Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جنگ بندی کے بعد اسرائیل اور ایران کے ایک دوسرے پر براہ راست حملے

ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملے کے بعد اسرائیل نے بھی تہران پر حملے کیے ہیں۔
ایرانی حملوں کے بعد اسرائیل کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ میزائلوں کو راستے میں ہی گرا لیا گیا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے ایران کا اسرائیل پر پہلا براہ راست حملہ تھا۔
 دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے اس حملے کو ’انتباہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے اسی روز بیروت پر کیے گئے حملوں کا جواب تھا۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے مزید کارروائیاں کیں تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے دفاعی نظام نے زیادہ تر میزائلوں کو راستے میں ہی تباہ کر لیا تاہم فوجی قیادت نے حملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے ممکنہ جوابی کارروائی کی تیاری کا اشارہ دیا ہے۔
 آٹھ اپریل کو ہونے والے جنگ بندی کے بعد سے اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کا زیادہ تر حصہ رک گیا تھا تاہم اس جنگ بندی کو امن معاہدے میں تبدیل کرنے لیے ہونے والی کوششیں بار بار تعطل کا شکار ہوتی رہیں جبکہ اس حملے کے بعد دیرپا امن کی امیدیں مزید کم ہو گئی ہیں جبکہ مشرق وسطیٰ کی جانب 100 ویں روز میں داخل ہو گئی ہے۔
 رپورٹ کے مطابق ایران کے حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو ٹیلی فون کال کی اور ان کو ایران کے خلاف جوابی کارروائی سے گریز کرنے کا مشورہ دیا۔
دوسری جانب اسرائیل کی فوجی قیادت نے عزم ظاہر کیا ہے کہ جیسے ہی اسے اجازت ملے گی وہ ایران پر حملہ کر دے گی۔
صدر ٹرمپ نے ایکسیوس سے وابستہ صحافی باراک ریوڈ کو ٹیلی فون پر انٹرویو دیتے ہوئے بھی کہا کہ ’میں ابھی بنیامین نیتن یاہو کو فون کرنے والا ہوں اور انہیں کہوں گا کہ وہ جوابی حملہ نہ کریں۔‘
امریکی صدر کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خطے میں مزید کشیدگی اور ممکنہ طور پر وسیع ہونے والی جنگ کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ اسرائیل کے اندر بعض فوجی حلقے ایران کے خلاف فوری ردعمل کے حامی تھے۔
ان کے مطابق ’اسرائیل نے اپنا حملہ کیا اور ایران نے بھی کر لیا اب ہمیں مزید کسی حملے کی ضرورت نہیں۔‘
علاوہ ازیں اسرائیل کی جانب سے حملے کو ایران کی ’سنگین غلطی‘ قرار دیا گیا ہے اور اس کی فوج کا کہنا ہے کہ ایران نے مجموعی طور پر 11 میزائل داغے جن کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامر کا کہنا ہے کہ ’جیسے ہی ہم کو اجازت ملے گی ہم دشمن پر پوری طاقت سے حملہ کریں گے۔‘
دوسری جانب تہران کا اصرار ہے کہ جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ہونے والے کسی بھی معاہدے میں لبنان میں لڑائی کا خاتمہ بھی شامل کیا جائے، جہاں اسرائیل ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے۔

شیئر: