Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل اور ایران فوری جنگ بندی چاہتے ہیں: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا ہے کہ اسرائیل اور ایران دونوں فوری جنگ بندی کے خواہاں ہیں اور امن کے لیے حتمی مذاکرات جاری ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پیغام میں کہا،’اسرائیل اور ایران دونوں فوری جنگ بندی چاہتے ہیں۔ امن کے لیے حتمی مذاکرات جاری ہیں، بشرطیکہ جہالت یا حماقت ان کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ حتمی معاہدہ ہونے تک ناکہ بندی برقرار رہے گی اور مکمل طور پر نافذ رہے گی۔ معاملات تیزی سے آگے بڑھنے چاہییں۔‘
اس سے قبل ٹرمپ نے دونوں ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ حملے بند کریں، کیونکہ دونوں جانب سے جاری جوابی کارروائیوں نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکہ کو اسرائیل کے ساتھ دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی کا ذمہ دار قرار دیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ خطے میں اسرائیل کے اقدامات کو امریکی پالیسیوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا،’کوئی بھی یہ یقین نہیں کرتا کہ اسرائیل امریکہ کے ساتھ پیشگی رابطے اور تعاون کے بغیر کوئی اقدام کر سکتا ہے۔‘
ادھر اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایران کے جنوب مغربی علاقے میں واقع ایک پیٹروکیمیکل کمپلیکس اور دیگر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام کے بعض حصوں کو بھی تباہ کیا گیا۔
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق پاسداران انقلاب نے جواباً اسرائیل کے شہر حیفہ میں واقع ایک پیٹروکیمیکل تنصیب پر میزائل داغے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اتوار کی رات سے ایران تقریباً 30 میزائل فائر کر چکا ہے۔
پیر کے روز وسطی تہران میں ایک زور دار دھماکے کی آواز بھی سنی گئی، جس کے بعد متعدد دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق فضائی دفاعی نظام کو بھی متحرک کیا گیا جبکہ ایک ’دشمن ڈرون‘کو مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔

شیئر: