حدودِ شمالیہ کے لوک فنون اور ثقافتی شناخت نسل در نسل برقرار
روایتی لوک فنون منفرد انداز اور خصوصی آہنگ کے حامل ہیں ( فوٹو: ایس پی اے)
حدودِ شمالیہ میں لوک فنون، آج بھی مملکت کے شمالی حصوں کی ثقافتی شناخت کا سب سے دیرپا اظہار ہیں۔ یہ فنون، رسم و رواج کے ایک زرخیز ورثے، روایتوں اور اُن سماجی اقدار کو اجاگر کرتے ہیں جو نسل در نسل منتقل ہوتی چلی آئی ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق مخصوص مواقع کے لیے روایتی پرفارمنسز کے علاوہ، آرٹ کی یہ مختلف شکلیں ایسی ثقافتی زبان بن چکی ہیں جو کمیونٹی کی یادداشت کو محفوظ بناتی ہیں، وہاں کے رہنے والوں کی کہانیاں سُناتی ہیں اور علاقے کے لوگوں کی اصل تاریخی شناخت اور صحرا سے اُن کے گہرے تعلق کا اظہار ہیں۔
لوک فنون، قومی، سرکاری اور کمیونٹی تقاریب میں خاص طور پر توجہ حاصل کرتے ہیں جس سے مختلف ایونٹس اور خوشیوں کے مواقع پر مملکت کی میراث کے روایتی رنگوں کی جھلک نظر آتی ہے۔ اِس کے علاوہ ایسی تقریبات نوجوان نسل کو علاقے کی ثقافتی وراثت سے متعارف بھی کروا رہی ہوتی ہیں۔
اِس علاقے میں سب سے زیادہ جوش و خروش سے منائی جانی والی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کا ایونٹ ’الدحہ‘ ہے جسے حدود شمالیہ کی لوک پرفارمنس میں سب سے نمایاں مقام حاصل ہے۔
گہری تاریخ اور سماجی اہمیت رکھنے والی اس تقریب میں شرکا ایک دوسرے کے سامنے یا قریب قریب متوازی صفوں میں لوک رقص کرتے ہیں۔ اُن کے منہ سے بیک وقت نکلنے والی آوازیں، اُن کے جسم کی یکساں جنبشیں اور ایک جیسے اشارے، اتحاد، یگانگت اور سماجی ہم آہنگی کی علامت ہوتے ہیں۔

اِسی طرح ’ربابہ‘ کی روایتی موسیقی کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ تاروں سے بنا ایک ساز ہوتا ہے جو مدتوں سے صحرا نشین عربوں کی زندگی سے منسوب سمجھا جاتا ہے۔
اِن اجتماعات اور لوک شاموں کا انتہائی خاص پہلو، ’ربابہ‘ کی موسیقی ہوتی ہے جو اب صحرائی کلچر کی پائندہ روایت اور مملکت کے شمالی علاقوں کی پہچان بن چکی ہے۔

اِس ریجن میں طرح طرح کے دیگر روایتی لوک فنون بھی ہیں جن میں ہر ایک منفرد انداز اور خصوصی آہنگ کا حامل ہے۔ لیکن اِن تمام لوک آرٹس میں جو بات مشترک ہے وہ مملکت کے ثقافتی ورثے کو باقی رکھنا، اِسے سراہنا اور محفوظ کرنا ہے۔
حدودِ شمالیہ کے علاقے میں منعقد ہونے والے ورثے کے فیسٹیول اور ثقافتی ایونٹس، وہاں کی قدیم روایات کو باہر سے آنے والوں اور وہاں کے رہائشیوں کے سامنے ایک ہی طرح سے پیش کرتے ہیں جس میں سعودی عرب کے ثقافتی مناظر کے دلکش سلسلے اور اُس کے گُوں نا گُوں خوبصورت پہلوؤں سے شمالی علاقوں کی رنگا رنگی امتیازی علامت کے طور پر نظر آتی ہے۔
