اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ محکمہ کسٹم کے سابق آفیسر تھے۔ اس سے قبل بیشتر بار حج پر آنے کی خواہش کی مگر رواں برس مقدر میں یہ سعادت لکھی گئی تھی۔
حاجی مصطفیٰ پہلی بار سعودی عرب آئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مملکت کے بارے میں جتنا سنا تھا اس سے بڑھ کر پایا۔
مکہ روٹ انیشیٹیو کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’یہ اقدام سعودی حکومت کا کارنامہ ہے جس سے حجاج کو بہت سہولت ہوئی ہے۔ حجاج کا امیگریشن ان کے ملک میں ہی ہو جاتا ہے اور کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پرتا۔‘
زندگی میں پہلی بار کعبہ شریف کو دیکھنے کے بعد اپنے دلی احساسات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’کرۂ ارض پر سب سے متبرک مقام ہے۔ کعبہ کو دیکھ کر قلبی سکون اور آنکھوں کو ٹھنڈک کا احساس ہوا۔‘
حرمین شریفین کے لیے سعودی حکومت کی خدمات مثالی ہیں (فوٹو: اردونیوز)
ایام حج میں سعودی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات کے حوالے سے حاجی مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ ’حج کا رکنِ اعظم میدان عرفات بہت شاندار ہے۔ جبل الرحمہ پر گرمی کا قطعی احساس نہیں ہوا۔ ایسا روحانی و پرسکون ماحول تھا کہ وہاں سے جانے کو دل نہیں کر رہا تھا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جوانوں کو میری نصحیت ہے کہ وہ زندگی کا اہم فریضہ ادا کرنے میں جلدی کریں، دنیاوی کام ہوتے رہیں گے۔ وقت اور زاد راہ کا جیسے ہی بندوبست ہو اس سفرِ مقدس پر نکلنے میں تاخیر نہ کریں۔‘