Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سپین: سیوتا میں مراکش سے آنے والے تارکینِ وطن بچے والدین کے بغیر کن مشکلات کا شکار ہیں؟

ہسپانوی حکام کے مطابق گزشتہ ہفتے مراکش سے اچانک داخل ہونے والے 72 ہزار افراد میں سے 70 ہزار واپس جا چکے ہیں (فوٹو: گیٹی)
سپین کے شمالی افریقی علاقے سیوتا کے سربراہ نے بدھ کو کہا کہ گذشتہ ہفتے اچانک بڑی تعداد میں تارکینِ وطن کے داخل ہونے کے بعد وہاں رہ جانے والے بچوں کی بڑی تعداد کے حالات ’غیرمعمولی طور پر مشکل‘ ہو چکے ہیں، اور انہوں نے حکومت سے فوری مدد کی اپیل کی۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی نے رپورٹ کیا ہے کہ ہسپانوی حکام کے مطابق گذشتہ ہفتے مراکش سے اچانک داخل ہونے والے 72 ہزار میں سے 70 ہزار تارکینِ وطن واپس جا چکے ہیں۔ اس واقعے کے بعد امیگریشن کے معاملے پر سخت مؤقف رکھنے والے کچھ یورپی یونین ممالک اور سپین کے درمیان کشیدگی بھی پیدا ہوئی۔
تاہم سپین میں اب بھی موجود قریباً 2,500 افراد میں سینکڑوں ایسے نابالغ بچے شامل ہیں جو اکیلے ہیں اور نہایت مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں، اور اُن کی خوراک، پانی، رہائش اور صفائی جیسی بنیادی سہولیات تک رسائی محدود ہے۔
اپوزیشن کی بڑی قدامت پسند جماعت پاپولر پارٹی (پی پی) کے رہنما اور سیوتا کے سربراہ خوان جیسس ویواس نے سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی وی ای سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حکام اس وقت 1,100 بچوں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں، جبکہ گنجائش صرف 90 بچوں کی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ صورتِ حال ناقابلِ برداشت ہے،‘ اور خبردار کیا کہ استقبالیہ مراکز کی گنجائش ختم ہونے کے باعث ’امن و امان اور عوامی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہے۔‘
اے ایف پی کے ایک رپورٹر نے یہ مشاہدہ کیا کہ بدھ کے روز بھی نوجوان مہاجرین کے گروہ سیوتا کی سڑکوں پر گھومتے رہے، پارکوں اور ساحلوں پر جمع ہوتے رہے، جبکہ حکام انہیں شناخت کرنے اور رہائش فراہم کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
سیوتا میں ہسپانوی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار میگوئل اینجل پیریز نے تسلیم کیا کہ یہ بچے ’اولین ترجیح اور شدید تشویش کا باعث‘ ہیں۔
فلاحی ادارے سیو دی چلڈرن کے مطابق سیوتا میں موجود مہاجرین میں تقریباً 1,000 ’غیر محفوظ‘ نابالغ بچے شامل ہیں۔
خوان جیسس ویواس نے کہا کہ ’ہم سپین کے باقی حصوں سے مدد اور تعاون کی اپیل کر رہے ہیں‘، جس کے لیے انہوں نے بائیں بازو کی مرکزی حکومت سے رابطہ قائم کیا ہے۔
موجودہ قانونی دفعات کے تحت بچوں کو سپین کے دیگر علاقوں میں منتقل کرنے کی کسی بھی کوشش کو ان علاقوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہو سکتا ہے جہاں پی پی اور امیگریشن مخالف انتہائی دائیں بازو کی جماعت ووکس کی حکومت ہے۔
سوشلسٹ نائب وزیرِاعظم کارلوس کُوئرپو نے سرکاری ٹی وی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پی پی اور اس کی علاقائی حکومتوں کو ’دوسروں کی طرح قانون کی پابندی کرنا ہوگی۔‘
’صورتِ حال بدستور سنگین ہے‘
نوجوانوں اور بچوں کی وزارت نے سیوتا کے لیے 2 کروڑ 50 لاکھ یورو (تقریباً 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر) کی ہنگامی امداد کا اعلان کیا ہے تاکہ 84 ہزار آبادی والے اس علاقے کو بچوں کی دیکھ بھال میں مدد فراہم کی جا سکے۔

فلاحی ادارے سیو دی چلڈرن کے مطابق سیوتا میں موجود مہاجرین میں تقریباً 1,000 ’غیر محفوظ‘ نابالغ بچے شامل ہیں (فوٹو: اے پی)

خوان جیسس ویواس نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے 27 جولائی کو وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز کے دفتر سے رابطہ کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ سینکڑوں تارکین مراکش سے سیوٹا میں داخل ہو چکے ہیں اور ’ہم ایک سنگین صورتِ حال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِاعظم کے دفتر نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ’متعلقہ وزارتوں‘ سے رابطہ کرے گا تاکہ اس مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔
اگلے دن خوان جیسس ویواس نے وزارتِ داخلہ سے قومی ہنگامی حالت نافذ کرنے کی درخواست کی، تاہم انہیں بتایا گیا کہ ’ایسا کرنا قانونی طور پر ممکن نہیں۔’
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے بروقت خبردار کر دیا تھا کہ صورتِ حال نہایت کشیدہ ہو رہی ہے اور غیر معمولی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔‘
تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ اسے اس واقعے کی شدت کے بارے میں پہلے سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

شیئر: