Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’یہ دھوکہ تھا‘، انڈیا کے امتحانی پرچہ لیک سکینڈل کے نوجوان متاثرین کی درد بھری داستان

امتحانی پرچے کے لیک ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر بے ضابطگیوں نے تعلیمی نظام کے خلاف عوامی غصہ بھڑکا دیا ہے (فوٹو: روئٹرز)
انڈیا کے ایک دور دراز گاؤں میں طویل علالت کا سامنا کر رہی ایک ماں کے ساتھ پرورش پانے والی ریما بیگم کا خواب تھا کہ وہ ڈاکٹر بنیں، مگر اُن کی اپنی المناک موت کے باعث اُن کا یہ خواب ادھورا رہ گیا۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق 20 سال کی ریما بیگم کو برسوں کی محنت اور مہنگی کوچنگ کلاسز کے بعد یہ یقین تھا کہ وہ سرکاری میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے مطلوب نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔
پھر یہ خبر سامنے آئی کہ انہوں نے جو میڈیکل ٹیسٹ دیا ہے، اس کا پرچہ لیک ہو گیا ہے اور دوبارہ امتحان لینے کا حکم دیا گیا ہے۔
چند ہی دن بعد ریما بیگم کی موت واقع ہو گئی۔
مقامی میڈیا اور سماجی کارکنوں کے مطابق وہ ان کم از کم 20 طلبہ میں شامل تھی جنہوں نے اس واقعے کے بعد مبینہ طور پر اپنی جان لے لی۔
امتحانی پرچے کے لیک ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر بے ضابطگیوں کے باعث بھی ملک بھر میں احتجاجی تحریک شروع ہوئی ہے جس نے تعلیمی نظام کے خلاف عوامی غصہ بھڑکا دیا ہے، اور بہت سے طلبہ کا یہ کہنا ہے کہ یہ نظام سرے سے ہی ان کے خلاف بنایا گیا ہے۔
ریما بیگم کی موت کے ایک ماہ بعد ان کے والد رضاء الاسلام یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی ’ذہین و فطین‘ بیٹی نے امید کیوں چھوڑ دی۔
تاہم ان کا ماننا ہے کہ دوبارہ امتحان کے اعلان نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔
انہوں نے شمال مشرقی ریاست آسام میں اپنے گاؤں سے اے ایف پی کو فون پر بتایا کہ ’امتحان دینے کے بعد اسے مکمل یقین تھا کہ وہ کامیاب ہو جائے گی۔‘
انہوں نے مزید کہا ’لیکن جب پرچہ لیک ہونے کے باعث دوبارہ امتحان کا اعلان ہوا تو وہ بالکل بدل گئی اور اپنے اندر ہی سمٹ کر رہ گئی۔‘
ان کے مطابق گھر والوں کی کوئی بھی بات اسے تسلی نہ دے سکی۔

انڈیا میں سرکاری میڈیکل کالج میں داخلہ اب بھی معاشی استحکام کے لیے سب سے اہم تصور کیا جاتا ہے (فوٹو: ہندوستان ٹائمز)

رضاء الاسلام ماہی گیری کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور انہوں نے اپنی بیٹی کی تیاری پر بھاری اخراجات کیے تھے اور اسے دو سال تک بڑے شہروں کے کوچنگ سینٹرز بھیجا۔
انہوں نے کہا کہ ’میں نے اس کی تعلیم پر بہت پیسہ خرچ کیا تھا، اس لیے وہ فکر مند تھی کہ کہیں یہ سب ضائع نہ ہو جائے۔‘
خوشگوار زندگی'
ریما بیگم نئے امتحان کی تاریخ سے چند روز قبل مردہ حالت میں پائی گئی۔
اس کی موت انڈیا میں طلبہ پر پڑنے والے شدید دباؤ کو اجاگر کرتی ہے، جہاں سرکاری میڈیکل کالج میں داخلہ لینا اب بھی معاشی استحکام کے لیے سب سے زیادہ مطلوب راستوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں تیز رفتار معاشی ترقی کے باوجود، لاکھوں نوجوان اب بھی اچھی تنخواہ والی ملازمتوں کی کمی اور پیشہ ورانہ کیریئرز کے لیے سخت مقابلے کا سامنا کر رہے ہیں۔
ادبی سکالر اور سابق پروفیسر جی این دیوی نے نیشنل ایلیجبلیٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) کا حوالہ دیتے ہوئے نے کہا کہ ’اس امتحان میں کامیابی بہت سے خاندانوں کے لیے ایک خوشحال اور پُرسکون زندگی کی ضمانت سمجھی جاتی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’لیکن ان نشستوں کے خواہش مند طلبہ کی تعداد دستیاب اداروں کے مقابلے میں غیرمعمولی طور پر غیر متناسب ہے۔‘
اس سال دو ملین (20 لاکھ) سے زائد امیدواروں نے یہ امتحان دیا، جبکہ ملک بھر میں میڈیکل کی تقریباً 1 لاکھ 37 ہزار نشستوں کے لیے مقابلہ تھا۔
اس شدید مقابلے نے ایک وسیع کوچنگ انڈسٹری کو جنم دیا ہے، جہاں طلبہ برسوں تک تیاری کرتے ہیں، اور اکثر ان کے خاندانوں کو بھاری قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔
راجستھان میں کسان راجیش کمار نے اپنے بیٹے پردیپ مینا کو تین سال تک کوچنگ دلوانے کے لیے آبائی زمین فروخت کر دی اور 11 لاکھ روپے (11,400 ڈالر) قرض لیا۔
انہوں نے اے ایف پی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں روزانہ 16 گھنٹے تک کھیتوں میں محنت کرتا تھا تاکہ وہ کوچنگ کلاسز حاصل کر سکے۔‘

دوبارہ امتحان دینے والے طلبا کے لیے یہ تجربہ تھکا دینے والا ثابت ہوا (فوٹو: انڈیا ٹوڈے)

انہوں نے مزید کہا کہ ’میرا چونکہ یہ خیال تھا کہ وہ اگر ڈاکٹر بن گیا تو یہ سب محنت رنگ لائے گی اور میں بڑھاپے میں آرام دہ زندگی گزار سکوں گا۔‘
امتحان کے بعد پردیپ مینا کو پورا یقین تھا کہ وہ کامیاب ہو گیا ہے۔
راجیش کمار کو یاد ہے کہ ’اس کے بیٹے نے اسے گلے لگا کر کہا تھا،’اب تو خدا بھی مجھے ڈاکٹر بننے سے نہیں روک سکتا۔‘
لیکن دوبارہ امتحان کے اعلان کے ایک دن بعد ہی 22 سالہ نوجوان نے خودکشی کر لی۔
’دھوکہ‘
اتر پردیش میں ایک اور خاندان کو بھی اسی طرح کا صدمہ سہنا پڑا جب ان کے 21 سالہ بیٹے رتک مشرا کی موت ہو گئی۔
ان کے والد انوپ کمار مشرا نے بتایا کہ ’یہ اس کی تیسری کوشش تھی، اور اس کا کہنا تھا کہ اس بار اس کا امتحان اچھا ہوا ہے۔‘
پرچہ لیک ہونے کی خبر سامنے آنے کے ایک دن بعد اس نے اپنی جان لے لی۔
جن طلبہ نے بعد میں دوبارہ امتحان دیا، ان کے لیے یہ تجربہ نہایت تھکا دینے والا ثابت ہوا۔
19 سالہ چیتنیا اگروال نے کہا کہ ’ذہنی طور پر یہ بہت حوصلہ شکن ہوتا ہے۔‘

میڈیکل کالج میں داخلوں کے لیے شدید مقابلے نے ایک وسیع کوچنگ انڈسٹری کو جنم دیا ہے (فوٹو: فرنچائز انڈیا)

انہوں نے کہا کہ ’آپ اپنی پوری محنت کرتے ہیں اور پھر آپ کو دوبارہ امتحان دینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔‘
اساتذہ کا کہنا ہے کہ اس کے جذباتی اثرات کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔
کولکتہ کے ایک کوچنگ سینٹر کے استاد ابھیجیت پاترا نے کہا کہ ’اس امتحان کی تیاری اور اسے دینا خود ایک انتہائی دباؤ والا عمل ہے، اور یہ دوبارہ دینا آسان نہیں ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’پرچے کے لیک ہونے جیسے واقعات پہلے ہی ایک مشکل تجربے کو مزید خراب کر دیتے ہیں۔‘
سابق پروفیسر جی این دیوی کے مطابق، کئی خاندانوں کے لیے یہ سکینڈل برسوں کی قربانیوں کے بعد ایک ’دھوکے‘ جیسا محسوس ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ’داخلہ امتحانات کی تیاری اکثر مالی طور پر تباہ کن اور سماجی طور پر تھکا دینے والی ہوتی ہے، خاص طور پر ان کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے جو مہنگی نجی یونیورسٹیوں یا بیرون ملک تعلیم کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے۔‘
جی این دیوی نے کہا کہ ’وہ اس سفر کا آغاز امید کے ساتھ کرتے ہیں، لیکن جب انہیں پتہ چلتا ہے کہ پرچہ لیک ہو گیا ہے یا فروخت کیا گیا ہے تو وہ خود کو دھوکہ کھایا ہوا محسوس کرتے ہیں۔‘
دارالحکومت نئی دہلی میں جاری احتجاج سے ہزاروں کلومیٹر دور ریما بیگم کا خاندان اب بھی جواب تلاش کر رہا ہے۔

مقامی میڈیا اور سماجی کارکنوں کے مطابق پرچہ لیک سکینڈل کے بعد کم از کم 20 طالب علموں نے اپنی جان لے لی (فوٹو: اے پی)

اُن کے والد نے کہا کہ ’میں حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ امتحانات میں بے ضابطگیوں کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ایک غریب خاندان کے بچے کے لیے بہتر زندگی کا خواب دیکھنا اور اس کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا آسان نہیں ہوتا۔‘

شیئر: