Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ہر چند گھنٹوں بعد ایک نئی کہانی: خوشگوار فیفا ورلڈ کپ کے آغاز پر انتظامی تنازعات کے سائے

ایران کے کم از کم 15 آفیشلز اور سٹاف ممبران کی ویزا درخواستیں مسترد کر دی گئیں (فوٹو: اے ایف پی)
یہ ورلڈ کپ میرے لیے بطور مصری سپورٹس صحافی، جو گزشتہ 16 برسوں سے عرب کھلاڑیوں کو اُن کی بلند ترین سطح پر کور کرتا آیا ہے، سب سے دلچسپ ایونٹ ہونا چاہیے تھا۔
شمالی امریکہ میں ہونے والے اس ٹورنامنٹ کے لیے غیرمعمولی طور پر آٹھ عرب ٹیموں نے کوالیفائی کیا ہے۔ عام حالات میں تو میں بے صبری سے ہر سکواڈ کی کہانیوں میں جھانکنے اور یہ دیکھنے کے لیے پرجوش ہوتا کہ وہ مقابلے میں کیسا کھیل پیش کریں گے۔
لیکن اس بار میرا دل غصے اور مایوسی سے بھرا ہوا ہے۔ اتنی بدصورتی اور ناانصافی ورلڈ کپ کے آغاز سے پہلے سامنے آ رہی ہے کہ فٹ بال پر توجہ دینا مشکل ہو گیا ہے۔ اور مجھے معلوم ہے کہ میں اکیلا نہیں ہوں۔
گزشتہ ہفتے کے دوران ہر گھنٹے کوئی نہ کوئی ورلڈ کپ سے جڑی خبر سامنے آئی جو پچھلی سے زیادہ تکلیف دہ تھی۔ جب ٹیمیں، آفیشلز، صحافی اور شائقین امریکہ پہنچنے لگے، جو 104 میں سے 78 میچز کی میزبانی کرے گا (باقی کینیڈا اور میکسیکو میں ہیں)، تو عجیب و غریب واقعات نے ہر خبر پر قبضہ کر لیا۔
عراق کے سٹرائیکر ایمن حسین کو شکاگو کے اوہیئر ایئرپورٹ پر آمد کے بعد سات گھنٹے تک پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ٹیم کے فوٹوگرافر طلال صلاح کو میزبان ملک میں داخلے کی اجازت ہی نہیں ملی۔
میں یہاں ’میزبان‘ کا لفظ بہت ڈھیلے انداز میں استعمال کر رہا ہوں، کیونکہ میزبان کہلانے کے لیے لوگوں کو ملک کے اندر آنے دینا ضروری ہے۔
ایرانی ٹیم کو اپنے امریکی ویزے آخری لمحے تک انتظار کے بعد ملے، لیکن یہ جان کر دھچکا لگا کہ اُن کے کم از کم 15 آفیشلز اور سٹاف ممبران کی ویزا درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔

ایران سے مزید خبریں آئیں کہ امریکہ نے اُن کے گروپ میچز کے لیے مختص ٹکٹ منسوخ کر دیے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

ایران، جو اپنے دو گروپ میچ لاس اینجلس اور ایک سیئٹل میں کھیلنے والا ہے، کو اپنے بیس کیمپ کو ایریزونا سے بارڈر پار میکسیکو منتقل کرنا پڑا۔ اس کی وجہ سکیورٹی خدشات اور سخت امریکی ویزا قوانین تھے، جن کے تحت ایرانی ٹیم کو ملک میں رات گزارنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایرانی ٹیم کو ہر میچ کے دن امریکہ آنا اور اُسی دن واپس جانا ہوگا۔
منگل کو، ورلڈ کپ کے آغاز سے صرف دو دن پہلے، ایران سے مزید خبریں آئیں کہ امریکہ نے اُن کے گروپ میچز کے لیے مختص ٹکٹ منسوخ کر دیے ہیں۔ صحافی طارق پانجہ نے بتایا کہ فیفا حکام نے کہا ہے کہ وہ ایران میں براہِ راست ٹکٹ فروخت نہیں کر سکے کیونکہ ایران امریکی (او ایف اے سی) پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے، جس میں مالی لین دین پر سخت قوانین لاگو ہیں۔
فیفا نے کہا ہے کہ وہ ’ایران فٹ بال فیڈریشن کے ساتھ قریبی تعاون کر رہا ہے تاکہ ایسے حل تلاش کیے جا سکیں جو ضوابط کے مطابق ہوں اور ایرانی شائقین کو زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کریں کہ وہ میچز دیکھ سکیں۔‘
یہ پہلا موقع ہے کہ ورلڈ کپ کا میزبان ملک کسی ایسے ملک کے ساتھ براہِ راست تنازع میں ہے جو ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی کر چکا ہے، اور یہ صورتحال دن بدن زیادہ پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
سینکڑوں صحافیوں اور شائقین، خاص طور پر افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ سے، نے کہا ہے کہ اُن کی ویزا درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں۔ اس نے اُن لوگوں کے لیے تلخ تجربہ پیدا کیا ہے جنہوں نے ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے وقت، پیسہ اور محنت صرف کی تھی۔

صومالی ریفری عمر عبدالقادر آرٹن کو میامی ایئرپورٹ پر گیارہ گھنٹے کی تفتیش کے بعد امریکہ میں داخلے سے روک دیا گیا (فوٹو: اے ایف پی)

فیفا کے قواعد کے مطابق ’یہ توقع کی جاتی ہے کہ ورلڈ کپ کے دوران بڑی تعداد میں افراد میزبان ملک/ممالک میں داخل اور خارج ہوں گے۔ متعلقہ گروہوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے، میزبان ملک کی حکومت سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ عمومی طور پر ویزا فری ماحول قائم کرے یا موجودہ ویزا طریقہ کار کو ان کے لیے آسان بنائے۔ جو بھی ویزا طریقہ کار اپنایا جائے، اسے غیر امتیازی انداز میں نافذ کرنا لازمی ہے۔‘
’مقابلے کی کامیابی اور میزبان ملک/ممالک کی شہرت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ شائقین اور دیگر افراد کس آسانی سے میزبان ملک/ممالک کا دورہ کر سکیں (یہاں تک کہ مختصر نوٹس پر بھی)۔‘
لیکن حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے
صومالی ریفری عمر عبدالقادر آرٹن کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ میامی ایئرپورٹ پر گیارہ گھنٹے کی تفتیش کے بعد اُنہیں امریکہ میں داخلے سے روک دیا گیا اور واپس استنبول بھیج دیا گیا۔
یہ وہی آرٹن ہیں جنہیں 2025 میں افریقی فٹ بال کنفیڈریشن نے ’ریفری آف دی ایئر‘ قرار دیا تھا اور وہ صرف سات افریقی ریفریوں میں شامل تھے جنہیں ورلڈ کپ کے لیے منتخب کیا گیا۔
اُن کی مایوسی اور بے بسی کا اظہار نیویارک ٹائمز میں شائع ہوا ’میں محض ایک ریفری ہوں جو اپنی زندگی کا سب سے بڑا خواب پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ورلڈ کپ میں آنے کا خواب۔ میرے پاس درست کاغذات اور درست ویزا تھا۔‘

فیفا کے بار بار استعمال کیے جانے والے نعرے ’فٹبال دنیا کو متحد کرتا ہے‘ کا کیا فائدہ؟ (فوٹو: اے ایف پی)

امریکی بارڈر پروٹیکشن نے ’ویٹنگ خدشات‘ کو وجہ بتایا، جبکہ فیفا نے کہا کہ وہ امیگریشن معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ نے کئی ممالک پر سخت سفری پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جن میں ایران، آئیوری کوسٹ، سینیگال، ہیٹی اور ڈی آر کانگو جیسے ورلڈ کپ کوالیفائیڈ ممالک بھی شامل ہیں۔
یہ سب کچھ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ امریکہ نے اپنی سرحدوں کو بند کرنے کی پالیسی کھلے عام اپنا لی ہے۔ ویزا پچھلے ڈیڑھ سال سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے، اور اب ورلڈ کپ کے آغاز پر کھلاڑیوں، آفیشلز اور صحافیوں کی آمد (یا عدم آمد) کسی کو حیران نہیں کر رہی۔ لیکن یہ سب کچھ قابلِ قبول بھی نہیں ہے۔
ایک ملک کے لیے کامیاب ورلڈ کپ یا اولمپک کھیل، جن کی میزبانی امریکہ 2028 میں لاس اینجلس میں کرے گا، اس حقیقت پر منحصر ہے کہ وہ دنیا کے لیے اپنے دروازے کھولنے اور سب کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہو۔
جو کچھ ہو رہا ہے وہ بالکل اس کے برعکس ہے اور اس پر کوئی کچھ نہیں کر سکتا، حتیٰ کہ فیفا بھی نہیں، جو محض تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
فیفا کے بار بار استعمال کیے جانے والے نعرے ’فٹبال دنیا کو متحد کرتا ہے‘ کا کیا فائدہ؟ وہ کس دنیا کی بات کرتے ہیں؟
سابق انگلینڈ اور آرسنل کے سٹرائیکر ایان رائٹ نے ریفری آرٹن کو روکے جانے پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’ہر چند گھنٹے بعد ایک نئی کہانی سامنے آتی ہے، شائقین کو روکا جا رہا ہے، کھلاڑیوں کو روکا جا رہا ہے، آفیشلز کو روکا جا رہا ہے، صحافیوں کو روکا جا رہا ہے، اور اب ریفریوں کو بھی۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے کھیل اور سب سے بڑے ٹورنامنٹ کے میزبان کا رویہ ہے؟‘

میڈو نے ان انتظامی مسائل کا بھی حوالہ دیا جو گزشتہ سال امریکہ میں فیفا کلب ورلڈ کپ کے دوران سامنے آئے تھے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اسی طرح مصر اور ٹوٹنہم کے سابق سٹرائیکر احمد حسام ’میڈو‘ نے اپنے شو ’اوضت اللبس‘ میں کہا کہ ’یہ واضح ہے کہ ہم ایک مسائل سے بھرپور ورلڈ کپ دیکھنے جا رہے ہیں۔‘
میڈو نے کہا کہ ’دنیا بھر سے شائقین نے میچ دیکھنے اور ورلڈ کپ سے لطف اندوز ہونے کے لیے ہوائی جہاز کے ٹکٹ اور رہائش بک کر لی، لیکن ان کے ویزے مسترد کر دیے گئے۔ اور اس نے عوام میں فطری طور پر شدید غصہ پیدا کیا۔‘
’ہر کوئی سوچ رہا ہے، میڈیا کہاں ہے، اور وہ تمام لوگ کہاں ہیں جو چار سال پہلے ورلڈ کپ کے دوران قطر پر تنقید کر رہے تھے؟ وہ اب کہاں ہیں؟ وہی لوگ جو قطر پر سخت تنقید کر رہے تھے، جس نے میری رائے میں ایک شاندار ورلڈ کپ منعقد کیا، ایسا ورلڈ کپ جو پوری دنیا کی عزت افزائی کرتا ہے، صرف عربوں کی نہیں، وہ اب کہاں ہیں؟ وہ خاموش ہیں۔‘
’پھر بھی، ذمہ داری فیفا کے کندھوں پر ہے، جسے کم از کم ورلڈ کپ سے متعلق تمام اہم شخصیات کے بلا رکاوٹ داخلے کی ضمانت دینی چاہیے۔ یہ کسی بھی بڑے ایونٹ کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔‘
میڈو نے ان انتظامی مسائل کا بھی حوالہ دیا جو گزشتہ سال امریکہ میں فیفا کلب ورلڈ کپ کے دوران سامنے آئے تھے اور خبردار کیا کہ اسی طرح کے مسائل، جیسے موسم کی وجہ سے کھیلوں کا معطل ہونا ’ٹورنامنٹ کو ختم کر سکتے ہیں۔‘

فیفا صدر جیانی انفانتینو نے بار بار کہا تھا کہ ’تمام ٹیمیں اور اُن کے شائقین کو امریکہ میں خوش آمدید کہا جائے گا۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)

انہوں نے مزید کہا کہ ’میں امید کرتا ہوں کہ منتظمین کک آف سے پہلے ان مسائل پر کام کریں کیونکہ ہم ورلڈ کپ سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔ ہم یہ نہیں دیکھنا چاہتے کہ کوئی ٹیم ایک اہم کھلاڑی یا اہم عملے کے بغیر مقابلہ کرے کیونکہ وہ ایک ملک سے دوسرے ملک یا ایک ریاست سے دوسری ریاست سفر کر رہے ہیں۔ ہم یہ نہیں دیکھنا چاہتے کہ کھیل شروع ہوں اور پھر 30 منٹ کے لیے معطل ہو جائیں۔ اس طرح کی چیزیں میرے خیال میں ٹورنامنٹ کو ختم کر دیں گی، اور اس خیال کو بھی ختم کر دیں گی کہ ایک ایسا ٹورنامنٹ جس کا دنیا چار سال سے انتظار کر رہی ہے، اس سے لطف اندوز ہوا جا سکے۔‘
فیفا صدر جیانی انفانتینو نے بار بار کہا تھا کہ ’تمام ٹیمیں اور اُن کے شائقین کو امریکہ میں خوش آمدید کہا جائے گا۔‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اُن کے پاس امریکی امیگریشن پالیسی پر کوئی اختیار نہیں۔ فیفا کے پاس اختیار صرف اس بات پر ہے کہ ورلڈ کپ کی میزبانی کس ملک کو دی جائے۔ اور اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔
لوگ اکثر کہتے ہیں کہ کھیل اور سیاست کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ میں نے کبھی اس نظریے کو درست نہیں مانا۔ کھیل معاشرے کی عکاسی ہے اور سو فیصد سیاست کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اس کے برعکس سوچنا ایک خیالی اور غیر حقیقی تصور ہے۔
یہ ورلڈ کپ اس بات کا حتمی ثبوت ہے۔
اگرچہ ’خوبصورت کھیل‘ اکثر سب چیزوں سے بلند ہو جاتا ہے اور ہمیں وقتی طور پر حقیقی دنیا سے غافل کر دیتا ہے، اس بار، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہوگا۔ اس بار، حقیقت سب پر غالب ہے۔

 

شیئر: