Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل سے جوابی حملہ نہ کرنے کا کہوں گا، ایران معاہدہ کرے: صدر ٹرمپ

امریکی  صدر ٹرمپ نے کہا کہ’ وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ایران کی جانب سے اسرائیلی اہداف پر میزائلوں کی لہر کے بعد جوابی حملہ نہ کرنے کا کہیں گے۔‘
 عرب نیوز کے مطابق  امریکہ کی جانب سے لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی منصوبے کے اعلان کے چند دن بعد اسرائیل نے اتوار کو بیروت کے مضافات میں پہلی مرتبہ حملے کیے۔
ایران نے اس کے جواب میں اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ تہران کا موقف ہے امریکہ کے ساتھ کوئی بھی امن معاہدہ لبنان میں جنگ بندی پر منحصر ہوگا۔
امریکی صدر نے ایرانی حملوں کے بعد فاکس نیوز چینل کے ایک رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے کہ’ یقینی طور پر یہ مذاکرات میں مدد نہیں کرے گا۔‘
’ میں ایران کو یہ تجویزکروں گا کہ’ آپ نے میزائل فائر کر دیے۔ بس اتنا کافی ہے۔ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں اور معاہدہ کریں۔‘
اس سے قبل بیروت پر اسرائیلی حملے کے بارے میں سوال پر ان کا کہنا تھا ’میں اس سے خوش نہیں ہوں۔‘
ایک امریکی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا ’صدرٹرمپ جو ویک اینڈ نیو جرسی میں اپنے گالف کلب میں گزار رہے تھے، کو ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافے پر بریف کیا گیا تھا۔
وائٹ ہاوس نے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
ایران پہلے ہی خبردار کر چکا تھا کہ بیروت پر حملہ مشرق وسطی کی جنگ کو دوبارہ بھڑکا دے گی جبکہ پاکستان اور دیگر ثالث تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایران کے اعلی مذاکرات کار اور سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا’ امریکی اڈے اور اسرائیلی اثاثے جائز اہداف ہیں کیونکہ لبنان سے متعلق معاہدوں کی خلاف ورزی سمیت دشمنانہ اقدامات کیے گئے ہیں۔
ایکس اکاونٹ پر انہوں نے لکھا ’وہ صرف طاقت کی زبان ہی سمجھتے ہیں۔‘ 

شیئر: