ارجنٹائن کے لیجنڈری فٹبالر لیونل میسی نے اپنے والد خورخے میسی کی وفات کے بعد کہا ہے کہ انہیں فٹبال کا سفر ’زیادہ عرصے تک‘ جاری رکھنے کے حوالے سے سنجیدہ شکوک ہیں۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق 39 سالہ میسی نے بدھ کو سوشل میڈیا پر اپنے والد کو جذباتی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا، ’مجھے نہیں معلوم کہ آپ کے بغیر میں کیا کروں گا، مجھے نہیں معلوم کہ آگے کیسے بڑھوں گا۔ میں نے صرف فٹبال کھیلی ہے اور اب مجھے اس بات پر سنجیدہ شکوک ہیں کہ میں زیادہ عرصے تک یہ کھیل جاری رکھ سکوں گا یا نہیں۔‘
ورخے میسی کے والد ہونے کے علاوہ ان کے ایجنٹ بھی تھے۔ وہ گزشتہ ہفتے 68 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔
مزید پڑھیں
انٹر میامی کے ساتھ سنہ 2028 کے سیزن کے اختتام تک معاہدہ رکھنے والے میسی نے اپنے والد کی زندگی کے آخری مہینوں کو یاد کیا، جو 2026 ورلڈ کپ کے ساتھ ساتھ گزرے۔
جون میں ہونے والے ورلڈ کپ کے دوران خورخے میسی کی غیر موجودگی پہلے ہی توجہ کا مرکز بنی تھی۔
میسی نے لکھا کہ ’آپ مسلسل مجھ سے کہہ رہے تھے کہ میں آخری مرتبہ ورلڈ کپ کھیلوں، لیکن ٹورنامنٹ شروع ہونے سے چند روز قبل آپ کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ آپ کسی ٹورنامنٹ میں میرے ساتھ موجود نہیں تھے۔‘
میسی منگل کی شب اپنے والد کی اتوار کو ہونے والی آخری رسومات کے بعد امریکہ واپس پہنچے۔
انہوں نے لکھا، ’میں آپ کو مسلسل کہتا رہا کہ ہم فائنل تک پہنچیں گے تاکہ آپ بھی سفر کرکے وہاں آ سکیں۔‘
’ہر میچ ختم ہونے کے بعد میں آپ کے پیغام کا انتظار کرتا اور اسے یاد کرتا تھا۔ تب مجھے احساس ہوا کہ صورتحال واقعی بہت خراب ہے۔‘
وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’ہم فائنل تک پہنچ گئے، لیکن آپ وہاں موجود نہیں تھے۔ میں اسے جیت کر آپ کے لیے لانا اور آپ کو ایک اور ٹرافی دکھانا چاہتا تھا۔ لیکن میں ایسا نہ کر سکا، میری ٹانگوں نے جواب دے دیا۔‘
نیو جرسی میں سپین کے ہاتھوں ورلڈ کپ فائنل میں ایک صفر سے شکست کے حوالے سے میسی نے کہا کہ ’اس مرتبہ میں نے اپنی جسمانی حدود سے آگے جانے کی کوشش کی، لیکن ایسا نہیں کر سکا۔ میں نے خود کو کبھی ٹھیک محسوس نہیں کیا۔‘
ورلڈ کپ فائنل میں سپین کے ہاتھوں شکست کے فوراً بعد میسی بیونس آئرس سے تین سو 40 کلومیٹر شمال میں واقع شہر روزاریو میں اپنے خاندان کے ساتھ چند روز گزارنے کے لیے واپس چلے گئے تھے۔
میسی نے بتایا کہ وہاں پہنچ کر انہیں احساس ہوا کہ ان کے والد ورلڈ کپ سے لطف اندوز بھی نہیں ہو سکے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’جب میں وہاں پہنچا تو آپ کو لگا کہ ہم فائنل پنالٹیز پر ہارے ہیں۔ ہم اس دوران ہونے والی کسی بھی بات پر گفتگو نہیں کر سکے۔ آپ اس میں سے کچھ بھی انجوائے نہیں کر سکے۔‘
میسی نے مزید کہا کہ ’ہم چیمپئن نہیں بن سکے، لیکن آپ کو اندازہ نہیں کہ ہم نے ہر میچ کو کتنا انجوائے کیا۔ ایک مرتبہ پھر آپ درست ثابت ہوئے، مجھے وہاں ہونا اور کھیلنا ضروری تھا۔‘
والد، دوست اور ایجنٹ
اپنے کیریئر کا چھٹا ورلڈ کپ کھیلنے والے میسی نے ٹورنامنٹ میں آٹھ گول کیے اور ارجنٹائن کو فائنل تک پہنچایا۔
تاہم ارجنٹائن سنہ2022 کے ٹائٹل کا کامیابی سے دفاع کرنے میں ناکام رہا، جب میسی نے اپنی ٹیم کو تیسری مرتبہ عالمی چیمپئن بننے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ارجنٹائن نے اس سے قبل آخری مرتبہ سنہ1986 میں ورلڈ کپ جیتا تھا۔
ورلڈ کپ کے گروپ میچ میں الجزائر کے خلاف گول کرنے کے بعد میسی کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے، جس کے بعد انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ وہ ’کھیل سے باہر ایک صورتحال‘ سے گزر رہے ہیں۔
اتوار کو آٹھ مرتبہ بیلن ڈی اور جیتنے والے میسی نے روزاریو سے ملحقہ شہر پیریز میں ایک نجی تقریب کے دوران اپنے والد کو الوداع کہا۔ تقریب میں قریبی اہلخانہ اور ارجنٹائن کی ٹیم کے چند ساتھی کھلاڑی بھی شریک ہوئے۔
مقامی میڈیا کے مطابق خورخے میسی کینسر میں مبتلا تھے۔
میسی نے اپنی زندگی اور کیریئر میں والد کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے لکھا، ’آپ میرے والد، میرے دوست اور میرے ایجنٹ تھے۔ آپ ہر موقع پر بالکل وہی شخص رہے جس کی مجھے ضرورت تھی اور آپ نے کبھی کوئی غلط قدم نہیں اٹھایا۔‘
خورخے میسی اپنے بیٹے کے پہلے کوچ بھی تھے۔ سنہ 2000 میں جب بارسلونا نے 13 سالہ لیونل میسی کو کلب کی یوتھ ٹیم میں کھیلنے اور گروتھ ہارمون کی کمی کے علاج کو جاری رکھنے کے لیے کاتالونیا آنے کی دعوت دی تو وہ ان کے ساتھ سپین منتقل ہوگئے تھے۔













