Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’جب پہلی مرتبہ کعبے کو دیکھا‘: میری دنیا ہی بدل گئی، ملائیشین حاجی کے تاثرات

اپنے تجربے سے کہتا ہوں کہ حج جوانی میں ہی کیا جائے تو بہتر ہے،( فوٹو: اردو نیوز)
ملائیشیا سے آنے والے کیمیکل انجیئنر میزان آزری بن مارسری کا کہنا ہے ’حج کا سفر مشقت والا ہے مگر اسے حسین مشقت کہوں گا، اپنے تجربے سے کہتا ہوں کہ حج جوانی میں ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔‘
 اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’سالِ رواں حج ادا کرتے ہوئے مجھے اس بات کا شدید احساس ہو رہا ہے کہ جوانی کےایام غیرضروری کاموں میں گزار د یے، اگر حج ان دنوں کرلیا ہوتا تو اچھا تھا، تاہم ہم رب کریم سے دعا گو ہوں کہ وہ فریضہ کو قبول فرمائے۔‘
گزرے ماہ و سال کے حوالےسے ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے میرے شب و روز ایک دنیا دار نوجوان کی طرح گزرتے تھے، مجھے اسلام کے بارے میں علم نہیں تھا اور نہ مذہب کے حوالے سے ٹھوس معلومات تھیں، ایک عام مسلمان تھا۔‘
 زندگی میں آنے والی تبدیلی کے سوال پر کہنا تھا ’سال 2018 میں دوستوں کے ساتھ عمرہ پر آیا، جب پہلی بار بیت اللہ کی زیارت کر رہا تھا تو میرے اندر کی دنیا جیسے تبدیل ہو گئی، آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لیتے تھے، مجھے ایسا لگا کہ جس دلی سکون کا میں متلاشی تھا وہ مجھے مل گیا۔‘
حاجی میزان نے مزید کہا ’پہلا عمرہ کرنے کے بعد جب واپس وطن پہنچا تو میری دنیا ہی بدل چکی تھی اب میں نے دینی حلقہ درس میں جانا شروع کردیا جس سے مجھے بہت کچھ معلوم ہوا جن سے میں لاعلم تھا۔‘

سعودی حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی خدمات مثالی ہیں( فوٹو: اردو نیوز)

سعودی حکومت کی جانب سے مشاعر مقدسہ میں فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا’ فراہم کی جانے والی خدمات مثالی ہیں، ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔‘
’خاص طور پر میدان عرفات میں جبل الرحمہ کے اطراف گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لیے جو اوپن ایئر کولنگ سسٹم کی تنصیب کا کام ہے وہ شاندار ہے، جس کی وجہ سے جبل الرحمہ کے مقام پر ایسا محسوس ہورہا تھا کہ گرم ہوا کو یک دم سرد میں تبدیل کردیا گیا ہو۔‘

شیئر: