Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حملے رک گئے، بات چیت جاری لیکن کیا امریکہ اور ایران اس لڑائی سے نکل سکتے ہیں؟

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک جانب حملوں کی دھمکی دی ہے جبکہ دوسری جانب یہ بھی کہتے ہیں کہ مذاکرات بھی جاری ہیں (فوٹو: اے پی)
امریکہ کی فوج نے قریباً دو ہفتے کی شدید بمباری کے بعد ایران پر حملوں کا سلسلہ روک دیا ہے اور سفارتی کوششوں کی طرف بڑھتے ہوئے دوبارہ جنگ کی طرف جانے سے بچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ آیا امریکہ اور ایران کے درمیان جاری غیر متوقع نوعیت کے تنازع میں کوئی فیصلہ کن موڑ آ چکا ہے، جو منگل کے روز اپنے پانچویں مہینے میں داخل ہو جائے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک جانب حملوں کی دھمکی دی ہے جبکہ دوسری جانب یہ بھی کہتے ہیں کہ مذاکرات بھی جاری ہیں۔
انہوں نے اس خدشے کو بھی مسترد کیا کہ جنگ کے باعث گیس کی بڑھی قیتمیں نومبر میں ہونے والے وسط مدتی اتنکابات میں ریپبلکن پارٹی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
اس غیر یقینی کی صورت میں مزید اضافہ اس لیے بھی محسوس کیا جا رہا ہے کیونکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اگلے ہفتے واشنگٹن پہنچ رہے ہیں جہاں ان کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات بھی ہو گی۔
اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ مل کر 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا تھا جس کے بعد جنگ شروع ہو گئی تھی، تاہم اس کے بعد ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کیے جانے کے بعد اسرائیل امریکہ کے حالیہ حملوں میں نمایاں طور پر شامل نظر نہیں آیا۔
واشنگٹن انسٹیٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کے مینیجنگ ڈائریکٹر مائیکل سنگھ اس صورت حال کے حوالے سے کہتے ہیں کہ ’ایرانی اس بات کو سمجھتے ہیں کہ صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے کیونکہ اسرائیل بھی اس لڑائی میں شامل ہو سکتا ہے۔‘
تاہم ان کا یہ بھی خیال ہے کہ ’اسرائیل کا ایک طرف رہنا ایرانیوں کے لیے شاید یہ اشارہ ہو کہ وہ اس لڑائی کو محدود رکھنے کی کوشش کر رکھا ہے۔‘
مائیکل سنگھ جو صدر جارج ڈبلیو بش کے دور حکومت میں قومی سلامتی کونشل میں مشرقو سطیٰ کے سینیئر ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں، کا کہنا تھا کہ وہ لڑائی میں آنے والے اس عارضی وقفے سے کوئی بڑا نتیجہ اخذ کرنے میں محتاط ہیں۔

صدر ٹرمپ اس خیال کو مسترد کرتے ہیں کہ جنگ کے باعث گیس کی بڑھی قیتمیں وسط مدتی اتنکابات میں ریپبلکن پارٹی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں (فوٹو: روئٹرز)

ان کے مطابق ’اگر یہ وقفہ کئی دن تک برقرار رہتا ہے تو یہ یقیناً ایک اہم پیش رفت ہو گی لیکن ابھی کچھ کہنا مشکل ہے کہ کیا یہ صرف فوجی کارروائیوں میں ایک عارضی وقفہ ہے یا پھر پردے کے پیچھے کسی سفارتی کوشش کے لیے وقت فراہم کیا جا رہا ہے۔‘
ایران اور امریکہ درمیان ثالثی کرانے والوں میں شامل ایک ملک سے تعلق رکھنے والے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ سفارتی سرگرمیوں کو بھرپور انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں اور اس کی جانب سے امریکی بیسز رکھنے والے پڑوسی ملکوں پر ایران کے جوابی حملوں میں آنے والا وقفہ ایک مثبت اشارہ ہے جو کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہونے والی کوششوں کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔‘
شناخت ظاہر نہ کرنے والے عہدیدار کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران اور امریکہ دونوں ہی جنگ بندی کے عبوری معاہدے کی طرف پلٹنا چاہتے ہیں اور اسی مقصد کے لیے ہی اب جاری مذاکرات میں ایک ایسے سمجھوتے پر بات ہو رہی ہے جس کے تحت ایران آبنائے ہرمز کے راستے جانے والے جہازوں پر پابندیاں کم کرے گا۔
جنگ شروع ہوتے ہی ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا جبکہ ٹینکروں اور مال بردار جہازوں پر حملے بھی کیے گئے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں بہت اضافہ دیکھنے میں آیا۔
جس کے بعد اس خیال کو بھی تقویب ملی کہ چونکہ مہنگے ہوتے تیل پر امریکی خوش نہیں ہیں کہ اس لیے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں یہ صورت حال ریپبلکن پارٹی کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔

شیئر: