اس سے قبل پاکستان نے حریف ٹیم کی جانب سے پہلی اننگز میں بنائے گئے 311 رنز کے جواب میں 199 رنز سے آگے بڑھائی جبکہ اس کے تین کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے۔
اگرچہ شان مسعود نے پوری ٹیم کو سہارا دیا اور 109 رنز کی شاندار اننگ کھیلی تاہم ان کے آؤٹ ہوتے ہی صورت حال بدل گئی، ان کے بعد بلے باز آتے اور جاتے گئے۔
وکٹ کیپر محمد رضواں 12 رنز بنا پائے جبکہ عامر جمال تین سے آگے نہ بڑھ سکے، اسی طرح علی عثمان بغیر کوئی رن بنائے اؤٹ ہوئے تو خرم شہزاد نے 19 رنز بنا کر ٹیم کے مجموعی سکور میں اضافے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں وہ 282 تک پہنچا جبکہ محمد عباس کریز پر آئے تو ضرور مگر صفر پر ہی واپسی کی راہ لی۔
ویسٹ انڈیز کے بولر جسٹن گریو نے پاکستانی بلے بازوں کی ایک نہ چلنے دی اور پانچ کو پویلین کی راہ دکھائی۔
ویسٹ انڈیز کی دوسری اننگز
پاکستان کی پوری ٹیم آؤٹ ہونے کے بعد بھی ویسٹ انڈیز کو 29 رنز کی برتری حاصل تھی کیونکہ وہ اپنی دوسری اننگز میں 311 رنز بنا چکی تھی۔
پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا (فوٹو: اے ایف پی)
اس کے باوجود بھی جب ویسٹ انڈیز کے بلے باز کریز پر آئے تو زیادہ ٹک نہیں سکے اور محض 43 رنز کے دوران اس کی چار وکٹیں گر گئیں۔
اس کے بعد جب سکور 80 تک پہنچا تو تاگی نارائن چندر پال بھی 35 رنز پر آؤٹ ہو گئے، ان کے بعد آنے والے جسٹن گریوز نے مجموعے میں 20 رئز کا اضافہ کیا جبکہ 93 کے مجموعی سکور پر کپتان روسٹن چیپس بھی پانچ رن بنانے کے بعد پویلین لوٹ گئے۔
تیسرے روز کے کھیل کے اختتام کے وقت ویسٹ انڈیز نے سات وکٹوں کے نقصان پر 126 رنز بنائے یوں اس کو پاکستان پر 155 رنز کی برتری حاصل ہو گئی ہے۔
ویسٹ انڈیز کی جانب سے شیمار جوزف 22 اور کیمار رش پانچ رنز کے ساتھ کریز پر موجود ہیں۔
پاکستانی بولر محمد عباس نے تین کھلاڑیوں کو آؤت کیا جبکہ خرم شہزاد نے ایک وکٹ حاصل کی۔
190 رنز بنانے والے شان مسعود کے آؤٹ ہونے کے بعد کوئی بیٹر زیادہ وقت کریز پر نہ گزار سکا (فوٹو: اے ایف پی)
ویسٹ انڈیز پہلی کی اننگز
میچ کے دوسرے روز ویسٹ انڈیز نے پہلی اننگز کا آغاز 194 سکور تین کھلاڑی آؤٹ سے کیا تھا۔ اس کے بعد کیوم ہوج 84 رنز بنا کر پویلین لوٹے جبکہ شے ہوپ نے 92 رنز بنائے۔
ویسٹ انڈیز کی وکٹیں یکے بعد دیگرے گرتی رہیں اور پوری ٹیم کھانے کے وقفے کے بعد 311 کے رنز پر آؤٹ ہو گئی۔
پاکستان کی جانب سے محمد علی نے چار بلے بازوں کو پویلین بھیجا جبکہ محمد عباس نے تین، خرم شہزاد نے دو اور عامر جمال نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
پاکسان کی پہلی اننگز
ویسٹ انڈیز کی جانب سے 311 رنز کے جواب میں پاکستان نے جب بیٹنگ شروع کی تو آغاز زیادہ اچھا ثابت نہ ہوا اور اذان اویس صفر پر آؤٹ ہو گئے تھے۔
اس کے بعد کھیل میں کچھ استحکام اس وقت دیکھنے میں آیا جب شان مسعود اور امام الحق نے 155 رنز کی پارٹنرشپ کی تاہم کچھ دیر بعد امام الحق 63 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے جبکہ بابر اعظم 23 رنز بنا پائے تھے۔