Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ازکا فارمرز مارکیٹ میں سعودی موسمی سبزیوں اور پھلوں کی نمائش

مارکیٹ کا اہتمام ’حئی جمیل‘ کے کمیونٹی پروگراموں کا ایک حصہ تھا ( فوٹو: ایکس اکاؤنٹ)
جدہ میں’الحی جمیل‘ میں تین دن کے لیے ’ازکی مارکیٹ‘ کا خصوصی ایڈیشن ہوا جہاں مملکت بھر سے کسانوں، مقامی کاشتکاروں اور سیاحوں نے موسمی پیداور، اُس کی پائیداری اور اِس موقع پر کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کے باہمی میل جول کی خوشی منائی۔
اِس خصوصی مارکیٹ کا اہتمام ’حئی جمیل‘ کے کمیونٹی پروگراموں کا ایک حصہ تھا جس میں حئی مارکیٹوں کا انیشیٹیوشامل ہے۔
اس ایڈیشن میں گرمیوں کے لیے مخصوص، طرح طرح کے پسندیدہ پھلوں کا انتخاب کیا گیا جنھیں مملکت بھر کے مختلف کھیتوں سے لایا گیا تھا۔ اِن میں خربوزے، آلو بخارے، سیب، کیلے، آڑو، خوبانی، انجیر، پییتے اور بیریز کی مختلف اقسام تھیں۔
تازہ پھولوں کے ساتھ ساتھ، مارکیٹ میں بچوں کے لیے سرگرمیاں، ورکشاپس، فلمیں، مذاکرے اور متاثر کُن تجربات کا انتظام بھی تھا جنھیں خاصں پر فیملیوں اور ہر عمر سے تعلق رکھنے والے سیاحوں کو ذہن میں رکھ کر ترتیب دیا گیا تھا۔
احمد زکی کمال نے، جو ازکی فوڈز کے بانی ہیں، بتایا کہ ’یہ مارکیٹ گزشتہ کئی برس سے صارفین کی آگاہی اور رویوں میں پیدا ہونے والی گہری تبدیلی کی عکاس ہے۔‘

گزشتہ چھ سال میں واقعی ایک تبدیلی آئی ہے۔ صارفین صرف یہ نہیں جاننا چاہتے کہ وہ کیا کھا رہے ہیں بلکہ اُنھیں اِس میں بھی دلچپسی ہے کہ جو وہ کھا رہے ہیں وہ چیز کہاں سے آئی ہے اور اِسے کس نے کاشت کیا تھا۔
کاشتکاروں کی ازکی مارکیٹ وہ مقام ہے جہاں صارفین کا یہ تجسس، تعلق میں بدل جاتا ہے۔ جب جدہ کی کوئی فیملی، باحہ، عسیر یا الجوف کے کسی کِسان سے رُوبرُو بات کرتی ہے تو اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ صارف کا بھروسہ لیبل کو دیکھ کر نہیں بلکہ گفتگو کرنے کے نیتجے میں پیدا ہوا ہے۔ اِس مارکیٹ کے 16 ایڈیشن ہو چکے ہیں اور یہ تبدیلی ہم نے ہزاروں بار نوٹ کی ہے۔
وہ بتاتے ہیں ’سعودی عرب کے 13 زرعی علاقوں سے، آبائی علم کا واسطہ جدید اور پائیدار عملی طریقوں سے ہو رہا ہے۔ قدیم اقسام جنھیں پائیداری کے لیے چُنا جاتا تھا وہ زیرِ بحث آتی ہیں، پرانے زمانے کے پانی کو احتیاط سے استعمال کرنے کے طریقوں پر بات ہوتی ہے اور زمین کو زرخیز اور توانا رکھنے، فصلوں کے ملاپ اور نامیاتی چیزیں، ان سب پر تبادلۂ خیال ہوتا ہے۔

فواز الفقیہ نے جو بادام کے مقامی کھیت کے مالک ہیں، باداموں کی پیداوار کے موسمی ادوار کے بارے میں بتایا کہ یہ فصل دسمبر اور جنوری سے جون تک بوئی اور کاشت کی جاتی ہے۔ بعد میں اِسے سُکھایا جاتا ہے اور آخر میں اِسے مارکیٹ میں بھیجنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔
الباحہ سے تعلق رکھنے والے المھاوش کہتے ہیں کہ وہ پہلی مرتبہ جدہ مارکیٹ میں آئے ہیں۔ اِس سے قبل وہ ریاض، مکہ اور طائف میں اپنی پیداوار کو فروخت کرنے کا تجربہ کر چکے ہیں۔
اُن کے بقول ’بہت سے لوگ اب نامیاتی غذا کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ وہ فطرت کی طرف لوٹ رہے ہیں لہٰذا ہم اُن کے لیے یہ چیزیں تیار کرتے ہیں۔‘

جدہ کی مارکیٹ کے لیے وہ جو پیداوار لائے ہیں اِس میں سٹاربیری، بلیک بیری، بینگن، امریکی لیٹس اور بھُٹہ شامل ہے۔ ’یہ پھل انتہائی بہت میٹھے اور بغیر پکائے ہی کھانے کے لیے بہترین ہیں۔
بعض شرکا کے لیے مارکیٹ نئے صارفین کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور اُن کی تبدیل ہوتی ہوئی ضرورتوں کو سمجھنے کا ایک پلیٹ فارم ہے۔

 

شیئر: