تنازع کا حتمی تصفیہ، ایران اور امریکہ جمعے کو امن مذاکرات شروع کریں گے
امریکہ اور ایران کے حکام نے کہا ہے کہ دونوں ممالک جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں تنازع کے حتمی تصفیے لیے مذاکرات کا آغاز کریں گے جبکہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق معاہدے پر دستخط کی تقریب کے فوراً بعد حتمی معاہدے پر بات چیت شروع ہو گی جو کہ 60 روز تک جارہیں گے۔ اس بات چیت میں ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل اور بین الاقوامی اقتصادی پابندوں کے خاتمے کے حوالے سے فیصلے کیے جائیں گے۔
28 فروری کو ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے ساتھ چھڑنے والی جنگ کے خاتمے کی امیدوں کو اس وقت دھچکا لگا جب اسرائیل نے جنوبی لبنان کے علاقوں میں تازہ حملے کیے۔
دوسری جانب ایران کی مرکزی فوجی کمان خاتم الانبیا نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کو ان حملوں کے جواب میں ’سخت ردعمل کا انتظار کرنا چاہیے۔’
لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق ان حملوں میں مایفدون کے علاقے میں دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان میں چار افراد ہلاک ہوئے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے حملہ اس وقت کیا گیا جس فوجی مقام کے قریب ایک ’مشکوک گاڑی‘ کی نشاندہی ہوئی۔
اسرائیلی فوج کے مطابق متعدد راکٹوں کو فضا میں ہی تباہ کیا گیا اور ایک راکٹ لانچر پر بھی فضائی حملہ کیا گیا۔
’جنگ کے خاتمے کے لیے اسرائیل کا لبنان سے نکلنا ضروری‘
ایران کے اعلیٰ سفارت کار نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے مجوزہ معاہدے کے تحت اسرائیل کو لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانا ہوں گی، تاہم اسرائیل پہلے ہی اس شرط کو مسترد کر چکا ہے، جس کے باعث معاہدے کے ناکام ہونے اور جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خطرات ہو سکتے ہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں اور فریقین کے حکام کی جانب سے معاہدے کے مندرجات کی متصاد تشریحات پیش کی ہیں۔ اگرچہ اسرائیل اس معاہدے کا فریق نہیں ہے لیکن وہ جنگ کا حصہ ہے کیونکہ وہ 28 فروری کو ایران پر حملوں میں امریکہ کے ساتھ تھا۔
اسرائیل لبنان میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروپ حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں کرتا رہا ہے اور اس کے لبنان علاقوں پر بھی قبضہ بھی کر چکا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان پر اسرائیل کا مسلسل برقرار رہنا معاہدے کی خلاف ورزی ہو گا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’جب تک اسرائیل ان علاقوں سے فوجیں واپس نہیں بلاتا جن پر جنگ کے دوران قبضہ کیا گیا اس وقت تک جنگ کو مکمل طور پر ختم نہیں سمجھا جا سکتا۔‘