Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سترہ لاکھ حجاج کی میزبانی کوئی معمولی کارنامہ نہیں: لوک سبھا کے سابق رکن امتیاز جلیل

امتیاز جلیل نے کہا کہ حج کے سفر میں 112 کلو میٹر پیدل چلے ہیں (فوٹو: ایکس اکاؤنٹ)
ہر سال دنیا بھر سے مسلمان فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب آتے ہیں اور اس روحانی سفر کی خوشگوار یادیں لیے مملکت سے رخصت ہوتے ہیں۔
اس سال حج کرنے والوں میں لوک سبھا کے سابق رکن اور مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما امتیاز جلیل شامل تھے۔
امتیاز جلیل، انڈیا میں مسلمانوں کی دبنگ اور توانا آواز ہیں۔ 24 سال صحافت میں گزارنے کے بعد اب سیاست کے میدان میں مسلمانوں کو متحد کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔
2014 میں سیاسی خاندانی پس منظر کے بغیر پہلا الیکشن لڑا اور اورنگ آباد سے مہاراشٹر اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، پھر 2019 میں عوام نے اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں لوک سبھا میں بھیجا۔
اردونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’2018  میں پہلی مرتبہ حج کیا۔ اس وقت صحافی تھا اور سرکاری مہمان بنا، دل میں خواہش تھی کہ ایک حج اپنے پیسوں سے بھی کروں جو پوری ہو گئی۔‘
انہوں نے سفر حج کو جسمانی اور ایک خاص روحانی تجربہ قرار دیا ’حج کے سفر میں 112 کلو میٹر پیدل چلا ہوں، میرا مشورہ ہے حج نوجوانی میں کرنا چاہیے۔‘

انہوں نے اس سال حج کے تجربے کو خوشگوار قرار دیا۔ سعودی حکومت کے حج انتظامات کی تعریف کی اور کہا کہ ’دنیا بھر سے 1.7 ملین سے زائد حجاج  کی میزبانی کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔‘
2018  اور اب 2026 میں حج انتظامات کے حوالے سے انہوں نے ٹرانسپورٹ سسٹم خصوصاً حرمین ٹرین کی تعریف کی۔ جدید انفراسٹرکچر، حرم کی توسیع، عازمین کے لیے خدمات اور سہولتوں کو سراہا۔
امتیاز جلیل کا کہنا تھا کہ ’حج سیزن میں مکہ ایک عالمی اجتماع کا روپ دھار لیتا ہے، پتہ چلتا ہے دنیا بھر میں اسلام کہاں کہاں پھیلا ہوا ہے، ہر رنگ و نسل کے لوگ یہاں جمع ہوتے ہیں۔ ایک ایسی کیفیت محسوس ہوتی ہے جسے بیان کرنا مشکل ہے۔ یہ اجتماع، دینِ اسلام کی آفاقیت اور متنوع ثقافتیں رکھنے کے باوجود، مسلم دنیا کے اتحاد کو اجاگر کرتا ہے۔‘

انہوں نے  کہا کہ ’انڈیا اور سعودی عرب کے تعلقات دیرینہ ہیں۔ دونوں ملکوں کا رشتہ بہت مضبوط رہا ہے اور رہے گا۔ انڈین کمیونٹی یہاں سے زرِ مبادلہ اپنے ملک بھیجتی ہے، جس سے معیشت کو مدد ملتی ہے۔‘
صحافت سے سیاست تک سفر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’بطور صحافی جس اسمبلی کو کور کیا، اسی اسمبلی میں جا کر عوام کا مقدمہ لڑا۔ یہ میرے لیے مشکل نہیں رہا۔ مسلم ووٹ تو بہت زیادہ ہیں لیکن کوئی قیادت نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’آج بھی مسلمان اگر ایک پلیٹ فارم پر آجائیں تو جیت سکتے ہیں، اسمبلیوں میں نمائندگی بڑھ سکتی ہے۔ اپنے حقوق کے لیے بہت کچھ  کر سکتے ہیں۔‘

 

 

شیئر: