Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’سیاسی جماعت مسئلے کا حل نہیں‘، انڈیا کی کاکروچ جنتا پارٹی آگے کیا کرنے جا رہی ہے؟

ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ اجلاس کا مقصد کاکروچ جنتا پارٹی کا ایجنڈا مرتب کرنا ہے۔(فوٹو:اے ایف پی)
انڈیا میں مبینہ ’نیٹ‘ امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج کی قیادت کرنے والی نوجوانوں کی تحریک 'کاکروچ جنتا پارٹی' (سی جے پی) کی قیادت بدھ کو آئندہ کی حکمت عملی کے حوالے سے ریاست مہاراشٹر میں دو روزہ اجلاس منعقد کر رہی ہے۔
اجلاس میں حالیہ احتجاجی تحریک کے بعد تنظیم کے مستقبل پر غور کیا جائے گا۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق اجلاس میں سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے، چیف ترجمان سوراو داس، ترجمان ویشناوی گور اور تحریک کے دیگر سینئر رہنما شریک ہوں گے۔
اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سی جے پی قیادت نے کہا کہ ملاقات کا مقصد حالیہ احتجاجی تحریک کا جائزہ لینا، تحریک کو ملک بھر میں نچلی سطح تک وسعت دینے کی حکمت عملی تیار کرنا اور مستقبل کے روڈ میپ کو حتمی شکل دینا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی، جو خود کو نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی ایک طنزیہ سماجی و سیاسی تحریک قرار دیتی ہے، گزشتہ ماہ مبینہ نیٹ پیپر لیک کے خلاف ہونے والے ملک گیر احتجاج کی قیادت کر چکی ہے۔ ان مظاہروں کے بعد انڈین وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا تھا۔
احتجاج ختم ہونے کے بعد اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ تحریک اس عوامی حمایت کو کس طرح برقرار رکھے گی اور اپنی سرگرمیوں کو امتحانی اصلاحات سے آگے بڑھاتے ہوئے وسیع تر عوامی مسائل تک لے جائے گی۔
تحریک کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس کا مقصد کاکروچ جنتا پارٹی کا ایجنڈا مرتب کرنا اور اس بات پر غور کرنا ہے کہ اس سماجی تحریک کو مزید کیسے آگے بڑھایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ تنظیم ’جین زی‘ کے نوجوانوں سے بھی مشاورت کرے گی تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ کن مسائل کو اس تحریک کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔

تحریک کے بانی ابھیجیت دیپک کہا ’فی الحال سیاسی جماعت بنانے یا انتخابی سیاست میں حصہ لینے کا کوئی منصوبہ نہیں۔‘(فوٹو:اے ایف پی)

ڈپکے نے کہا کہ تنظیم کی مرکزی ٹیم، ترجمان اور احتجاجی تحریک کو منظم کرنے والے تمام اہم ارکان اجلاس میں شریک ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’فی الحال سی جے پی کا سیاسی جماعت بنانے یا انتخابی سیاست میں حصہ لینے کا کوئی منصوبہ نہیں۔‘
چیف ترجمان سوراو داس نے کہا کہ احتجاج کی کامیابی کے بعد سب سے بڑا سوال یہی تھا کہ اب یہ تحریک کس سمت جائے گی، اسی لیے تنظیم دو روزہ اجلاس میں اپنی آئندہ حکمت عملی طے کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’6 اگست کو جب تحریک کسی واضح نتیجے پر پہنچ جائے گی تو اپنی مستقبل کی حکمت عملی عوام کے سامنے رکھے گی۔‘
سوراو داس نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سی جے پی خود کو کسی ’سیاسی جماعت کے متبادل‘ کے طور پر نہیں دیکھتی۔
انہوں نے کہا، ’لوگوں کے مسائل کا حل ایک اور سیاسی جماعت نہیں بلکہ نچلی سطح پر بیداری پیدا کرنا ہے، اور کاکروچ جنتا پارٹی اسی مقصد کے لیے کام کر رہی ہے۔‘
بلوم برگ سے گفتگو کرتے ہوئے سوراو داس نے کہا کہ تحریک ہر ضلع میں کارکنوں کا ایک مضبوط نیٹ ورک قائم کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا، ’یہ تحریک جوابدہی کے لیے ہے۔ جن مسائل کو ہم اٹھانا چاہتے ہیں وہ زیادہ تر نوجوانوں سے متعلق ہوں گے۔ ہم اس تحریک کو نچلی سطح تک لے جانا چاہتے ہیں کیونکہ وہاں لوگوں کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے لیکن ان کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔‘

تحریک کی رہنما رتنا سنگھ نے کہا کہ احتجاج کا اثر صرف دہلی کے جنتر منتر تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک کے دیہات تک محسوس کیا گیا۔(فوٹو:اے ایف پی)

سی جے پی کی ترجمان ویشناوی گور نے حالیہ احتجاج کے دوران حکومت کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو فیصلے مسلط کرنے کے بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ’جس طرح بی جے پی اور آر ایس ایس حالیہ ریلیاں منعقد کر رہے ہیں، وہاں مکالمے کے بجائے احکامات دیے جا رہے ہیں۔‘ ان کے بقول بچوں کو دبایا نہیں جانا چاہیے، اگر حکومت نے بات چیت کا راستہ اختیار نہ کیا تو تنظیم اپنی نوجوانوں کی تحریک جاری رکھے گی۔
سی جے پی کی رہنما رتنا سنگھ نے کہا کہ احتجاج کا اثر صرف دہلی کے جنتر منتر تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک کے دیہات تک محسوس کیا گیا، جہاں بہت سے لوگ احتجاج میں شریک نہ ہو سکے لیکن اس تحریک نے انہیں بھی متاثر کیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی گزشتہ ماہ مبینہ نیٹ پرچہ لیک کے خلاف ہونے والے طلبہ احتجاج کی نمایاں آواز بن کر سامنے آئی تھی۔ 

تحریک نے احتجاجی مظاہروں اور سوشل میڈیا مہم کے ذریعے ہزاروں طلبہ کو متحرک کیا، جبکہ دہلی کے جنتر منتر تک مارچ کے دوران امتحانی بے ضابطگیوں پر جوابدہی کا مطالبہ کیا گیا۔

ان احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں انڈین وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو اس تحریک کی سب سے بڑی سیاسی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ 

سی جے پی کا کہنا ہے کہ اب وہ اس عوامی حمایت کو صرف امتحانی اصلاحات تک محدود رکھنے کے بجائے نوجوانوں اور دیگر عوامی مسائل پر مبنی ایک وسیع تر نچلی سطح کی تحریک میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔

شیئر: