خلیج، یورپ کوریڈور: سعودی عرب اور ترکیہ نے ریل معاہدے پر دستخط کر دیے
ترکیہ نے ان معاہدوں کو تعاون کے ایک مرحلے کا آغاز قرار دیا ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب اور ترکیہ نے منگل کو ریلوے اور لاجسٹک سروسز سے متعلق دو اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔
یہ خلیجی خطے کو یورپ سے جوڑنے والے لینڈ ٹرانسپورٹ کوریڈور کی ترقی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
مفاہمتی یادداشتوں پر سعودی وزیر ٹرانسپورٹ اینڈ لاجسٹک صالح الجاسر جبکہ ترکیہ کے وزیر ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر عبدالقادر یورال اوغلو نے دستخط کیے۔
ترکیہ کے وزیر ٹرانسپورٹ نے ان معاہدوں کو تعاون کے ایک مرحلے کا آغاز قرار دیا، جس کا مقصد تیکنیکی مہارت، لاجسٹک انفرا سٹرکچر اور علاقائی روابط کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ معاہدے اس وسیع علاقائی کوششوں کا حصہ ہیں، جس کا مقصد خلیج کو ترکیہ، شام اور اردن کے ذریعے یورپ سے ملانے والا زمینی تجارتی راستہ قائم کرنا ہے۔
خیال رہے یہ اقدام حالیہ دنوں میں سہ فریقی معاہدے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں ترکیہ، شام اور اردن کی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے آئندہ چار سے پانچ سال میں مشترکہ ریلوے انفراسٹرکچر کی بحالی کےلیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا تھا۔
ترکیہ نے پہلے ہی شام کی سرحد کے قریب وہ ریلوے ٹریک بحال کرنا شروع کردیا ہے، جو تقریبا پندرہ برس سے غیر فعال تھا۔ محتاط اندازے کے مطابق اس منصوبے پر 5.5 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔
منصوبے کے مطابق یہ کوریڈور ترکیہ کے ریلوے نیٹ ورک کو جنوبی یورپ سے جوڑے گا۔ شام کے راستے حلب اور دمشق سے گزرتے ہوئے عمان اور اردن کی بحیرہ احمر میں واقع عقبہ کی بندرگاہ تک پہنچے گا۔
اس کوریڈور کا مقصد خلیج اور یورپ کے درمیان سامان اور مسافروں کے لیے ایک تیز اور موثر متبادل فراہم کرنا ہے۔
