Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سوات کے کوہ پیما سید علی شاہ جو فلک سر فتح کر کے لوٹ نہ سکے، ’بچے پوچھتے ہیں بابا کہاں ہیں؟‘

سید علی شاہ کے تین بچے ہیں اور تینوں ہی باپ کی جدائی کے غم میں نڈھال ہیں (فوٹو: سید علی شاہ)
پانچ جولائی 2026 کو سوات کے نامور کوہ پیما سید علی شاہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ ایک مشکل ہدف کے تعاقب میں نکلے، یہ ہدف سوات کی بلند ترین چوٹی ’فلک سر‘ کو سر کرنا تھا جسے کوہ پیمائی کی دنیا میں ’منی کے ٹو‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
چھ کوہ پیماؤں پر مشتمل اس ٹیم نے دشوار گزار راستوں، برفانی ہواؤں اور کٹھن چڑھائیوں سے نبرد آزما ہوتے ہوئے 11 جولائی کو بالآخر کامیابی کے ساتھ فلک سر پر قدم جما لیے۔ 
فتح کی اس خوشی کے بعد ٹیم نے اپنے واپسی کے سفر کی شروعات کیں لیکن فلک سر کا یہ برفانی راستہ سید علی شاہ کے لیے شاید کچھ اور ہی تقدیر لکھ چکا تھا۔ 
12 جولائی کی صبح، جب ٹیم نیچے اتر رہی تھی، شدید خراب موسمی حالات اور نظروں کو دھندلا دینے والی برفباری کے باعث ٹیم لیڈر سید علی کا پاؤں پھسل گیا۔ وہ لمحوں میں ایک نا معلوم گہری کھائی کی تاریکیوں میں جا گرے، اور تب سے اب تک فلک سر کی برفانی خاموشی میں لاپتا ہیں۔
’بچے پوچھتے ہیں، بابا کو کب لائیں گے؟‘
ضلع سوات کی تحصیل خوازہ خیلہ کے گاؤں سید آباد سے تعلق رکھنے والے 48 سالہ سید علی شاہ کے بھائی اُن کی اہلیہ اور تین بچے آج بھی اپنے گاؤں میں ان کی واپسی کے منتظر ہیں۔
پہاڑوں سے جنون کی حد تک محبت رکھنے والے سید علی شاہ نے یہ سفر شروع کرنے سے پہلے کہا تھا کہ یہ ان کی زندگی کا یادگار سفر ہے اور وہ اس کے بعد ’کے ٹو‘ کو بھی سر کریں گے۔
سید علی شاہ کے چھوٹے بھائی سید اقبال شاہ نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے بھائی نے نہ صرف پورے ضلع سوات میں بلکہ خیبر پختونخوا میں ایڈونچر ٹورزم کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سید علی شاہ کو اپنے پہاڑوں اور وطن سے اس قدر جنونی محبت تھی کہ اس معاملے میں وہ کسی دوسری رائے یا اختلاف کو سننا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔
گھر سے نکلنے سے پہلے وہ ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ انہوں نے خیبر پختونخوا، بالخصوص سوات کی تمام چوٹیاں سر کرنی ہیں۔’ان کی یہ بھی خواہش تھی کہ وہ کوہ پیمائی کے شوقین افراد کی تربیت کے لیے ایک باقاعدہ سینٹر کا آغاز کریں۔‘
اقبال شاہ کے مطابق ان کے بھائی نے 6 جولائی کو اپنے ساتھی کوہ پیماؤں کے ساتھ سفر کا آغاز کیا، لیکن روانگی کے بعد سے ان کا گھر والوں سے کوئی رابطہ نہ ہو سکا۔
ان کا کہنا تھا ’ہمیں تو 17 یا 18 جولائی کو جا کر کہیں یہ خبر ملی کہ ہمارا بھائی واپسی کے دوران لاپتا ہو چکا ہے۔‘
اپنے بھتیجوں کا حال بتاتے ہوئے سید اقبال شاہ جذباتی ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی کے تین بچے ہیں اور تینوں ہی باپ کی جدائی کے غم میں نڈھال ہیں۔

12 جولائی کی صبح جب ٹیم نیچے اتر رہی تھی تو برفباری کے باعث سید علی کا پاؤں پھسل گیا (فائل فوٹو: سید علی شاہ)

اُن کا کہنا ہے کہ ’بچے مجھ سے گلہ کرتے ہیں کہ میں ان کے بابا کو واپس کیوں نہیں لا رہے۔اُن کی  بیٹی مجھ سے بار بار پوچھتی ہے کہ آپ ابھی تک خان جی کو کیوں نہیں لے کر آئے، آپ ان کو کب لائیں گے؟‘
انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ حکومتِ پاکستان ان کے بھائی کو ان کی خدمات کے عوض سول ایوارڈ سے نوازے اور خطے کی کسی چوٹی کو ان کے نام سے منسوب کرے تاکہ ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔
سید علی شاہ کے بارے میں ہم مزید کیا جانتے ہیں؟
ضلع سوات سے تعلق رکھنے والے سید علی شاہ اپنے کریئر کے دوران 13 سے زائد دور افتادہ الپائن جھیلیں بھی دریافت کر چکے ہیں۔ وہ ’مارخور کلائمبرز کلب‘ کے فعال رکن رہے اور انہیں 2021 میں ’پاکستان یوتھ آؤٹ ریچ فاؤنڈیشن‘ کی جانب سے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
انہوں نے ’مارخور کلائمبرز گبین جبہ سنو ٹریکنگ‘ مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل تھی، جبکہ جون 2022 میں انہوں نے نامور اطالوی کوہ پیما پروفیسر کارلو البرٹو پینیلی کے ساتھ مل کر منکیال چوٹی کو بھی کامیابی سے سر کیا تھا۔
سید علی شاہ نے دارل جھیل، کنڈول جھیل اور شیطان گڈ جھیل سمیت 13 جھیلیں دریافت کیں۔ انہوں نے اپنے کوہ پیمائی کریئر میں 18ہزار 500 فٹ بلند منکیال چوٹی کے علاوہ خاناکو چوٹی اور باکارو سر سمیت متعدد دیگر چوٹیاں بھی کامیابی سے سر کیں۔

سید علی شاہ اپنے کریئر کے دوران 13 سے زائد دور افتادہ الپائن جھیلیں بھی دریافت کر چکے ہیں (فائل فوٹو: سید علی شاہ)

’موسم کی شدت: ریسکیو آپریشن جاری رکھنا مشکل ہے‘
ہم نے اس حوالے سے مزید جاننے کے لیے اپر سوات ڈیولپمنٹ اتھارٹی (محکمہ سیاحت، خیبر پختونخوا) کے ترجمان سعید یوسفزئی سے گفتگو کی۔
ان کا کہنا تھا کہ سید علی شاہ اپنے چھ دیگر ساتھیوں کے ہمراہ فلک سر چوٹی (جسے ’منی کے ٹو‘ بھی کہا جاتا ہے) سے نیچے اتر رہے تھے کہ 11 یا 12 جولائی کی درمیانی شب واپسی کے دوران، پاؤں پھسلنے یا رسی ٹوٹنے کے باعث وہ ایک بلندی سے نیچے جا گرے۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد اسکردو سے بھی ماہر کوہ پیماؤں کی ٹیم بلائی گئی تھی جس نے دو سے تین دن تک تلاشی کی کارروائی جاری رکھی، لیکن مسلسل ناکامی کے بعد وہ بھی مایوس ہو کر لوٹ آئے۔
ترجمان کے مطابق ’ہم نے ضلعی انتظامیہ کے ذریعے فوری طور پر پی ڈی ایم اے اور این ڈی ایم اے کو خط لکھا کہ تلاش کے لیے ہیلی کاپٹر فراہم کیا جائے لیکن وہاں شدید بارش، تیز ہواؤں اور خراب موسم کی بنا پر ہمیں بتایا گیا کہ اس وقت ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو آپریشن کرنا ممکن نہیں ہے۔‘

سعید یوسفزئی کا کہنا تھا کہ سوات کی انتظامیہ صوبائی حکومت کے مسلسل رابطے میں ہے (فائل فوٹو: سید علی شاہ)

انہوں نے مزید بتایا کہ اگر اس خراب موسم میں ریسکیو آپریشن شروع کیا جاتا ہے تو وہاں موجود گلیشیئرز پھٹ سکتے ہیں جس سے خدشہ ہے کہ مزید قیمتی جانوں کا نقصان نہ ہو جائے۔
سعید یوسفزئی کا کہنا تھا کہ سوات کی انتظامیہ صوبائی حکومت کے مسلسل رابطے میں ہے اور موسم سازگار ہوتے ہی وسیع پیمانے پر تلاش کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔جبکہ اس وقت مقامی کوہ پیماؤں کی بھی مدد لی جا رہی ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سید علی شاہ کے زندہ بچنے کی کوئی امید باقی ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ اس بارے میں فی الحال کچھ بھی حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں۔ البتہ وہ جس بلندی سے گرے ہیں اور جتنا وقت گزر چکا ہے، اس کے بعد عام طور پر امیدیں کم ہی رہ جاتی ہیں، لیکن اس کے باوجود حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہو گا۔

 

شیئر: