Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فیفا ورلڈ کپ 2026: جاپانی شائقین سٹیڈیم کی صفائی کیوں کرتے ہیں؟

فٹ بال کے میدانوں میں جہاں اکثر میچ ختم ہونے کے بعد نشستوں کے اطراف خالی بوتلیں، کھانے پینے کے ڈبے اور دیگر کچرا بکھرا رہ جاتا ہے، وہیں جاپانی شائقین ایک مختلف روایت کے لیے جانے جاتے ہیں۔
سپورٹس کے امریکی نشریاتی ادارے ای ایس پی این کے مطابق جاپانی مداح میچ کے اختتام پر سٹیڈیم سے روانہ ہونے سے پہلے اپنی نشستوں کے اردگرد صفائی کرتے ہیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران یہ عمل ان کی ایسی پہچان بن چکا ہے جسے دنیا بھر میں سراہا جاتا ہے۔
جاپان نے 1998 میں فرانس میں ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ میں پہلی مرتبہ شرکت کی تھی۔ اسی ٹورنامنٹ کے دوران جاپانی شائقین کو سٹیڈیم سے نکلنے سے پہلے صفائی کرتے دیکھا گیا۔ اس کے بعد ورلڈ کپ، اولمپکس اور دیگر بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں میں جاپانی مداحوں کا یہ طرزِ عمل بارہا توجہ کا مرکز بنتا رہا ہے۔
چار سال قبل قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ میں بھی جاپانی شائقین نے یہ روایت برقرار رکھی۔ جرمنی کے خلاف جاپان کی 2-1 سے یادگار فتح کے بعد سامورائی بلیو کے مداحوں نے جشن منانے کے ساتھ ساتھ خلیفہ انٹرنیشنل سٹیڈیم میں اپنی نشستوں کے اطراف صفائی بھی کی۔
اسی ٹورنامنٹ کے افتتاحی میچ، قطر اور ایکواڈور کے درمیان مقابلے کے دوران بھی بعض جاپانی شائقین کو سٹیڈیم میں کچرا جمع کرتے دیکھا گیا، حالانکہ اس میچ میں جاپان کی قومی ٹیم شریک نہیں تھی۔

جاپانی شائقین ایسا کیوں کرتے ہیں؟

اس سوال کا جواب جاپانی معاشرتی اقدار اور تربیت میں پوشیدہ ہے۔
جاپانی زبان میں ایک معروف کہاوت ہے ’تاتسو توری آتو وو نیگوسازو‘، اس کا لفظی مطلب ہے ’پرندہ اپنے پیچھے کچھ نہیں چھوڑتا۔‘
جبکہ اس کہاوت کا مفہوم ہے کہ ’کسی جگہ کو ویسا ہی چھوڑو جیسا تم نے اسے پایا تھا۔‘
اوساکا یونیورسٹی میں سماجیات کے پروفیسر سکاٹ نارتھ نے 2018 میں ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ فٹ بال میچوں کے بعد صفائی کرنا دراصل ان بنیادی عادات کا تسلسل ہے جو جاپانی بچوں کو سکول میں سکھائی جاتی ہیں۔
ان کے مطابق جاپان میں طلبہ اپنی کلاسوں اور راہداریوں کی صفائی خود کرتے ہیں اور بچپن کے دوران مسلسل تربیت اور یاد دہانی کے باعث یہ رویے معاشرے کے ایک بڑے حصے کی عادت بن جاتے ہیں۔
سکاٹ نارتھ کا کہنا تھا کہ صفائی اور ری سائیکلنگ کے بارے میں شعور کے علاوہ ورلڈ کپ جیسے مقابلوں میں صفائی کرنا جاپانی شائقین کے لیے اپنے طرزِ زندگی پر فخر کے اظہار کا ایک ذریعہ بھی ہے۔

 امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر آرلنگٹن میں نیدرلینڈز کے خلاف جاپان کے پہلے میچ کے بعد مداح ایک بار پھر اسٹیڈیم کی صفائی کرتے نظر آئے۔(فوٹو:اے ایف پی)

حالیہ ورلڈ کپ میں بھی جاپانی شائقین اپنی اس روایت پر قائم رہے۔ امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر آرلنگٹن میں نیدرلینڈز کے خلاف جاپان کے پہلے میچ کے بعد مداح ایک بار پھر سٹیڈیم کی صفائی کرتے نظر آئے۔ 
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دو دو سے برابر رہنے والے میچ کے بعد متعدد جاپانی شائقین اپنی نشستوں کے اطراف کچرا جمع کرتے اور اسے نیلے رنگ کے تھیلوں میں ڈالتے رہے تاکہ سٹیڈیم کو اسی حالت میں چھوڑا جا سکے جس میں وہ انہیں ملا تھا۔
 اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے بیس سالہ جاپانی شائق ایٹا تاناکا نے کہا کہ ’ہمیں دوسروں کا خیال رکھنا چاہیے۔ جاپان میں ہمیں بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ جب آپ کسی جگہ کو استعمال کریں تو وہاں سے جاتے وقت اسے پہلے سے زیادہ صاف چھوڑیں۔‘
جاپان میں مقیم صحافی سکاٹ میک انٹائر کے مطابق سٹیڈیم کی صفائی صرف فٹ بال کلچر کا حصہ نہیں بلکہ جاپانی ثقافت کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فٹ بال کو اکثر کسی معاشرے کی ثقافت کا عکس قرار دیا جاتا ہے اور جاپانی معاشرے کی ایک اہم خصوصیت صفائی کو یقینی بنانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ رویہ نہ صرف فٹ بال بلکہ دیگر کھیلوں میں بھی نظر آتا ہے۔

باربرا ہولتھس کے مطابق جاپانی بچوں کو کم عمری سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ دوسروں کے لیے زحمت یا پریشانی پیدا نہیں کرنی چاہیے۔(فوٹو:اے ایف پی)

ٹوکیو کی سوفیا یونیورسٹی میں سیاست اور تاریخ کے استاد کوئچی ناکانو کے مطابق عالمی مقابلوں میں سٹیڈیم کی صفائی کرنے والے جاپانی شائقین دراصل اسی انداز میں برتاؤ کرتے ہیں جیسا انہوں نے بچپن میں کھیلوں سے وابستگی کے دوران سیکھا تھا۔
انہوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ جاپانی طلبہ کے لیے کھیلوں کا تجربہ دیگر سرگرمیوں سے مختلف نہیں ہوتا، جہاں جسمانی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت پر بھی زور دیا جاتا ہے۔
ٹوکیو میں جرمن انسٹی ٹیوٹ فار جاپانیز سٹڈیز کی نائب ڈائریکٹر باربرا ہولتھس کے مطابق اس رویے کی ایک سادہ تشریح یہ ہے کہ جاپان میں لوگوں کی سماجی تربیت مختلف انداز میں کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص ایسے ماحول میں پروان چڑھے جہاں صفائی، نظم و ضبط اور دوسروں کا خیال رکھنے پر زور دیا جاتا ہو تو وہ یہی اصول زندگی کے دیگر معاملات میں بھی اپناتا ہے، حتیٰ کہ سٹیڈیم میں میچ دیکھنے کے بعد بھی۔
باربرا ہولتھس کے مطابق جاپانی بچوں کو کم عمری سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ دوسروں کے لیے زحمت یا پریشانی پیدا نہیں کرنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ جاپانی معاشرے میں دوسروں کا خیال رکھنا روزمرہ زندگی کا حصہ ہے، جبکہ بعض دیگر معاشروں میں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عوامی مقامات کی صفائی کسی سرکاری یا انتظامی ادارے کی ذمہ داری ہے۔
 

شیئر: