بنگلہ دیش: ’فیفا ورلڈ کپ‘ کے میچز روہنگیا بچوں کے لیے خوشی کے ’عارضی‘ لمحات
گذشتہ ہفتے فیفا ورلڈ کپ 2026 کا آغاز ہوا جس کے رواں برس بنگلہ دیش میں واقع روہنگیا کے مہاجر کیمپوں میں مقیم بچے خاص طور پر منتظر تھے۔
عرب نیوز کے مطابق اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو کھیلتے ہوئے دیکھنا اور اپنے مقامی ٹورنامنٹس میں حصہ لینا اِن بچوں کے لیے ایک خاص تجربہ ہے۔
لڑکے اور لڑکیاں ایک موبائل سپورٹس لائبریری سے ’کچھ دیر کے لیے‘ اپنی پسندیدہ ٹیموں کی جرسیاں حاصل کرتے ہیں، جو کاکس بازار میں واقع مہاجر بستیوں کا چکر لگاتی ہے۔
بعد ازاں، یہ بچے اور بچیاں صبح کے وقت یہ سامان کیمپ 19 میں موجود سپورٹس سینٹر کو واپس کر جاتے ہیں، جہاں وہ فیفا ورلڈ کپ کے گذشتہ رات ریکارڈ کیے گئے میچز بھی دیکھ سکتے ہیں۔
ایک غیر سرکاری تنظیم ’فرینڈشپ‘ کے سینیئر کوآرڈینیٹر مُلا شہاب الدین نے بتایا کہ ’6 سے 15 سال کی عمر کے بچے اور بچیاں میچ دیکھنے کے لیے ہمارے سینٹر آتے ہیں، جن میں قریباً ایک تہائی بچیاں ہوتی ہیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’ہمارے پاس ایک بڑے ہال میں ایک بڑی ٹی وی سکرین نصب ہے، جہاں ہم روہنگیا بچوں کے لیے فیفا ورلڈ کپ کے تمام میچز ریکارڈ کرتے ہیں اور پھر اگلی صبح اُنہیں دِکھاتے ہیں۔‘
یہ سکریننگ بچوں کے لیے میچ دیکھنے کا ایک ہی موقع ہوتا ہے، کیونکہ مقامی حکام نے سکیورٹی خدشات کی بنا پر روہنگیا کیمپوں میں میچوں کو براہِ راست دکھانے کی اجازت نہیں دی۔
روہنگیا ایک مسلم نسلی اقلیت ہیں جو صدیوں سے میانمار کی مغربی ریاست رخائن میں آباد تھے، تاہم 1980 کی دہائی میں اُن سے شہریت چھین لی گئی۔
اس کے بعد بہت سے روہنگیا میانمار سے بنگلہ دیش ہجرت کر گئے، اور 2017 میں فوجی کارروائی کے بعد قریباً سات لاکھ مہاجرین بنگلہ دیش پہنچے۔
اس وقت قریباً 13 لاکھ روہنگیا بنگلہ دیش کے کاکس بازار کے 33 کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں، جہاں انہیں تعلیم، روزگار اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے والی سرگرمیوں تک محدود رسائی حاصل ہے۔
محرومی کے اس ماحول میں کیمپ 19 کا یہ سپورٹس کلب کھیلوں میں دلچسپی رکھنے والے بچوں کو ان میں حصہ لینے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔
اس وقت 1 ہزار 600 روہنگیا بچے کلب کے باقاعدہ رکن ہیں، جن میں 600 لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ یہاں فٹ بال کے علاوہ کرکٹ، والی بال اور دیگر کھیلوں کی سہولیات بھی موجود ہیں۔
ملا شہاب الدین نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’زیادہ تر لڑکیاں ہفتے میں کم سے کم ایک بار کلب آتی ہیں۔ بنگلہ دیش کے دُوردراز کے مہاجر کیمپوں میں مقیم لڑکیاں بھی کھیلوں کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں جو بہت خوش آئند ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’اس کلب کا بنیادی مقصد کھیلوں کے ذریعے بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کو بہتر بنانا ہے۔‘
’یہ حقیقت ہے کہ روہنگیا نوجوان امید کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں۔ مناسب تعلیم تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے ان میں مایوسی بڑھ رہی ہے، جبکہ ان کی اپنے وطن واپسی بھی غیر یقینی ہے۔‘
ملا شہاب الدین مزید کہتے ہیں کہ ’اس کے باوجود روہنگیا ایک مضبوط اور باحوصلہ قوم ہیں، جن میں اپنی بقا کی زبردست صلاحیت موجود ہے۔ کھیل ان کے اندر اس جذبے کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔‘
