امریکہ نے حملے دوبارہ کیے تو جنگ مزید پھیلے گی، ایران کی فوج کی وارننگ
اتوار 26 جولائی 2026 11:23
انہوں نے کہا کہ جنگ کا دائرہ پہلے ہی باب المندب کی آبنائے تک پہنچ چکا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)ٌ
ایران کی فوج نے اتوار کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اسلامی جمہوریہ ایران پر حملے دوبارہ شروع کیے تو مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ مزید پھیل جائے گی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے واشنگٹن کے دورے کی تیاریاں جاری ہیں۔
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر امریکی ایک بار پھر صہیونیوں کے دھوکے میں آ گئے یا ان کے ساتھ مل کر، خصوصاً فضائی حملوں کے ذریعے، جنگ جاری رکھنے پر اصرار کرتے ہیں تو یہ تنازع جغرافیائی طور پر مزید پھیل جائے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ جنگ کا دائرہ پہلے ہی باب المندب کی آبنائے تک پہنچ چکا ہے، جو بحیرۂ احمر کے دہانے پر واقع اہم آبی گزرگاہ ہے۔ ان کا اشارہ یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کی جانب تھا۔
اکرمینیا کے مطابق، ’اب ہماری کارروائیوں کا دائرہ پورے خطے تک پھیل چکا ہے، اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں سے لے کر خلیجِ عرب کے ساحلی ممالک تک۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی صورتِ حال ’مشکل اور غیر یقینی‘ ہو چکی ہے اور واشنگٹن اب ’نئی حکمتِ عملی‘ تلاش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا، ’ہم ہر ممکن آپشن اور متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔‘
دوسری جانب اسرائیل نے جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔
آبنائے ہرمز کے انتظام پر ایران اور عمان کے مذاکرات میں پیش رفت
ادھر ایران نے اتوار کو کہا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق عمان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے، جبکہ ایران اور عمان دونوں اس کے ساحلی ممالک ہیں۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکہ نے تہران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے خاتمے کے لیے ایران پر حملے دوبارہ شروع کیے ہیں۔ اس سے قبل جون میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہوا تھا، جس کے بعد کچھ عرصے کے لیے کشیدگی میں کمی آئی تھی۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ جمعہ اور ہفتے کو تہران میں ایران اور عمان کے نائب وزرائے خارجہ کے درمیان کئی ادوار پر مشتمل مذاکرات ہوئے۔
ان کے مطابق، مذاکرات میں دونوں ممالک کے خودمختار حقوق کا احترام کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے مشترکہ اصولوں اور عملی طریقۂ کار پر بات چیت کی گئی۔
اسماعیل بقائی نے ان مذاکرات کو ’مفید‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی اور سیاسی مشاورت کا عمل جاری ہے۔
جون میں ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر سروس فیس عائد کرنے پر بھی بات چیت کا اعلان کیا تھا، تاہم امریکہ اس تجویز کی مخالفت کرتا ہے۔
بعد ازاں عمان نے کہا تھا کہ جہاز اس کی سمندری حدود کے ذریعے بھی آبنائے ہرمز عبور کر سکتے ہیں، جس پر ایران نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور خطے میں کشیدگی بڑھ گئی۔
ایران نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا تھا کہ تقریباً دو ہفتوں سے جاری حملوں کے بعد گزشتہ روز اس نے کسی نئے امریکی حملے کا مشاہدہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کے مطابق، پینٹاگون نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مسلسل چودھویں رات ایران پر حملوں کا منصوبہ پیش کیا، تاہم انہوں نے اسے منظور کرنے کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی۔
رپورٹ کے مطابق، عمانی وفد کی تہران آمد اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے نئے انتظام پر مذاکرات شروع ہونے کے بعد ٹرمپ نے حملے روکنے کی ہدایت دی۔
ایک اور سوال کے جواب میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کی موجودہ صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔