صدر ٹرمپ کا امن معاہدے سے پہلے ایران کے اثاثے بحال نہ کرنے کا اعلان
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ تہران کے ساتھ کسی قلیل مدتی معاہدے میں لبنان کو شامل کرنے کا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں۔ (فوٹو: اے پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ امن معاہدہ طے پانے سے پہلے نہ تو ایران کے منجمد اثاثے بحال کریں گے اور نہ ہی کوئی پابندیاں ہٹائیں گے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ان اقدامات پر معاہدہ ہونے کے بعد ہی غور کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ سب بعد میں ہوگا۔ ہاں، اگر انہوں نے اچھا رویہ اختیار کیا، اگر انہوں نے اچھا کام کیا، تو ہم بات چیت شروع کریں گے۔ ہاں۔‘
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ تہران کے ساتھ کسی قلیل مدتی (شارٹ ٹرم) معاہدے میں لبنان کو شامل کرنے کا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں۔ جمعہ کو ریکارڈ کیے گئے اس انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا، ’میرے خیال میں وہ ایسا دیکھنا چاہیں گے، لیکن میں کوئی مطالبہ نہیں کر رہا۔‘
یاد رہے کہ امریکی اور اسرائیلی افواج نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے تھے۔ ٹرمپ انتظامیہ گزشتہ کئی ہفتوں سے ممکنہ امن معاہدے کے لیے مذاکرات کی کوششیں کر رہی ہے۔
ٹرمپ نے این بی سی نیوز کو بتایا، ’ہم ایک معاہدے کے بہت قریب ہیں، ورنہ میں ان کا کچومر نکال دوں گا (تباہ و برباد کر دوں گا)۔‘ صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں، جو تنازع کے آغاز میں امریکی حملوں میں زخمی ہونے کے بعد سے منظر عام پر نہیں آئے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ مجھے معلوم ہے کہ وہ کہاں ہیں یا نہیں، لیکن اس بات کا قوی امکان ہے کہ مجھے معلوم ہو۔‘
دوسری جانب، وزیر خارجہ مارکو روبیو جیسے ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کا اصرار ہے کہ ایران پر حالیہ امریکی حملوں کے باوجود عارضی جنگ بندی کا معاہدہ برقرار ہے۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے قانون سازوں کو بتایا کہ یہ حملے دفاعی اقدامات تھے۔
