Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پنجاب میں تنخواہوں کا دوہرا نظام: صرف 0.8 فیصد ملازمین کو 100 فیصد سیکرٹریٹ الاؤنس، 99 فیصد محروم

پنجاب حکومت کے محکمہ مالیات کی جانب سے حال ہی میں جاری ہونے والے ایک سرکار ی نوٹیفیکیشن نے صوبائی ملازمین کی تنخواہوں کے ساخت اور انتظامی تفریق کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ نوٹیفیکیشن پنجاب کے تین سب سے زیادہ بااثر اداروں وزیراعلیٰ آفس، گورنر ہاؤس اور پنجاب سول سیکرٹریٹ کے ملازمین کے لیے ’بیسک پے اسکیل 2026‘ کے تحت 100 فیصد ’سول سیکرٹریٹ الاؤنس‘ کی منظوری سے متعلق ہے۔

خصوصی مراعات کا نوٹیفیکیشن ہے کیا؟

محکمہ خزانہ پنجاب نے 22 جولائی 2026 کو ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے جس میں پنجاب کی سول افسرشاہی کے تین بڑے اداروں، وزیر اعلی آفس، گورنر ہاوس اور سول سیکرٹریٹ کے ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں  100 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر 2022 میں شروع کیا گیا اور ہر سال اس کی توثیق ہوتی ہے۔ یوں اس سال 2026 کے نئے ’بیسک پے سکیلز‘ کے نفاذ کے بعد اسے  دوبارہ جاری کیا گیا ہے۔
پاکستان کے مالیاتی اور سرکاری نظام کا یہ بنیادی اصول ہے کہ جب بھی سالانہ بجٹ یا پے ریویژن کے نتیجے میں نئے بنیادی پے سکیلز (بیسک پے اسکیلز) نافذ کیے جاتے ہیں، تو جن الاؤنسز کا تعین بنیادی تنخواہ کے فیصد (مثلاً 100 فیصد) کے حساب سے طے ہوتا ہے، ان کو نئے پے سکیل پر منتقل کرنے کے لیے ہر بار الگ سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کی ضرورت ہوتی ہے۔
 تنخواہوں میں اضافے کا طریقہ کار: عام ملازم بمقابلہ سیکرٹریٹ کے ملازمین
خیال رہے کہ پنجاب میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے دو بالکل مختلف طریقے عمل میں لائے جاتے ہیں۔ سالانہ بجٹ کے موقع پر صوبے کے تمام سرکاری ملازمین کے لیے جو اضافہ منظور کیا جاتا ہے جو عام طور پر 7 فیصد، ساڑھے 7 فیصد یا 10 فیصد کے قریب ہوتا ہے ،وہ ملازم کی کل تنخواہ (گراس پے) پر لاگو نہیں ہوتا، بلکہ یہ اضافہ محض ابتدائی یا جاری ’بیسک پے‘ پر بطور ’ایڈہاک ریلیف الاؤنس‘ دیا جاتا ہے۔
 اس کے برعکس، سول سیکرٹریٹ، وزیراعلیٰ آفس اور گورنر ہاؤس کے ملازمین کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ ان اداروں کے ملازمین بجٹ میں ہونے والا عمومی ایڈہاک ریلیف الاؤنس تو حاصل کرتے ہی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں ان کی ’نئی بیسک پے‘ کا پورا 100 فیصد رقم کی صورت میں الگ سے بطور ’سول سیکرٹریٹ الاؤنس‘ ملتا ہے۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ اگر کسی عام ڈسٹرکٹ کلرک یا سکول کے استاد کی بنیادی تنخواہ میں بجٹ کے تحت صرف چند سو یا چند ہزار روپے کا اضافہ ہوتا ہے، تو ان تین اداروں کے ملازمین کو ان کی نئی بنیادی تنخواہ کے برابر 100 فیصد الگ رقم ملنے سے ان کی کل ماہانہ تنخواہ میں عام ملازمین کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑا اضافہ خود بخود ہو جاتا ہے۔
 پنجاب حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق صوبے بھر میں بنیادی پے اسکیل 1 سے 22 تک کے کل سرکاری ملازمین کی مجموعی تعداد تقریباً 10 لاکھ سے 11 لاکھ کے درمیان ہے۔ ان میں لاکھوں پرائمری و سیکنڈری سکولز کے اساتذہ، پولیس اہلکار، ہسپتالوں کے ڈاکٹرز، نرسیں، پیرامیڈیکل سٹاف، پٹواری اور ضلعی انتظامیہ کے فیلڈ دفاتر کا عملہ شامل ہے جو براہ راست عوام کو خدمات فراہم کرتے ہیں۔
 دوسری جانب اگر وزیراعلیٰ آفس، گورنر ہاؤس یا سیکرٹریٹ اور پنجاب سول سیکرٹریٹ کے تمام 40 سے زائد انتظامی محکموں کے پے رول پر موجود عملے کا جائزہ لیا جائے تو ان تینوں جگہوں پر کام کرنے والے تمام افسران اور جونیئر ملازمین کی کل تعداد محض 7 ہزار سے 8 ہزار کے قریب بنتی ہے۔ اس  حساب سے  پنجاب کے کل سرکاری ملازمین کا صرف 0.8 فیصد  ان تین اداروں میں تعینات ہے جو اس 100 فیصد اضافی بیسک پے الاؤنس سے مستفید ہوتا ہے، جبکہ باقی 99 فیصد سے زائد ملازمین صرف عمومی بجٹ اضافے پر ہی انحصار کرتے ہیں۔
 ماضی میں بھی سول سیکرٹریٹ کے ملازمین کو ابتدائی طور پر 20 فیصد، پھر 30 فیصد، 50 فیصد اور بالآخر 2022 میں بڑھا کر 100 فیصد سیکرٹریٹ الاؤنس دیا گیا۔ اس کے علاوہ بعض مخصوص کیڈرز جیسے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پنجاب مینجمنٹ سروس کے افسران کے لیے ’ایگزیکٹو الاؤنس‘ بھی 100 سے 150 فیصد تک منظور کیا جاتا رہا ہے۔
 سیکرٹریٹ کے اعلیٰ حکام کا اس الاؤنس کے حق میں یہ موقف رہا ہے کہ سیکرٹریٹ اور اعلیٰ ترین دفاتر میں کام کا دباؤ، پالیسی سازی کی حساسیت، کابینہ اجلاسوں کی تیاری اور رات گئے تک کام کرنے کے اوقات کار دیگر فیلڈ دفاتر سے مختلف ہوتے ہیں۔ نیز، فیلڈ افسران کے پاس سرکاری گاڑیوں، ایندھن اور دیگر آپریشنل مراعات کی جو سہولیات ہوتی ہیں، وہ ڈیسک جاب کرنے والے سیکرٹریٹ افسران یا کلریکل عملے کو میسر نہیں ہوتیں، اس لیے انہیں مالی طور پر مطمئن رکھنے کے لیے یہ الاؤنس ضروری سمجھا جاتا ہے۔
 تاہم دوسری جانب آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن، گرینڈ ٹیچرز الائنس اور ہیلتھ یونینز کا کہنا ہے کہ بازار میں مہنگائی اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں سیکرٹریٹ کے بابو اور فیلڈ کے کلرک یا ٹیچر کے لیے ایک جیسی ہیں۔ ایک ہی پے سکیل (مثلاً اسکیل 17) پر سیکرٹریٹ میں تعینات ایک سیکشن آفیسر کی کل تنخواہ، اور اسی سکیل 17 پر کسی سکول کے ہیڈماسٹر یا ہسپتال کے میڈیکل آفیسر کی کل تنخواہ کے درمیان اس الاؤنس کی وجہ سے دہرا فرق پیدا ہو چکا ہے۔

شیئر: