فرانس اور سپین کے جنگلات میں لگنے والی آگ پر پوری طرح قابو نہیں پایا جا سکا ہے اور دونوں ملکوں کی حکومتیں اس کو بجھانے کے لیے کوشاں ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دونوں ممالک کے حکام کی کوشش ہے کہ رواں ہفتے آنے والی ہیٹ ویو سے قبل آگ پر قابو پا لیا جائے جس کی پیش گوئی محکمہ موسمیات کی جانب سے کی گئی ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکخواں نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ ملک کے جنوب مغربی حصے میں آگ پر قابو پا لیا گیا ہے تاہم بورڈو کے قریب اس سے کہیں بڑی آگ اب بھی بھڑک رہی ہے۔
مزید پڑھیں
فرانس اور سپین کو ان دنوں حالیہ تاریخ کی بدترین جنگلی آتشزدگی کا سامنا ہے جس کی لپیٹ میں سینکڑوں ہیکٹر کا رقبہ آ چکا ہے اور بے شمار املاک کو بھی تباہ کر دیا ہے جبکہ لاکھوں لوگوں کو اپنے گھر چھوڑ کے محفوظ مقامات کی طرف جانا پڑا ہے۔
دوسری جانب اس صورت حال میں ہیٹ ویو کی پیش گوئی بھی سامنے آ گئی ہے جس کے مطابق منگل کو فرانس اور بدھ کو سپین میں موسم شدید گرم ہو جائے گا۔
اس پیش گوئی کے بعد اس سے آگ پر قابو پانے کے لیے ہونے والی کوششیں مزید مشکل ہو جائیں گی۔

سپین کے وزیر داخلہ فرنانڈو گراندے مارلاسکا نے کہا ہے کہ دارالحکومت میڈرڈ کے مغربی حصے میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کے حوالے سے اگلے چند گھنٹے بہت فیصلہ کن ہوں گے۔
فرانس کے صدر ایمانوئیل میکخواں نے پیر کو آگ سے نمٹنے کے لیے قائم کیے گئے خصوصی مرکز کا دورہ کیا جہاں ان کو صورت حال کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ’آنے والے دن بہت مشکل ہوں گے تاہم ہم کو ثابت قدم رہنا ہو گا۔‘
یہ مرکز جنوب مغربی فرانس کے جیروند نام کے علاقے میں بورڈو شہر میں بنایا گیا ہے جو کہ آگ کی زد میں آنے والے جنگلات سے زیادہ دور نہیں۔

ہیٹ ویو کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ آگ مسلسل اردگرد کے ماحول کو گرم بنا رہی ہے اور وہاں سے گزرنے والی ہوائیں آگ کو مزید پھیلا رہی ہیں۔
اس آگ کی وجہ سے پچھلے چھ روز کے دوران 42 ہزار ہیکٹر پر مشتمل رقبہ جلا چکی ہے، 240 مکانات تباہ ہوئے ہیں جبکہ دو لاکھ 20 ہزار کے قریب لوگ چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
صدر میکخواں نے اس سے ملحقہ علاقے لینڈز کی آگ کے حوالے سے کہا کہ اس کی شدت کم ہے اور اس پر کافی حد تک قابو پایا جا چکا ہے اور اس کی وجہ سے 30 ہزار کے قریب لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی تھی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس علاقے میں حدت اب بھی موجود ہے اس لیے اگلے چند دنوں کے لیے سب کو محتاط رہنا ہو گا۔

ان کے مطابق ’یہ صورت حال موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے حالات کا نتیجہ ہے اور مستقبل میں دنیا کو ان کے ساتھ ہی جینا ہو گا۔‘
اسی طرح سپین میں 60 ہزار افراد کو میڈرڈ کے ان مغربی علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جو آگ کی لپیٹ میں ہیں۔
ان افراد کو میڈرڈ کے نواح میں ایک سپورٹس ہال میں عارضی طور پر ٹھہرایا گیا ہے۔
ان میں سے ماریا اینجلس کانیٹے نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ ’ہم سب کچھ کھو چکے ہیں ہمارے پاس اب کچھ نہیں بچا۔‘













