Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان اور ایران کے درمیان امریکہ سے مذاکرات کی بحالی پر مشاورت

پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکہ اور ایران نے جُون میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان، چین کی حمایت سے ممکنہ راستہ تلاش کر رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ کے مطابق اس سلسلے میں ابتدائی مشاورت ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی کے حالیہ دورۂ اسلام آباد کے دوران ہوئی  اور اس کی کم سے کم تین مختلف ذرائع نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات سے متعلق اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گذشتہ 10 روز کے دوران سکندر مومنی کا یہ دوسرا دورۂ پاکستان تھا، جس میں انہوں نے پاکستانی حکومتی قیادت اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کی تصدیق پاکستانی حکومت کی جانب سے جاری بیانات میں بھی کی گئی ہے۔
تینوں ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی راہ میں اب بھی بڑے چیلنجز موجود ہیں۔

آبنائے ہُرمز کی بندش سے چین کے مفادات متاثر

رپورٹ کے مطابق پاکستان ایک ایسے وقت میں ممکنہ ثالث کے کردار پر غور کر رہا ہے جب خطے کی صورت حال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔
رواں ہفتے ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا، جبکہ سعودی عرب پاکستان کا قریبی اتحادی ہے اور گذشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان باہمی دفاعی معاہدہ بھی طے پایا تھا۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ’چین مشرق وسطیٰ کی اہم تجارتی گزرگاہوں کی بحالی کے لیے سفارتی حل کا خواہاں ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش اور خلیجی ممالک پر حملے اس کے معاشی مفادات کو متاثر کر رہے ہیں۔‘
روئٹرز کے ذرائع کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گذشتہ ہفتے اپنے دورۂ چین کے دوران بھی چینی حکام سے مشرق وسطیٰ کی صورت حال اور سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔
ایک پاکستانی حکومتی عہدیدار کے مطابق ’چینی حکام خوش نہیں ہیں کیونکہ ایران کے خلیجی ممالک پر حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش سے ان کے مفادات متاثر ہو رہے ہیں۔‘
عہدیدار کے مطابق ’بحیرہ احمر میں خلل بھی چین کی ایک اور اہم تجارتی گزرگاہ کو متاثر کر سکتا ہے۔‘
وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’چین پاکستان اور دیگر ممالک کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔‘ بیان میں مزید کہا گیا کہ چین خلیجی خطے میں جلد امن اور استحکام کی بحالی کے لیے فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔

امریکہ اور ایران کئی روز سے ایک دوسرے اہداف کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں (فائل فوٹو: گیٹی)

مذاکرات کی راہ میں نئی رکاوٹیں

چین اس سے قبل بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا رہا ہے اور مارچ میں اس نے اپنے خصوصی ایلچی کو مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک کے دورے پر بھیجا تھا۔
پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکہ اور ایران نے جون میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت مستقل معاہدے کے لیے 60 روزہ مذاکراتی مدت مقرر کی گئی تھی۔
تاہم بالواسطہ مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے، جس کے بعد تنازع دوبارہ شدت اختیار کر گیا تھا۔
جمعرات کو حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جس سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے ایک اور اہم گزرگاہ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس تازہ کشیدگی نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایک پاکستانی عہدیدار نے کہا کہ ’سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر حملوں کا خاتمہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی نئے مذاکرات کی بحالی کے لیے بنیادی شرط ہوگا۔‘
عہدیدار کے مطابق ’پاکستان یہ مؤقف ایرانی حکام تک بھی پہنچا چکا ہے۔‘

شیئر: