Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

رائل ریزرو میں 40 غزالوں کی پیدائش، معدومیت سے دوچار جانوروں کا بچاؤ کیسے ممکن ہوا؟

امام ترکی بن عبداللہ رائل ریزرو، مملکت کے شمال مشرق میں جنگلی حیات کا دوسرا سب سے بڑا قدرتی ٹھکانہ ہے (فوٹو: ایس پی اے)
امام ترکی بن عبداللہ رائل نیچر ریزرو ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اس سال کے پہلے کواٹر کے اختتام تک ریگزارِ عرب میں معدومیت کے خطرے سے دو چار 40 عربی غزالوں کی پیدائش کا اندراج کیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اِن ہرنوں کی پیدائش سے اُن پروگراموں کی کامیابی واضح ہو جاتی ہے جو نام و نشان مِٹ جانے کے خطرے کا شکار انواع کو بچانے کے لیے متعارف کرائے گئے ہیں۔
اس کامیابی سے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی اور ریزرو میں پائیدار ایکو سسٹم کی افادیت میں اضافے کی کوششوں کے بارآور ہونے کا بھی پتہ چلتا ہے۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ عربی سینڈ ہرنوں کی پیدائش کا اندارج خصوصی ٹیموں نے فیلڈ میں مسلسل نگرانی کے بعد کیا ہے۔
اتھارٹی نے کہا کہ ریگزاروں میں رہنے والے غزالوں کی پیدائش کی شرح، امام ترکی ریزرو میں اِن جانوروں کے قدرتی ٹھکانوں کے مسلسل تحفظ اور انتظام کی پائیداری اور اعلٰی معیار کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ ایسے ماحولی حالات فراہم کرنے کا بھی ثبوت ہے جو چند خاص انواع کے جانوروں کے بچاؤ اور پیدائش کے لیے موزوں ہوں۔

اتھارٹی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جنگلی حیات کی خاص قسموں کی اُن کے قدرتی مسکن کے اندر پیدائش، تولیدی پروگراموں کے چند اہم اشاریوں میں سے ایک ہے۔
یہ پیش رفت، افزائشِ نسل اور نگہداشت کے ایسے پروگراموں پر انحصار سے آگے بڑھ کر جنگلی ماحول میں پیدائش کی طرف جانے کا ثبوت ہے جن میں تولید کا مصنوعی انتظام کیا جاتا ہے۔ اِس سے اُن حالات اور شرائط کی موجودگی کی بھی تصدیق ہوتی ہے جن کا مہیا ہونا ماحولی استحکام اور جنگلی حیات کی آبادی میں نشو و نما کے لیے ضروری ہے۔

یہ ریتیلا ہِرن، جزیرہ نمائے عرب کی سب سے نمایاں ماحولیاتی علامت ہے۔ مسلسل شکار اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اِس ہرن کی آبادی گزشتہ دہائیوں کے دوران کم ہوتی چلی گئی جس کی وجہ سے غزالوں کے تحفظ کے لیے خصوصی پروگرام دوبارہ متعارف کرائے گئے تاکہ یہ نوع محفوظ رہے اور اِس کے قدرتی مسکن کو بھی بچایا جائے۔
امام ترکی بن عبداللہ رائل ریزرو، مملکت کے شمال مشرق میں جنگلی حیات کا دوسرا سب سے بڑا قدرتی ٹھکانہ ہے۔ یہ ریزرو 91500 سکوائر کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اِس کی حدود پانچ انتظامی ریجنوں تک پھیلی ہوئی ہیں جن میں الجوف، حائل، حدودِ شمالیہ، قصیم اور مشرقی ریجن شامل ہیں۔ یہ ریزرو اپنے متنوع قدرتی مسکنوں کی وجہ سے ممتاز حیثیت رکھتا ہے جس کی گوں ناگوں اور منفرد جغرافیائی ساخت ہے۔

یہی وجہ ہے کہ یہ محفوظ ریزرو مختلف انواع کی جنگلی حیات اور نباتات کی کئی اقسام کے لیے انتہائی سازگار اور موزوں ماحول فراہم کرتا ہے۔

 

شیئر: