Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جی 7 ممالک کے رہنماؤں کا لبنان میں جنگ بندی کا مطالبہ، ایران ڈیل کا خیرمقدم

امریکی ایرانی معاہدے کا مقصد جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا آغاز کرنا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
جی 7 ممالک کے رہنماؤں نے لبنان میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور ایران کے ساتھ ہونے والے عبوری معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ اجلاس فرانس کے شہر ایویان-لی-بینز میں جنیوا جھیل کے کنارے منعقد ہوا، جہاں امریکی ایرانی جنگ بندی کے معاہدے کی تفصیلات واشنگٹن اور تہران سے سامنے آ رہی تھیں۔ یہ معاہدہ جمعے کو باضابطہ طور پر ظاہر کیا جانا ہے۔
امریکی ایرانی معاہدے کا مقصد جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا آغاز کرنا ہے، جس میں اب تک سات ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، زیادہ تر ایران اور لبنان میں۔ جی 7 رہنماؤں نے اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات کو ایران کے خطے اور دنیا بھر میں پیدا کردہ خطرات کو حل کرنا ہوگا اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔
یہ اجلاس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے موقع تھا کہ وہ اپنے اتحادیوں برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی اور جاپان کو ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے آگاہ کریں۔ اگرچہ یہ ممالک ایران کے جوہری پروگرام پر واشنگٹن کی تشویش میں شریک ہیں، لیکن انہوں نے ٹرمپ کے جنگ شروع کرنے کے فیصلے کی حمایت نہیں کی۔ ان کا خدشہ ہے کہ ایران نے طاقتور حملے کا مقابلہ کر کے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مضبوط کر لیا ہے۔
جی 7 رہنماؤں نے کہا کہ وہ معاہدے کے نفاذ میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔ برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں ایک اتحاد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے بعد بحری جہازوں کی حفاظت کرے گا۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان دستخط شدہ یادداشت اپریل میں اعلان کردہ جنگ بندی کو مزید ساٹھ دن کے لیے بڑھاتی ہے تاکہ مستقل امن معاہدے پر بات چیت ہو سکے۔
ٹرمپ نے کہا کہ معاہدے میں واضح کیا گیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھے گا۔۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مزید مذاکرات ایران کے یورینیم کے ذخیرے کو ختم کرنے یا تلف کرنے کی طرف لے جائیں گے۔ تاہم جنگ کو ایسے شرائط پر ختم کرنا ٹرمپ کے لیے سیاسی تنقید کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر اپنی جماعت کے سخت گیر حلقوں سے۔
لبنان کی صورتحال اس جنگ بندی کا سب سے بڑا سوال ہے۔ اسرائیل نے مارچ میں لبنان پر حملہ کیا تاکہ حزب اللہ کو ختم کیا جا سکے، جس نے ایران کے ساتھ یکجہتی میں سرحد پار حملے کیے تھے۔ اسرائیلی افواج اب بھی جنوبی لبنان کے حصے پر قابض ہیں، جہاں دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ مستقل امن معاہدے کے لیے اسرائیل کو لبنان سے نکلنا ہوگا، لیکن اسرائیل انکار کرتا ہے۔ اس معاملے پر امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں دراڑ پڑ گئی ہے۔

اسی اجلاس میں جی 7 رہنماؤں نے یوکرین کی حمایت کا بھی اعلان کیا (فوٹو: اے ایف پی)

جی 7 رہنماؤں نے اپنے بیان میں لبنان میں فوری اور مضبوط جنگ بندی اور حزب اللہ کے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا۔ حزب اللہ کے ترجمان نے کہا کہ ایران اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے بغیر مستقل امن پر راضی نہیں ہوگا۔
معاہدے میں 300 ارب ڈالر کا تعمیرِ نو فنڈ بھی شامل ہے، جو خلیجی ممالک فراہم کریں گے اگر ایران دیگر شرائط پر عمل کرے۔ آئندہ ساٹھ دنوں میں ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل پر بات چیت ہوگی، لیکن ایران کی میزائل صلاحیت اور علاقائی ملیشیاؤں کی حمایت زیرِ بحث نہیں ہے، جو امریکہ کی بڑی رعایت سمجھی جا رہی ہے۔
تیل کی قیمتیں بدھ کو مزید گر گئیں کیونکہ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کی امید ہے۔ امریکی حکام نے کہا کہ معاہدے کے تحت ایران کے تیل پر پابندیاں ختم کر دی جائیں گی، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی بڑھ سکتی ہے۔ جی 7 رہنماؤں نے کہا کہ وہ توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ آبنائے ہرمز پر انحصار کم ہو۔
اسی اجلاس میں جی 7 رہنماؤں نے یوکرین کی حمایت کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ یوکرین کی علاقائی سالمیت کے ساتھ کھڑے ہیں اور روس پر مزید پابندیاں لگائیں گے۔ یہ بیان اس وقت آیا جب ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کو "بہت اچھی" قرار دیا، جس سے امن مذاکرات کی امید پیدا ہوئی۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ جی 7 ممالک نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ مشرقی یورپ میں بھی امن قائم کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔

 

شیئر: