسی جدید ترین ری چارج ایبل بیٹریاں ہیں جن میں بجلی کو ذخیرہ اور خارج کرنے کے لیے لیتھیم آئنز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ بیٹریاں کارکردگی، عمر اور بناوٹ کے لحاظ سے روایتی تیزاب والی یا ٹیوبرلر بیٹریوں سے بالکل مختلف ہیں۔
ان بیٹریوں کی بڑی خصوصیت اس کی طویل عمر ہے جو 10 سے 15 سال تک برقرار رہتی ہے جبکہ روایتی بیٹریاں بمشکل ایک سے تین سال ہی چل پاتی ہیں۔
اسی طرح جہاں روایتی بیٹریوں کو مکمل چارج ہونے کے لیے 8 سے 10 گھنٹے کا طویل وقت درکار ہوتا ہے، وہیں لیتھیم بیٹریاں محض 1 سے 2 گھنٹے میں چارج ہو جاتی ہیں۔

کچھ کمپنیاں چین سے لیتھیم سیلز اور بیٹری مینجمنٹ سسٹم امپورٹ کرتی ہیں (فوٹو: ٹیکنیکل چینل)

 یہ بیٹریاں ایک خودکار ’بیٹری مینجمنٹ سسٹم‘ سے لیس اور مکمل طور پر سیلڈ ہوتی ہیں۔ اسی لیے ان میں پانی ڈالنے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی یہ کوئی زہریلی گیس خارج کرتی ہیں جبکہ روایتی بیٹریوں میں باقاعدگی سے پانی چیک کرنا پڑتا ہے اور وہ وزن میں بھی بہت بھاری ہوتی ہیں۔
تاہم ان تمام خصوصیات کے بدلے صارفین کو خریدتے وقت روایتی بیٹریوں کے مقابلے میں تین سے چار گنا زیادہ قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔
پاکستان میں اسمبلنگ کا رجحان اور خام مال کا سفر
واضح رہے کہ پاکستان میں لیتھیم بیٹریاں بنیادی سطح (سکریچ) سے مینوفیکچر نہیں ہوتیں بلکہ زیادہ تر درآمد کی جاتی ہیں۔ تاہم اب مقامی سطح پر ان کی ’اسمبلنگ‘ کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
ان بیٹریوں اور ان کے خام مال کا 90 فیصد سے زائد حصہ چین سے آتا ہے۔ پاکستان میں چند مقامی کمپنیوں اور الیکٹرک وہیکل مینوفیکچررز نے اپنے اسمبلنگ پلانٹس قائم کر رکھے ہیں۔ یہ کمپنیاں چین سے لیتھیم سیلز اور بیٹری مینجمنٹ سسٹم امپورٹ کرتی ہیں اور انہیں یہاں مقامی ضرورت، جیسے کہ الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور سولر انورٹرز کے مطابق جوڑ کر ’بیٹری پیک‘ تیار کرتی ہیں۔
اصل مسئلہ اسی دوران پیش آتا ہے جب باقاعدہ قانونی راستوں کے بجائے غیر قانونی ذرائع سے ناقص مٹیریل منگوا لیتے ہیں اور ان کی گلی محلوں میں پیکنگ کر کے انہیں برانڈڈ کہہ کر مارکیٹ میں فروخت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
چین میں سولر اور بیٹریوں کے کاروبار سے منسلک اور پاکستانی مارکیٹ پر گہری نظر رکھنے والے ماہر، محمد عقیل اشرف نے اس صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’2024 یا اس سے پہلے پاکستان میں تقریباً تمام سولر بیٹریاں تیار شدہ حالت میں باہر سے ہی آتی تھیں۔ لیکن جوں جوں ملک میں لیتھیم بیٹریوں کی ڈیمانڈ بڑھی، مقامی سطح پر لوگوں نے ناقص مال لا کر خود بیٹریاں بنانا شروع کر دیں۔‘
انہوں نے وضاحت کی کہ لیتھیم بیٹری کی اسمبلنگ میں بہت زیادہ مہارت اور کوالٹی کنٹرول کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، ایک 5 کلوواٹ کی بیٹری میں 16 سیلز ہوتے ہیں اور اگر ان میں سے ایک سیل کے وولٹیج میں بھی اتار چڑھاؤ یا خرابی آ جائے، تو پوری بیٹری میں آگ لگ سکتی ہے۔
عقیل اشرف کے مطابق لوگوں نے گھروں اور چھوٹی دکانوں میں سیلز اور بی ایم ایس لا کر دھڑا دھڑ بیٹریاں بنانا شروع کر دیں۔ ابتدا میں جب صارفین نے دیکھا کہ امپورٹڈ بیٹری اگر دو لاکھ روپے کی ہے تو لوکل تیار شدہ ایک سے ڈیڑھ لاکھ میں مل رہی ہے تو انہوں نے اسے خریدا۔ مگر جب آگ لگنے اور کارکردگی خراب ہونے کے مسائل سامنے آئے تو لوگوں نے ایسی لوکل بیٹریاں خریدنا چھوڑ دیں۔

لیتھیم بیٹری کی اسمبلنگ میں بہت زیادہ مہارت اور کوالٹی کنٹرول کی ضرورت ہوتی ہے (فوٹو: ٹیکنیکل چینل)

’میڈ ان چائنا‘ کا لیبل اور اسمگل شدہ سیلز کا چیلنج
حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پاکستان کی چند بڑی کمپنیوں نے باقاعدہ اور پروفیشنل طریقے سے بیٹریاں بنانا شروع کیں۔ عقیل اشرف بتاتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں تقریباً چھ سے سات ایسی کمپنیاں ہیں جن میں ’نمر انڈسٹریل کیمیکلز‘ اور ’ایمپیریکس‘ بھی شامل ہیں جو قانونی طریقے سے باہر سے معیاری خام مال منگوا کر یہاں بیٹریاں تیار کر رہی ہیں۔
تاہم، مقامی سطح پر کام کرنے والی ان مستند کمپنیوں کو بھی مارکیٹنگ کے کچھ چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ جب ان کی تیار کردہ بیٹریوں کی بیرونی میٹل کیسنگ (لوہے یا اسٹیل کا کور) درآمد شدہ مصنوعات جیسی نظر نہیں آتی تھی، تو خریدار ان کے معیار پر ہچکچاہٹ کا اظہار کرتے تھے۔
عقیل اشرف کا کہنا تھا کہ ’اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کمپنیوں نے بیرونِ ملک سے تیار شدہ میٹل کیسنگز امپورٹ کرنا شروع کر دیں لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب ان امپورٹڈ کورز پر پہلے سے ہی ’اسمبلڈ ان چائنا‘ یا ’میڈ ان چائنا‘ درج تھا۔‘
’چونکہ یہ بیٹریاں مکمل طور پر چین میں تیار نہیں ہوئی تھیں، اس لیے ریگولیٹری اداروں نے اس لیبلنگ کا نوٹس لیا اور کمپنیوں کو سخت ہدایت جاری کی کہ جو مصنوعات مقامی سطح پر اسمبل کی جا رہی ہیں، ان پر صارفین کی آگاہی کے لیے حقیقت پر مبنی درست لیبل ہی لگایا جائے۔‘
اُنہوں نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے مزید بتایا کہ پاکستان می اسمبل ہونے والی بیٹریوں کا 85 سے 90 فیصد حصہ، جس میں سیلز اور بی ایم ایس شامل ہیں، اب بھی باہر سے ہی آتا ہے۔
اُنہوں نے اس پہلو کی بھی نشاندہی کی کہ چین میں بننے والے سستے، استعمال شدہ اور انتہائی کم کوالٹی کے دو نمبر سیلز افغانستان کے راستے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں۔ جب ان ناقص سیلز کو مقامی طور پر جوڑ کر لیتھیم بیٹری کی شکل دی جاتی ہے، تو وہ نہ صرف پھٹنے اور آگ لگنے کا سبب بنتی ہیں بلکہ ان کی گارنٹی کے بھی شدید مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
تاجروں کا موقف: ’نگرانی حکومت کی ذمہ داری ہے‘
دوسری جانب راولپنڈی کی مشہور کالج روڈ پر لیتھیم بیٹریوں کا کاروبار کرنے والے تاجر عمران سعید اس ٹیکنالوجی کے مستقبل کے بارے میں پرامید ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ لیتھیم بیٹریاں دورِ جدید کی ضرورت ہیں اور دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ان کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔ آنے والا وقت لیتھیم کا ہی ہے۔

لیتھیم بیٹری کے معاملے کی گونج اقتدار کے ایوانوں میں بھی سنائی دی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

مارکیٹ میں غیر معیاری بیٹریوں کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ مارکیٹ میں ’دو نمبر‘ بیٹریاں بھی موجود ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ لیتھیم بیٹریوں کا کاروبار ہی بند کر دیا جائے۔‘
اسی طرح پاکستان میں شمسی توانائی (سولر انرجی) اور بیٹریوں کے ایک اور معروف ماہر، ڈاکٹر بشارت حسن کے مطابق پاکستان چین سے اعلیٰ معیار کا سامان درآمد نہیں کر رہا۔ ’چین سے تیار ہونے والا معیاری مال دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک میں چلا جاتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں نسبتاً ناقص اور کم تر درجے کا مٹیریل آ رہا ہے۔‘
انہوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ جب ملک میں ناقص اور غیر معیاری مٹیریل درآمد کیا جائے گا تو اس کے نتائج بھی اسی طرح کے نقصانات کی شکل میں سامنے آئیں گے۔
ڈاکٹر بشارت نے زور دیا کہ اس حوالے سے متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے اور ملک میں صرف معیاری مال کی امپورٹ کو ہی یقینی بنانا چاہیے تاکہ پاکستان میں اعلیٰ معیار کی بیٹریاں آ سکیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ لیتھیم بیٹری منگوانے والی کمپنیاں اور تاجر ابتدا میں تو شہریوں کو ان بیٹریوں پر لمبی چوڑی گارنٹی دے دیتے ہیں لیکن جب یہ بیٹریاں وقت سے پہلے خراب ہو جاتی ہیں اور صارفین انہیں واپس لے کر آتے ہیں تو تاجر حیلے بہانے بنا کر ان کی واپسی یا کلیم سے صاف مکر جاتے ہیں۔
انہوں نے اس بحران کے مستقل حل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ ’پاکستان کے ریگولیٹری ادارے، بالخصوص انجینیئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ اس معاملے میں اپنا فعال کردار ادا کریں اور وہ دنیا کی نامور اور بڑی برانڈڈ کمپنیوں کو پاکستان لانے کے لیے اقدامات کرے اور یہاں بیٹریوں کی مقامی مینوفیکچرنگ (تیاری) شروع کروائے، تاکہ مستقبل میں ایسے سنگین مسائل جنم ہی نہ لے سکیں۔‘

شیئر: