Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کے کم از کم دو تیل بردار جہاز امریکی ناکہ بندی سے نکل گئے

آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے تیل کی عالمی سپلائی شدید متاثر ہوئی: فوٹو اے ایف پی
بحری جہازوں کو ٹریک کرنے والی ایک ویب سائٹ کے مطابق ایرانی تیل لے جانے والے کم از دو ٹینکرز امریکی ناکہ بندی عبور کر کے آبنائے ہرمز سے نکل گئے ہیں۔
ٹینکرز ٹریکرز ویب سائٹ کے مطابق ایران کی ٹینکر کمپنی ’این آئی ٹی سی‘ کے امریکی بحریہ کی ناکہ بندی کے دائرے سے نکلنے والے ان دونوں جہازوں پر مجموعی طور پر تقریباً 38 لاکھ بیرل خام تیل لدا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بعد ازاں ویب سائٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فام ایکس پر بتایا کہ ایک تیسرا ٹینکر بھی ناکہ بندی عبور کر چکا ہے جبکہ ڈیجیٹل ٹریکنگ ڈیٹا اور سیٹلائٹ تصاویر کے حوالے سے بتایا کہ ایران نے دو ماہ بعد خام تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کر دی ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان مجوزہ امن معاہدے پر مذاکرات کے آغاز میں صرف دو دن باقی ہیں۔
تاہم اس معاہدے کی تفصیلات، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام اور اس پرعائد اقصادی پابندیوں کے خاتمے سے متعلق معاملات کی زیادہ تفصیل ابھی سامنے نہیں آئی ہے۔ 
حتمی تصفیے کے لیے مذاکرات کا آغاز جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

28 فروری کو ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے ساتھ کے بعد سے آبنائے ہرمز بند تھی: فائل فوٹو اے ایف پی

وال سٹریٹ جرنل  نے منگل کو باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے تحت امریکہ ایران کو فوری طور پر پیٹرولیم مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دے گا۔
رپورٹ کے مطابق معاہدے پر دستخط ہوتے ہی تیل کی فروخت پر عائد پابندیوں میں نرمی کا اطلاق ہو جائے گا، جبکہ بینکاری، نقل و حمل اور انشورنس سمیت دیگر شعبوں میں بھی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
دوسری جانب بعض قدامت پسند حلقوں نے امن معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی سینیٹ میں ریپبلکن اراکین نے معاہدے کا متن اور ٹرمپ انتظامیہ سے اس بارے میں بریفنگ طلب کی ہے۔

شیئر: