Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کوئٹہ کے ہسپتال میں خاتون پر تیزاب حملہ، ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

خاتون کو بچانے کی کوشش کرنے والے نوجوان عبدالرازق ترہ کئی کو ہیرو قرار دیا جا رہا ہے (فوٹو: اردو نیوز)
کوئٹہ کے ایک سرکاری ہسپتال میں خاتون ڈاکٹر پر ہونے والے تیزاب حملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ مارے گئے حملہ آور کے موبائل فون کا فرانزک کیا جا رہا ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے بعد پولیس حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ واقعہ ممکنہ طور پر ذاتی رنجش کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ متاثرہ خاتون کے خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں واقعے کے محرکات کا علم نہیں اور وہ پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے کا انتظار کررہے ہیں۔
واقعے کے بعد صحت کے شعبے سے وابستہ افراد خاص طور پر خواتین ڈاکٹرز نے اپنے تحفظ سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز نے سرکاری ہسپتالوں میں ڈیوٹی سے بائیکاٹ شروع کردیا ہے جبکہ کوئٹہ میں احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی۔
دوسری جانب اس واقعے کے دوران اپنی جان خطرے میں ڈال کر متاثرہ ڈاکٹر کو بچانے کی کوشش کرنےو الے نوجوان میڈیکل ٹرینی عبدالرزاق ترہ کئی کو بلوچستان حکومت سرکاری سطح پر سول ایوارڈ کے لیے نامزد کردیا ہے۔
یہ واقعہ سنیچر کی دوپہر کو کوئٹہ میں واقع بلوچستان کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال سول سنڈیمن ہسپتال کے سرجیکل وارڈ میں پیش آیا تھا جہاں ڈیوٹی کے دوران ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ایک لفٹ آپریٹر نے مبینہ طور پر تیزاب پھینک دیا۔
حملے کے بعد ملزم موقع سے فرار ہو گیا جسے بعدازاں پولیس نے مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا جبکہ شدید زخمی ڈاکٹر کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ایئرایمبولنس کے ذریعے علاج کے لیے کراچی منتقل کر دیا گیا۔متاثرہ خاتون ڈاکٹر اس وقت کراچی کے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

وہ نوجوان جس نے جان خطرے میں ڈال کر ڈاکٹر کو بچانے کی کوشش کی

یہ واقعہ نہ صرف اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر معمولی ہے بلکہ اس نے ایک ایسے نوجوان کو بھی نمایاں کیا ہے جس نے زخمی ڈاکٹر کو بچانے کی کوشش کی۔ اب لوگ انہیں ’ہیرو‘ قرار دے رہے ہیں۔ یہ 21 سالہ نوجوان عبدالرازق ترہ کئی ہیں جو کوئٹہ کے علاقے کلی عمر طور خان روڈ کے رہائشی ہیں۔
وہ متاثرہ ڈاکٹر کو بچانے کی کوشش کے دوران خود بھی زخمی ہوئے اور کوئٹہ کے نجی ہسپتال میں زیر علاج رہے۔

واقعہ چھ جون کو کوئٹہ میں واقع بلوچستان کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال سول سنڈیمن ہسپتال کے سرجیکل وارڈ میں پیش آیا تھا (فوٹو: سکرین شاٹ)

اردو نیوز کی ٹیم جب ان کے گھر پہنچی تو لوگوں کی بڑی تعداد ان کے گھر کے اندر اور باہر جمع تھی جو ان کو پھولوں کے گلدستے پیش کررہے تھے اور ان کی ہمت کو داد دے رہے ہیں۔
ان کے بھائی اکبر خان کے مطابق واقعے کے بعد سے لوگوں کی بڑی تعداد ان سے ملنے کے لیے آ رہی ہے۔ ہم ایسے لوگوں کو بھی دیکھ رہے ہیں جو پہلے ہمیں نہیں جانتے تھے وہ آ کر عبدالرازق کو داد دے رہے ہیں، پھول لا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں ان پر فخر ہے۔
عبدالرزاق مالی طور پر کمزور خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ گورنمنٹ سنڈیمن سیکنڈری سکول میں سیکنڈ ایئر کے طالب علم ہیں اور ساتھ ہی میڈیکل ٹیکنیشن کا ڈپلومہ بھی کر رہے ہیں تاکہ جلد کوئی روزگار حاصل کر کے اپنے خاندان کا سہارا بن سکیں۔
عبدالرازق نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’18 مہینے کے ڈپلومہ کے لیے چھ مہینے ہسپتال میں ٹریننگ بھی کرنا پڑتی ہے اسی سلسلے میں روزانہ ہسپتال جانا پڑتا ہے۔‘
ان کے بقول ان دنوں ان کی ٹریننگ میڈیسن وارڈ میں چل رہی تھی لیکن واقعے کے وقت وہ سرجیکل کمپلیکس میں ایک ڈاکٹر کے انتظار میں تھے کہ اچانک ایک دل دہلا دینے والی چیخ سنائی دی۔ انہوں نے مڑ کر دیکھا تو ایک خاتون ڈاکٹر شدید تکلیف میں تھیں، ان کا چہرہ جھلسا ہوا تھا، کپڑے متاثر ہو چکے تھے اور وہ درد سے بے حال ہو کر خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’ابتدائی طور پر مجھے یہ اندازہ نہیں ہوا کہ کیا ہوا ہے وہاں لوگ جمع تھے ڈاکٹر کے پھٹے کپڑے دیکھ کر میں نے فوری طور پر اپنا کوٹ اتار کر ڈاکٹر کو ڈھانپ دیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے لگا کہ شاید ان کے چہرے پر چائے یا گرم پانی گرنے سے زخم لگے ہیں میں نے جب ڈاکٹر کے جسم پر کوٹ ڈالا تو درد سے کراتے ہوئے اس نے مجھے پکڑ لیا وہ جیسے اپنے چہرے کو نوچ رہی تھی۔ میں نے اس کے اپنے سفید کوٹ کو اس کے چہرے پر ڈالا اسی دوران تیزاب کے اثرات مجھ پر بھی پڑے اور میرے کے ہاتھ اور پیر جھلس گئے۔‘

خاتون ڈاکٹر کو بچانے کی کوشش میں عبدالرازق ترہ کئی خود بھی زخمی ہوئے (فوٹو: اردو نیوز)

عبدالرازق کا کہنا تھا کہ ’یہ سب کچھ سوچنے کا وقت ہی نہیں تھا بس یہی لگا کہ ایک انسان کو مدد کی ضرورت ہے۔ اگر اس دوران میری جان بھی چلی جاتی تو مجھے کوئی افسوس نہ ہوتا۔‘
عبدالرازق کے بھائی اکبر خان کہتے ہیں کہ رات گئے تک سب لوگ پریشان تھے کہ بوڑھے والد اور والدہ کو کیسے بتائیں گے کہ بھائی زخمی ہیں اور ہسپتال میں پڑا ہے لیکن جب بتایا تو والدین کا کہنا تھا کہ اگر بیٹا اس عمل کے دوران جان بھی گنوا دیتا تو وہ فخر محسوس کرتے۔
عبدالرازق کی بہادری کو حکومتی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نہ صرف فون پر ان کی خیریت دریافت کی بلکہ ان کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ عبدالرازق نے غیر معمولی جرات اور انسان دوستی کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ جرات مندانہ خدمات کے اعتراف میں حکومت بلوچستان انہیں سول ایوارڈ سے نوازے گی۔
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کی جانب سے سول ایوارڈ کی نامزدگی کے حوالے سے سیکرٹری سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کو باضابطہ مراسلہ ارسال کردیا گیا ہے تاکہ مقررہ قواعد کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

متاثرہ ڈاکٹر ماہ نور ناصرکون ہیں؟

ڈاکٹر ماہ نور ناصر کا تعلق بلوچستان کے ضلع دکی کے ایک بااثر قبائلی اور سیاسی خاندان سے ہے۔ ان کے والد حبیب اللہ ناصر سابق تحصیل ناظم رہے ہیں جبکہ ان کے کزنز سردار حیدر ناصر نگراں صوبائی وزیر اور خیر اللہ ناصر ضلع دکی کے ڈسٹرکٹ چیئرمین جیسے اہم سیاسی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔
خیر اللہ ناصر نے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر ماہ نور نے کوئٹہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز سے اپنی تعلیم مکمل کی اور اس کے بعد سول ہسپتال میں سرجری میں پوسٹ گریجویشن کی تربیت حاصل کر رہی تھیں۔ حملے کے بعد انہوں نے اپنے خاندان کو بتایا کہ وہ حملہ آور کو نہیں جانتی تھیں اور صرف اسے آتے جاتے دیکھا تھا۔

کراچی میں علاج اور صحت میں بہتری

ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو ابتدائی طبی امداد کے بعد پہلے کوئٹہ کے ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا اور بعد ازاں حکومت بلوچستان نے انہیں ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی کے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال منتقل کیا۔ محکمہ صحت کے حکام کے مطابق ان کے جسم کا تقریباً 13 فیصد حصہ متاثر ہوا ہے تاہم ان کی حالت اب مستحکم ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے متاثرہ ڈاکٹر کے اہلخانہ کو ہر قسم کی حکومتی مدد کا یقین دلایا ہے (فوٹو: اے پی پی)

ابتدائی طور پر خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ ان کی ایک آنکھ کی بینائی ضائع ہوسکتی ہے تاہم صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے بتایا کہ ان کے تمام اہم اعضا اور اور آنکھوں کی بینائی محفوظ رہی تاہم ان کی آنکھوں کے قرنیے میں دھندلا پن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر کا ماہرین کی نگرانی میں جاری ہے اور مجموعی حالت تسلی بخش ہے۔ حکومت نے پیشکش کی ہے کہ اگر خاندان مطمئن نہیں تو ہم دنیا کے کسی بھی اچھے ہسپتال میں ان کا حکومتی خرچ پر علاج کرانے کو تیار ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے کراچی جا کر خاتون ڈاکٹر کی عیادت کی۔ ان کے اہلخانہ سے ملاقات کر کے انہیں ہر ممکن تعاون اور امداد کا یقین دلایا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر بہادری سے اس صورتحال سے لڑ رہی ہیں اور صحت یاب ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ متاثرہ ڈاکٹر کے چہرے پر داغ مٹانے کے لیے پلاسٹک سرجری سمیت ہرممکن علاج فراہم کیا جائے گا اس سلسلے میں دنیا کے کسی بھی کونے میں خاتون ڈاکٹر کو لے جانا پڑا تو حکومت تیار ہے۔
اس واقعے کے بعد بلوچستان کے صحت کے نظام پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ تنقید بھی سامنے آئی کہ صوبے کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں ہونے والے حملے کے بعد زخمی ڈاکٹر کو وہیں مناسب علاج فراہم نہیں کیا جا سکا اور انہیں نجی ہسپتال اور پھر کراچی منتقل کرنا پڑا۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنما ڈاکٹر بہار شاہ کا کہنا ہے کہ ’یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ ہمارے سرکاری ہسپتالوں میں ابھی بھی بہت سی بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں۔ ہر مریض کراچی نہیں جا سکتاپھر ایسے لوگوں کا کیا ہو گا؟
یہ واقعہ ہسپتالوں میں سکیورٹی کے حوالے سے بھی ایک بڑا سوالیہ نشان بن کر سامنے آیا ہے۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ جس وارڈ میں یہ حملہ ہوا وہاں اس وقت سکیورٹی گارڈز موجود نہیں تھے۔ ڈاکٹر بہار شاہ کا کہنا ہے کہ اس بات کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ اس کمپلیکس میں پانچ وارڈز ہیں سب میں سکیورٹی گارڈز موجود ہوتے ہیں لیکن واقعہ کے وقت سارے گارڈز کہاں غائب تھے۔

واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ چکی ہے (فوٹو: سکرین شاٹ)

واقعے کے بعد ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے دونوں دو گروپوں نے احتجاج کیا ۔ ایک نے تمام سرکاری ہسپتالوں میں بائیکاٹ جبکہ دوسرے نے ایمرجنسی کے علاوہ سول ہسپتال میں تمام سروسز بند کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے نتیجے میں مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اتوار کو ڈاکٹرز، خواتین ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے وائی ڈی اے کے زیر اہتمام سول ہسپتال سے احتجاجی ریلی بھی نکالی۔ انہوں نے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو تحفظ فراہم کرنے، سکیورٹی میں ناکامی پر ہسپتال کے ایم ایس اور محکمہ صحت کے سیکریٹری کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ ڈاکٹر بہار شاہ کا کہنا تھا کہ دنیا میں شاید یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے کہ ایک خاتون ڈاکٹر کو دوران ڈیوٹی ہسپتال کے اندر تیزاب حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ واقعہ کے اصل محرکات سامنے لائے جائیں کہ ملزم نے یہ قدم کیوں اٹھایا اس کے کس کے ساتھ رابطے تھے ، سکیورٹی کہاں غائب تھی، ملزم کو تیزاب کہاں سے ملا۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے میڈیا معاون بابر یوسفزئی نے الزام عائد کیا ہے کہ ینگ ڈاکٹر اس معاملے پر سیاست کر رہے ہیں حکومت جائز مطالبات پر مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن دباؤ یا بلیک میل نہیں ہو گی۔
اس واقعے نے نہ صرف طبی عملے بلکہ عام شہریوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس واقعہ پر سخت رد عمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔ خاص طور پر خواتین ڈاکٹروں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے۔ احتجاج میں خواتین ڈاکٹر بھی شریک ہوئیں جنہوں نے اپنے تحفظ سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔ احتجاج میں شریک خاتون ڈاکٹر شازیہ خپلواک نے بتایا کہ خواتین پہلے ہی بہت مشکلات کے بعد اس پیشے میں آتی ہیں لیکن ہمیں نہ تحفظ ملتا ہے اور نہ ہی مناسب سہولیات، ہسپتالوں میں خواتین ڈاکٹر کو محفوظ ماحول میسر نہیں۔ انہیں ہراسانی، دھمکیوں اور تشدد کا سامنا رہتا ہے ایسے حالات میں کون اپنی بیٹیوں کو ڈاکٹر بنائے گا؟
احتجاج میں شریک متاثرہ خاتون ڈاکٹر کے رشتہ دار اور ناصر قبیلے کے ایک بزرگ حاجی دلبر خان نے کہا کہ ایسے واقعات سے لوگ اپنی بیٹیوں کو تعلیم اور ملازمت کے لیے باہر بھیجنے سے گھبرائیں گے لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم کا سلسلہ نہیں رکنا چاہیے۔

واقعے کے بعد پولیس نے تیزاب پھیکنے والے شخص کو تعاقب کر کے ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)

حملہ آور کون تھا؟

پولیس کے مطابق  حملہ آور 27 سالہ ہمایوں شاہ تھا جو نوشکی کا رہائشی تھا ۔
سول ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ہادی کاکڑ نے بتایا کہ ہمایوں شاہ گزشتہ دو سال سے سول ہسپتال میں بطور لفٹ آپریٹر کام کر رہا تھا۔ یہ سروس ایک نجی کمپنی کے ذریعے آؤٹ سورس کی گئی تھی۔ ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کے خلاف پہلے ہراسانی سمیت کسی قسم کی شکایت سامنے نہیں آئی تھی۔
پولیس کے مطابق حملہ آور کی لاش سنیچر کی شب ان کے رشتہ داروں کے حوالے کردی گئی۔ کوئٹہ پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملہ آور کے رشتہ داروں نے لاش حوالگی کے وقت بتایا کہ ہمایوں شاہ کو نفسیاتی مسائل درپیش تھے اور وہ گھر میں لڑتا جھگڑتا تھا اس نے ایک بار والدہ کو بھی مارنے کی کوشش کی۔ جائیداد کی تقسیم پر بھی جھگڑا کیا جس کے بعد اسے جائیداد کے حصے کے طور پر نقد رقم  دی گئی۔ اس کے بعد وہ الگ ہو گیا اور کوئٹہ کے ایک نجی پلازے میں رہائش پذیر تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ سے چند روز پہلے ملزم نے رہائشی پلازے سے اپنا سامان نکال لیا تھا۔ اس بات پر یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ شاید ملزم نے پہلے ہی اس واردات کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔

ملزم کی ہلاکت اور تنازع

پولیس کے مطابق حملے کے بعد ملزم فرار ہو گیا تھا اور اس کی تلاش جاری تھی۔ بعد ازاں کیچی بیگ کے علاقے میں اسے روکنے کی کوشش کی گئی تاہم اس نے پولیس پر فائرنگ کر دی جس کے بعد جوابی کارروائی میں وہ ہلاک ہو گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔
تاہم ڈاکٹر تنظیموں نے اس پولیس مقابلے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ کی شفاف تحقیقات کی جائیں تاہم محکمہ داخلہ بلوچستان کے میڈیا معاون بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ یہ کوئی مشکوک مقابلہ نہیں تھا ملزم نے درندگی کا مظاہرہ کیا پھر گرفتاری دینے کی بجائے پولیس پر فائرنگ کی اور جوابی کارروائی میں مارا گیا۔ پولیس نے آدھے گھنٹے میں اسے انجام تک پہنچایا اس پر پولیس اور حکومت کو سراہانا چاہیے۔

متاثرہ خاتون ڈاکٹر اس وقت کراچی کے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں زیر علاج ہیں (فوٹو: آغا خان یونیورسٹی ہسپتال)

اس واقعے کے محرکات ابھی تک واضح نہیں ہو سکے۔ متاثرہ ڈاکٹر کے خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک واقعہ کے محرکات کا علم نہیں۔ ڈاکٹر ماہ نور کے بھائی فرحت اللہ ناصر کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر جتنی منہ اتنی باتیں چل رہی ہیں جو ساری غلط ہیں۔ خاندان کو اب تک اس واقعہ کے محرکات کا کوئی علم نہیں۔ 
تفتیش میں ایک اور پہلو یہ بھی زیرِ غور ہے کہ آیا یہ یکطرفہ دلچسپی یا مسترد کیے جانے کا معاملہ تھا، اس حوالے سے صوبائی وزیر بخت محمد کاکڑ سے ایک انٹرویو بھی منسوب کیا جارہا ہے کہ ملزم خاتون ڈاکٹر کو گزشتہ دو ماہ سے ہراساں کررہا تھا تاہم بخت محمد کاکڑ نے اس بیان کی تردید کی ہے۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے میڈیا معاون بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ہراسمنٹ کی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی تھی۔ اب تک یہی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے شاید ڈاکٹر صاحب نے انہیں کسی بات پر ڈانٹا ہو جس کے رد عمل میں اس نے ایسا کیا ہو۔
کوئٹہ پولیس کے سربراہ ڈی آئی جی عمران شوکت نے اردو نیوز کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں واقعہ ذاتی رنجش کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے تاہم اس کی مکمل تحقیقات کریں گے۔ ملزم کے موبائل کا فرانزک جاری ہے۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہم حتمی نتیجے تک پہنچیں گے۔

شیئر: