Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف کے پانچ سال، ماحول اور جنگلی حیات کے تحفظ میں تاریخی کامیابیاں

سعودی عرب میں جنگلی حیات کے قومی مرکز (این سی ڈبلیو) نے گزشتہ پانچ برس میں کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور حیرت انگیز تبدیلی کے ذریعے نہ صرف مرکز کا ادارہ جاتی فریم ورک بنایا ہے بلکہ سائنسی تحقیق، فیلڈ کے کاموں اور ٹیکنالوجی کے پروگراموں کے ذریعے ایک پائیدار ماحولیاتی تاثر بھی قائم کیا ہے۔
اِس  پروگرام نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، معدومیت سے دوچار جانوروں کی انواع کی بحالی اور علاقائی اور عالمی سطح پر مملکت کی اُس حیثیت کو تقویت دی ہے جو وژن 2030  کے اہداف سے ہم آہنگ ہو کر ماحولیاتی نظام کو بچانے اور باہمت انیشیٹیوز پر عمل پیرا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سنہ 2021 سے سنہ 2025 تک، (این سی ڈبلیو) نے معلومات کا ایک ایسا ذخیرہ تیار کیا ہے جس کی بنیاد پر جنگلی حیات کی انواع اور مساکن کو سمجھ کر فیصلے کرنے کا ایک نظام مرتب کیا گیا ہے جس میں مختلف عوامل و وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے افراد باہم مِل جُل کریں گے۔
اس کے علاوہ مرکز کی جانب سے سمندری ’ریڈ سِی ڈیکیڈ ایکسپیڈیشن‘ کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں چھپے ماحولیاتی اور جنگلی حیات جیسے بیش قیمت خزانوں کی تلاش اور ان پر تحقیقی کام کرنا تھا۔
اس مُہم کے دوران 2750 میٹر سے زیادہ گہرائی تک سروے کیے گئے جن سے اہم ترین سائنسی دریافتیں ہوئیں اور ماحولیاتی نظاموں کے بارے میں بہت سی سائنسی معلومات سامنے آئیں جن میں خاص طور پر بلیو ہولز یا نیلے گڑھے قابلِ ذکر ہیں۔
بلیو ہولز، کئی ملین سال پہلے اُس وقت وجود میں آنا شروع ہوئے تھے جب سمندروں کی تہہ میں پانی کی سطح بہت کم تھی۔ وہاں پر موجود چونے کے پتھروں نے بڑے بڑے عمودی غاروں کی شکل اختیار کر لی۔ بارشوں اور ہواؤں سے اِن گڑھوں کی چھتیں رفتہ رفتہ گرنا شروع ہوئیں۔

گلیشیئرز کے پگھلنے سے سمندروں میں پانی بڑھ گیا اور سطحِ سمندر سے سینکڑوں میٹر نیچے تک واقع یہ بڑے گڑھے پانی سے بھر گئے۔ چونکہ گہرے پانی میں سورج کی روشنی زیادہ جذب ہوتی ہے لہذا اِن گڑھوں کے درمیانی حصے گہرے نیلے رنگ کے دکھائی دیتے ہیں۔ اِسی وجہ سے انھیں بلیو ہولز کہتے ہیں۔ 
جنگلی حیات کے قومی مرکز نے مملکت بھر میں زمینی اور سمندری ماحول میں حیاتیاتی تنوع کی سائنسی نگرانی کے میدان میں بھی کئی پیش قدمیاں کیں ہیں۔ سردیوں میں ہونے والے سروے ظاہر کرتے ہی کہ پرندوں کی تعداد بڑھ کر ایک لاکھ 40 ہزار ہو چکی ہے۔ اس سروے میں حیاتیاتی تنوع کے 180 علاقوں کا ازسرِنو جائزہ لیا گیا۔
مرکز نے غیر فقاریہ جانوروں کا جامع دستاویزی اندارج بھی کیا جس میں 464 جانوروں کی ایسی انواع کا اضافہ ہوا ہے جن کا مملکت میں پہلے کوئی ریکارڈ نہیں تھا۔ ان میں 86 انواع ایسی ہیں جن کے بارے میں سائنسی معلومات بھی بہت کم ہیں۔ اِس سے مملکت کے بیش قیمت قدرتی ورثے کی اہمیت سامنے آتی ہے اور اِس کے تحفظ پر دی جانے والی بڑھتی ہوئی توجہ کا علم بھی ہوتا ہے۔

تحقیق اور جدت کے شعبے میں قومی مرکز نے اپنی سائنسی حیثیت کو مزید مستحکم کیا ہے اور اہم جرائد میں اُس کے 82 ایسے تحقیقی مقالے شائع ہوئے جن کی ماہرین نے اشاعت سے پہلے تفصیل سے چھان پھٹک کی تھی۔
اِن کوششوں سے قومی ڈیٹابیس کو تقویت ملی ہے اور مختلف انواع کے جانوروں اور اُن کے ٹھکانوں کو تحفظ دینے کے پروگراموں اور منصوبوں میں ترقی ہوئی ہے۔ قومی مرکز نے محفوظ مقامات پر واقع 1742 ہیکٹر پر پھیلے ہوئے جانوروں کے ایسے مسکنوں کو جو خرابی کا شکار تھے۔
اس کے علاوہ 72 سمندری مقامات کو بھی بحال کیا گیا ہے جہاں خستگی، سر اٹھا رہی تھی جبکہ مملکت کے 65 ایسے ماحولیاتی نظاموں میں سے جن کو باقاعدہ ریکارڈ کیا گیا ہے، 52 کا دستاویزی اندراج بھی کیا ہے۔

جنگلی حیات کے قومی مرکز نے اپنے فیلڈ آپریشنز میں جدید ٹیکنالوجیوں کا استعمال کیا جن میں ڈرون، سمارٹ کیمرے، مصنوعی ذہانت کے نظام، ٹریکنگ ڈیوائسزز، پانی کے اندر چلنے والی خود کار گاڑیاں اور ایسے سینسر جن کی بنیاد سیٹیلائٹس پر ہے، استعمال کیے۔ اِن سہولتوں کی وجہ سے مرکز کا عملہ کئی ملین سکوائر کلو میٹر پر پھیلے ہوئے ارضی اور بحری ماحولی نظام کی نگرانی کرنے کے قابل ہو سکا۔

 

شیئر: