اسرائیل نے کہا ہے کہ اس نے ایران میں ایک پیٹروکیمیکل پلانٹ پر حملہ کیا ہے جبکہ دوسرے فوجی اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے کہ جب امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو منع کیا تھا کہ وہ مزید حملوں سے گریز کریں۔
دوسری جانب ایران نے اسرائیل کے ساتھ دوبارہ لڑائی چھڑنے کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیا ہے۔
ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل کی کارروائیوں کو امریکہ کی پالیسی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔‘
عرب نیوز کے مطابق اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار ایران کی توانائی سے متعلق کسی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیل کے مطابق اس نے ماہشہر پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنایا جبکہ دوسری جانب ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی فارس سے بات کرتے ہوئے ایک سرکاری اہلکار نے کہا کہ اسرائیلی حملے سے پلانٹ کے بعض حصوں کو نقصان پہنچا ہے۔
مزید پڑھیں
اسرائیلی فوج کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ایران کے فضائی دفاعی نظام کی کچھ تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اسی طرح تسنیم نیوز ایجنسی نے ایران کی پاسداران انقلاب فورس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کے جواب میں حیفہ میں واقع اسی طرح کے ایک پیٹروکیمیکل پلانٹ پر میزائل داغے گئے ہیں
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے دو بار میزائل داغے جا چکے ہیں اور تیسری بار بھی اس کا خطرہ موجود ہے اس لیے لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہو جائیں۔
ایران اور اسرائیل کی جانب سے ایک دوسرے پر حملوں کی نئی لہر سے واضح ہوتا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے اور اب توانائی کے بنیادی انفراسٹرکچرز کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے خطے میں مزید عدم استحکام آنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
علاوہ ازیں اسرائیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ یمن میں متحرک حوثیوں کی طرف سے بھی اسرائیل پر میزائل داغے گئے ہیں جن کو روکنے کے لیے دفاعی نظام کر فعال کر دیا گیا ہے۔
بعدازاں ایران کی حمایت رکھنے والے حوثیوں نے میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ان میں تل ابیب میں موجود حساس فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
’اتوار کی رات سے اب تک 30 کے قریب میزائل داغے گئے‘
اسرائیل کے ایک سکیوررٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ اتوار سے اب تک ایران کی جانب سے 30 کے قریب میزائل فائر کیے گئے ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق ’پچھلی رات ایران نے میزائل داغنے کا سلسلہ شروع کیا اور اسرائیل کی طرف 30 کے قریب بیلسٹک میزائل چلائے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ان کے علاوہ یمن کے حوثیوں کی طرف سے بھی دو میزائل داغے گئے۔

اس سے قبل اسرائیل کی فوج نے کہا تھا کہ ایران نے اسرائیل پر میزائل داغے ہیں جن پر دفاعی فضائی نظام فعال ہو گیا جبکہ اس کے بعد پیر کی صبح اسرائیل نے ایران کے مغربی اور وسطی علاقوں میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
جس کے بعد ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے بتایا کہ تہران، تبریز اور اصفہان میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ بعدازاں تصدیق کی گئی کہ اسرائیل کی جانب سے میزائل حملے ہوئے ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتین یاہو کو مزید حملوں سے گریز کا مشورہ دیا تھا۔
چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے اسرائیل پر حملے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے اور آخری فیصلہ اسرائیلی وزیراعظم کا نہیں ہو گا۔
صدر ٹرمپ لبنان پر اسرائیل کے حملے روکنا چاہتے ہیں تاکہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے گنجائش نکلے اور اسی معاملے سے متعلق یہ رپورٹ بھی سامنے آئی تھی کہ صدر ٹرمپ نے بنیامین نیتن یاہو کی ٹیلی فون پر سرزنش کی تھی۔
تاہم اسرائیل نے اتوار کو بیروت کے کچھ علاقوں میں فضائی حملے کیے، اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل کی جانب میزائل داغے، جس سے امن مذاکرات خطرے میں پڑنے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں تاہم اس کے باوجود صدر ٹرمپ نے اصرار کیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کا معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔

اسرائیلی کے جوابی حملے سے قبل ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے اس حملے کو ’انتباہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’وہ اسرائیل کی جانب سے اسی روز بیروت پر کیے گئے حملوں کا جواب تھا۔‘
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے مزید کارروائیاں کیں تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے دفاعی نظام نے زیادہ تر میزائلوں کو راستے میں ہی تباہ کر دیا تھا، تاہم فوجی قیادت نے حملے کو سنگین قرار دیا ہے۔
آٹھ اپریل کو ہونے والے جنگ بندی کے بعد سے اسرائیل اور ایران نے ایک دوسرے کے خلاف زیادہ تر کارروائیاں روک دی تھیں، تاہم اس جنگ بندی کو امن معاہدے میں تبدیل کرنے لیے ہونے والی کوششیں بار بار تعطل کا شکار ہوتی رہیں اور اس حملے کے بعد دیرپا امن کی امیدیں مزید کم ہو گئی ہیں جبکہ مشرق وسطیٰ کی جانب 100 ویں روز میں داخل ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو ٹیلی فون کال کی اور ان کو ایران کے خلاف جوابی کارروائی سے گریز کرنے کا مشورہ دیا تھا۔













