کوئٹہ میں اپنی بیوی اور چار کم عمر بچوں کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کی کوشش کرنے والے سرکاری ملازم آصف خان گورگیج کے کیس میں پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرلیا اور دو سرکاری افسران سمیت تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس نے آصف کے بھائی کی مدعیت میں گرفتار افراد اور ایک خاتون کے خلاف قتل، قتل بہ سبب سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں گریڈ 19 کے ڈائریکٹر محکمہ سمال انڈسٹریز محمد اقبال سرپرہ، گریڈ 18 کے انڈر سیکریٹری محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی آفتاب جبل اور ایک سرکاری ڈرائیور مسعود احمد مینگل شامل ہیں۔ مقدمے میں نامزد آفتاب جبل کی اہلیہ جو سرکاری ٹیچر ہیں کو تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔
مزید پڑھیں
حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش سیریس کرائمز انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش میں محمد آصف کی اہلیہ اور گرفتار دو ملزمان کے موبائل فون پر رابطے کے شواہد ملے ہیں تاہم ان رابطوں کی نوعیت ابھی واضح نہیں ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیر کو کوئٹہ کے علاقے وحدت کالونی میں پیش آیا تھا جہاں سول سیکریٹریٹ میں کلرک کے طور پر تعینات آصف خان نے اپنی اہلیہ زینب اور چار کم عمر بچوں کو گولیاں مار کر قتل کرنے کے بعد خود کو بھی گولی مار لی تھی۔
محمکہ داخلہ کے میڈیا معاون بابر یوسفزئی کے مطابق کہ آصف کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ بعد ازاں دم توڑ گئے تھے تاہم اہل خانہ ابھی تک ان کی موت کی تصدیق نہیں کی۔
اہل خانہ کے مطابق آصف خان کو نجی ہسپتال میں کئی گھنٹوں تک وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا ۔ ان کے بھائی ظریف خان گورگیج نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے انہیں برین ڈیڈ قرار دیا تھا تاہم ان کی دل دھڑکیں چل رہی تھیں۔ زندہ بچ جانے کے امکانات نہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر کے مشورے کے بعد انہیں وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق آصف خان کی دل کی دھڑکن ابھی تک چل رہی ہے۔
خاتون اور چار بچوں کی نماز جنازہ ٹی اینڈ ٹی کالونی میں ادا کر دیا گیا جبکہ آبھائی کا کہنا ہے کہ آصف کی اہلیہ اور بچوں کی لاشیں ان کے حوالے کر دی گئی ہیں جن کی تدفین کوئٹہ میں کردی گئیں جبکہ آصف اب تک ہسپتال میں ہے۔

ظریف خان گورگیج نے اردو نیوز کو بتایا کہ ان کے چھوٹے بھائی آصف خان گزشتہ چند روز سے ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار نظر آ رہے تھے تاہم بار بار پوچھنے کے باوجود انہوں نے اپنی پریشانی کی وجہ نہیں بتائی۔
ان کے بقول خودکشی سے قبل آصف خان نے ایک ویڈیو اور متعدد وائس پیغامات اپنے رشتہ داروں اور ایک سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کو بھیجے تھے جن میں انہوں نے بعض سرکاری افسران پر ہراساں کرنے، بلیک میل کرنے اور دھمکیاں دینے کا ذکر کیا تھا۔
ظریف خان کی شکایت پر پولیس نے تھانہ شہید امیر محمد دستی میں اقبال سرپرہ، آفتاب جبل، مسعود احمد مینگل اور آفتاب جبل کی اہلیہ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق آصف کے بھائی نے مقدمے کا اندراج انہی ویڈیو اور آڈیو پیغامات کی بنیاد پر کرایا ہے۔ ایف آئی آر میں قتل، قتل بالسبب اور خودکشی پر اکسانے سے متعلق دفعات شامل کی گئی ہیں۔ مدعی ظریف خان کا موقف ہے کہ نامزد افراد نے ان کے بھائی کو مسلسل ذہنی دباؤ میں رکھا جس کے نتیجے میں وہ اس انتہائی اقدام پر مجبور ہوئے۔
اس کیس کی تفتیش سے باخبر پولیس کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ تفتیش کا مرکزی نکتہ ویڈیو بیان، ڈیجیٹل اور فرانزک شواہد ہیں۔ آصف خان، ان کی مقتولہ اہلیہ زینب اور گرفتار ملزمان کے موبائل فون قبضے میں لے کر فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دیے گئے ہیں جبکہ کال ڈیٹا ریکارڈز ( سی ڈی آر) بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔
ان کے بقول ابتدائی تکنیکی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مقدمے میں نامزد دو افراد کا مقتولہ زینب سے مسلسل ٹیلی فونک رابطہ رہا ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ان روابط کی نوعیت کے بارے میں حتمی رائے ابھی نہیں دی جا سکتی۔
حکومتی ترجمان وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون شاہد رند کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ ثابت نہیں ہوا کہ آصف خان کی جانب سے ویڈیو میں لگائے گئے بلیک میلنگ، دھمکیوں یا ہراسانی کے الزامات کس حد تک درست ہیں تاہم حکومت اس معاملے کی تمام پہلوؤں پر تفتیش کرارہی ہے۔ آئی جی پولیس بلوچستان نے اس معاملے پر دو تفتیشی ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔
پولیس کے تفتیشی حکام کے مطابق موبائل فونز ، وٹس ایپ کا ڈیٹا، کال ریکارڈز، فرانزک رپورٹس، گواہوں کے بیانات اور ملزمان سے پوچھ گچھ کے نتائج کو یکجا کرنے کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچا جا سکے گا۔
پولیس نے جائے وقوعہ اور اطراف میں سی سی ٹی وی فوٹیج بھی تلاش کی تاہم پولیس ذرائع کے مطابق گھر کے باہر کوئی فعال کیمرہ موجود نہیں تھا جبکہ گلی میں نصب ایک کیمرے سے کوئی قابل استعمال فوٹیج نہیں مل سکی۔

آصف خان نے ویڈیو میں کیا کہا تھا؟
پولیس کے مطابق آصف خان نے خودکشی سے قبل 13 منٹ سے زائد دورانیے کی ایک ویڈیو ریکارڈ کی تھی جسے انہوں نے رشتہ داروں اور ایک سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کو بھیجا۔ ویڈیو میں انہوں نے دو سرکاری افسران اور ایک سرکاری ملازم کے نام لے کر الزام عائد کیا تھا کہ وہ انہیں بلیک میل کررہے ہیں ان کے بچوں خصوصاً بیٹی کے حوالے سے انہیں دھمکیاں دے رہے ہیں۔
ویڈیو میں آصف خان نے الزام لگایا تھا کہ مذکورہ افسران انہیں سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے پر بھی مجبور کر رہے ہیں، ان کے پانی کے کنکشن منقطع کئے گئے اور بجلی کے کنکشن منقطع کرانے کی کوشش کی گئی اور انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔
محمد آصف نے ویڈیو میں صدر، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بلوچستان سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو بہت پیار سے پالا ہے وہ ملزمان کو ان کے بیٹی تک پہنچنے نہیں دینگے اور خود ہی سب کو مار کر خودکشی کرلیں گے۔
مزید پڑھیں
سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اور حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے کہ انہوں نے آصف خان کی اپیل پر بروقت کارروائی نہیں کی تاہم سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ بایزد خروٹی نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ انہیں متاثرہ شخص آصف کی ویڈیو اور وائس نوٹس جمعے کی صبح موصول ہوئے تھے جنہیں انہوں نے چند منٹ بعد ہی وزیراعلیٰ بلوچستان کے سٹاف آفیسر کو ارسال کر دیا۔
ان کے مطابق متعلقہ حکام نے فوری طور پر متاثرہ شخص کا رابطہ نمبر حاصل کیا جبکہ بعد ازاں وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ اور آصف کے درمیان رابطہ بھی قائم ہو گیا تھا۔
بایزید خروٹی کا کہنا تھا کہ ’ابتدائی طور پر ویڈیو میں معاملہ ایک گھریلو اور مکان کے تنازع سے متعلق شکایت معلوم ہوا، اس لیے وہ اس کی سنگینی کا اندازہ نہ لگا سکے۔ تاہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر انہوں نے معاملہ فوری طور پر حکام تک پہنچایا۔‘
ان کے بقول بعد ’میں متاثرہ شخص کے دوبارہ رابطہ کرنے پر انہوں نے متعلقہ حکام سے پیش رفت بھی دریافت کی اور خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں وہ خود کو نقصان نہ پہنچا لے جس پر انہیں یقین دہانی کرائی گئی۔‘
بایزید خروٹی نے اعتراف کیا کہ وہ معاملے کی حساسیت کو بروقت نہ سمجھ سکے جس پر انہیں افسوس ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی بساط کے مطابق فوری طور پر اعلیٰ حکام کو آگاہ کر دیا تھا۔
وزیراعلیٰ کے معاون شاہد رند کے مطابق واقعے سے قبل یہ ویڈیو ایک سوشل میڈیا ایکٹویسٹ کے ذریعے موصول ہونے کے بعد وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کے دو افسران نے آصف خان سے رابطہ کیا تھا اور انہیں یقین دلایا تھا کہ ان کی شنوائی کی جائے گی ۔
ان کے مطابق بعد میں جب مزید پریشان کن پیغامات موصول ہوئے تو متعلقہ انتظامیہ اور پولیس کو بھی آگاہ کیا گیا تاہم پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی سانحہ پیش آگیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آصف خان نے جن تین لوگوں کے نام ویڈیو میں لیے ہیں انہیں گرفتار کرلیا گیا ہے اور ان سے تفتیش جاری ہے اور ان کے موبائل فون اور آصف کے موبائل کی جانچ کی جارہی ہیں۔ گواہوں کے بیانات اور تکنیکی شواہد کی بنیاد پر تفتیش کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔
وزیراعلیٰ کے معاون نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔ ان کے بقول حکومت کی واضح پالیسی ہے کہ شواہد جس کے خلاف بھی جائیں بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔
شاہد رند کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم سے روزانہ بڑی تعداد میں لوگ اپنی شکایات درج کراتے ہیں ان کی جانچ کرانے میں وقت لگتا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ تیزاب حملے اور پھر بیوی بچوں کو قتل کرکے خودکشی کرنے جیسے حالیہ واقعات پر انہیں ذاتی طورپر صدمہ ہوا ہے۔ معاشرے کو ایسے رویوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی۔
سرکاری ذرائع نے اردو نیوز کو بتایا ہے کہ حکومت وحدت کالونی میں سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ کی بھی جانچ پڑتال کرائے گی جن کے بارے میں شکایت کی گئی تھی۔
















