پانچ اگست کے 7 برس: پاکستان میں ’یومِ استحصال‘ اور انڈیا کا کشمیر میں ’نیا دور‘، کس نے کیا کہا؟
بدھ 5 اگست 2026 16:28
فرحان خان، اردو نیوز۔ اسلام آباد
پانچ اگست 2019 کو انڈین حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کا خصوصی آئینی سٹیٹس ختم کیے جانے کے سات برس مکمل ہونے پر پاکستان اور انڈیا میں اس دن کو بالترتیب ’یومِ استحصال‘ اور ایک ’نئے دور کی شروعات‘ کے طور پر الگ الگ انداز میں منایا گیا۔
اس موقعے پر دونوں جانب کے سیاسی رہنماؤں اور حریت قيادت کے بیاںات میں شدید سیاسی و سفارتی اختلاف اور واضح نظریاتی تقسیم نظر آئی۔
پاکستان اور انڈیا کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کی قیادت نے پانچ اگست کے اقدام کو یک طرفہ قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ نئی دہلی نے اسے خطے کی ترقی اور یکجہتی کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا ہے۔
شہباز شریف اور پاکستانی قیادت کا موقف
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ ’پاکستان کے عوام اور حکومت اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ اٹوٹ یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’5 اگست 2019 کے غیر قانونی اور یک طرفہ اقدامات کا مقصد بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے علاقے کی متنازع حیثیت کو تبدیل کرنا تھا۔‘
وزیراعظم شہباز شریف نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ’ان اقدامات نے جبر کو مزید گہرا کیا اور آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کی کوششوں کو تیز کیا ہے۔‘
انہوں نے عالمی برادری سے کہا کہ ’وہ انڈیا پر زور دے تاکہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے اور اگست 2019 سے متعارف کرائے گئے یک طرفہ اقدامات کو واپس لے۔‘
اسی روز اسلام آباد میں ریڈیو پاکستان سے ڈی چوک تک ایک ’یکجہتی ریلی‘ بھی نکالی گئی جس کی قیادت وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان انجینیئر امیر مقام نے کی۔
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ ’اس خصوصی حیثیت کے تحت باہر سے کسی شخص کو کشمیر میں بسایا نہیں جا سکتا تھا، کشمیریوں نے اس انڈین اقدام کو مسترد کیا ہے۔‘
انہوں نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’جب تک آخری کشمیری اور پاکستانی زندہ ہے، مسئلہ کشمیر زندہ رہے گا۔‘
ریلی سے کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ’انڈیا نے کشمیر کا جھنڈا، ترانہ اور شناخت چھیننے کی کوشش کی لیکن جب تک ایک بھی کشمیری زندہ ہے جموں و کشمیر انڈیا کا حصہ نہیں بن سکتا۔‘
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیراعظم نے کیا کہا؟
پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے بھی 5 اگست کے موقعے پر اپنے خصوصی ویڈیو پیغام میں اس دن کو ’یومِ سیاہ‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔
انہوں نے انڈین حکومت کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’آج لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب مقیم ریاست جموں و کشمیر کے عوام، اور بیرونِ ملک بسنے والے کشمیری اور پاکستانی، انڈیا کے 5 اگست 2019ء کے اس غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدام کے خلاف یومِ سیاہ منا رہے ہیں۔‘
فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا تھا کہ ’انڈیا میں مودی حکومت نے ہندوتوا کے منصوبے کی تکمیل کے لیے آئین میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی اور غیر کشمیریوں کو شہریت دی تاکہ مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلا جا سکے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’9 لاکھ سے زائد انڈین قابض افواج مقبوضہ کشمیر کے عوام سے جینے اور تمام بنیادی انسانی حقوق چھین رہی ہیں، جبکہ تمام حریت قیادت اور صحافی جیلوں میں قید ہیں۔‘
فیصل ممتاز راٹھور نے عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر میں منصفانہ استصوابِ رائے کے لیے انڈیا پر دباؤ ڈالیں۔
انڈین قیادت اور نریندر مودی کا ’ایک نیا باب‘
دوسری جانب انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے 5 اگست کے اقدام کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’سات سال پہلے، آج ہی کے دن، دفعات 370 اور 35(A) تاریخ کا حصہ بن گئیں جس کے ساتھ ہی جموں و کشمیر اور لداخ کے سفر میں ایک فیصلہ کن نئے باب کا آغاز ہوا۔‘
انڈین وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’خواہ خواتین ہوں یا پسماندہ طبقات، وہ تمام افراد جنہیں دہائیوں سے ان کے بنیادی آئینی حقوق سے محروم رکھا گیا تھا، انڈیا کے آئین کے مکمل نفاذ کی بدولت بااختیار ہوئے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ڈاکٹر شیاما پرساد مکرجی کی 125ویں سالگرہ کے موقعے پر یہ دن اور بھی اہم ہو جاتا ہے اور ہم ایک ’وکست بھارت‘ کی تعمیر کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔‘
انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’آرٹیکل 370 اور 35 (اے) کے خاتمے کو سات سال مکمل ہونے پر جموں و کشمیر اور لداخ کے لیے امن، ترقی اور مساوی مواقع کے ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔‘
عمر عبداللہ اور میرواعظ عمر فاروق کا ردِعمل
دوسری جانب انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے اندر کی سیاسی و مذہبی قیادت نے ان سرکاری دعوؤں سے مکمل اختلاف ظاہر کیا ہے۔
جموں و کشمیر کے وزیرِاعلٰی عمر عبداللہ نے انڈین حکومت کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ ’سات برس گزر گئے، ہم نہ تو کچھ بھولے ہیں اور نہ ہی ان موجودہ حالات سے سمجھوتہ کیا ہے، قبول کرنا تو دُور کی بات ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’میں اور میری جماعت ان تمام اقدامات کو واپس کروانے کے لیے پُرعزم ہیں جن کے ذریعے جموں و کشمیر کے عوام سے ان کے حقوق چھینے گئے اور ہماری شناخت کو خطرے میں ڈالا گیا۔‘
حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں اس دن کو ایک گہرا زخم قرار دیا۔
انہوں نے لکھا کہ ’5 اگست اس دن کی ایک تکلیف دہ یاد دہانی ہے جب انڈین حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر پر ایک ایسا فیصلہ مسلط کیا گیا جس میں وہاں کے عوام سے کیے گئے اپنے ہی آئینی وعدوں سے انحراف کیا گیا اور یک طرفہ طور پر اس کی ساخت اور حیثیت کو بدل دیا گیا۔‘
میرواعظ عمر فاروق نے امید ظاہر کی کہ ’ایک دن ایسا آئے گا جب انڈیا کی حکومتِ انسانیت اور جمہوریت کے جذبے کا احترام کرے گی، اور انصاف، خلوص اور احترام کے ساتھ جموں و کشمیر کے عوام سے رابطہ قائم کرے گی۔‘
