Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی ساحل سبز کچھوؤں کی افزائشِ نسل کے لیے محفوظ مسکن

سعودی عرب میں کچھوؤں کی سات میں سے پانچ اقسام مملکت کے پانیوں میں ریکارڈ کی گئی ہیں (فوٹو: شٹر سٹاک)
سمندری کچھوؤں کا عالمی دن ایک ایسا موقع ہے جو اس خطرے سے دوچار سمندری مخلوق کے نقشے پر سعودی عرب کی اہم ترین پوزیشن کو نمایاں کرتا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق ینبع سے تقریباً 70 کلومیٹر شمال میں واقع راس بریدی کا ساحل سمندری کچھوؤں کے انڈے دینے اور گھونسلے بنانے کے لیے مملکت کا سب سے اہم اور مشہور مقام مانا جاتا ہے۔
اس دن کو منانے کا آغاز سنہ 2000 میں ہوا تھا اور اس دن کا انتخاب آرچی کار کی تاریخ پیدائش کی مناسبت سے کیا گیا تھا جنہیں دنیا بھر میں سمندری کھچوؤں کی بائیولوجی کا بانی مانا جاتا ہے۔
یہ دن ایسے نازک ماحولیاتی پس منظر کے ساتھ منایا جا رہا ہے جب دنیا بھر میں سمندری کھچوؤں کی صرف سات اقسام باقی رہ گئی ہیں جن میں چھ کو بین الاقوامی طور پر معدومیت کے خطرے سے دوچار قرار دیا جا چکا ہے۔
سعودی عرب میں کچھوؤں کی سات میں سے پانچ اقسام مملکت کے پانیوں میں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ان میں سے دو اقسام ایسی ہیں جو سعودی ساحلوں پر انڈے دیتی ہیں جن میں گرین ٹرٹل اور ہاکس بل ٹرٹل شامل ہیں۔
ان کے انڈے دینے کے سب سے مشہور مقامات فرسان جزائر، جبل حسن جزیرہ، الواقدی جریزہ، ینبع کے شمال میں واقع راس بریدی اور خلیج عرب میں واقع کاران اور جانا جزیرہ شامل ہیں۔
گرین ٹرٹل کو خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے جبکہ ہاکس بل ٹرٹل شدید خطرے سے دوچار ہے۔
اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ راس بریدی کے ساحل پر کچھوؤں کی تعداد میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ یہاں انڈے دینے والی مادہ کچھوؤں کی سالانہ تعداد جو 1982 اور 1995 کے درمیان صرف 14 سے 110 کے درمیان تھی، 2018 میں بڑھ کر 178 اور پھر 2019 میں 330 تک جا پہنچی۔

گرین ٹرٹل کو خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے (فوٹو: عرب نیوز)

تحقیقی میدان میں قومی پروگرام کے تحت 2009 اور 2017 کے درمیان تقریباً 6065 گرین ٹرٹل اور 912 ہاکس بل کھچوؤں پر شناختی ٹیگ لگائے گئے اور کنگ عبدالعزیز سٹی فار سائنس ایںڈ ٹیکنالوجی کے تعاون سے سیٹلائٹ کے ذریعے ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی گئی۔
حالیہ پیشرفت میں پرنس محمد بن سلمان رائل ریزرو نے دسمبر 2025 میں بحیرۂ احمر کے اندر ایک حاملہ گرین ٹرٹل پر لائیو ٹریکنگ ڈیوائس لگانے کا پہلا کامیاب تجربہ بھی کیا۔
اگر کمیونٹی کی بات کی جائے تو یہ موقع فرینڈز آف دی ریڈ سی نامی تنظیم کی آگاہی مہم کے ساتھ جڑا ہوا ہے جس میں ماہرین شامل ہیں۔
یہ کیمپینز کھچوؤں کو درپیش بڑے خطرات پر توجہ مرکوز کرتی ہیں جن میں سب سے بڑا خطرہ پلاسٹک کا کچرا ہے جسے کچھوے اکثر جیلی فِش سمجھ کر نگل لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ریت کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت بھی ایک بڑا خطرہ ہے کیونکہ گھونسلے کی گرمی ہی یہ طے کرتی ہے کہ انڈوں سے نکلنے والے بچے نر ہوں گے یا مادہ اور زیادہ گرمی کی وجہ سے ان کا قدرتی تناسب بگڑ رہا ہے۔

2025 میں ایک حاملہ گرین ٹرٹل پر لائیو ٹریکنگ ڈیوائس لگانے کا پہلا کامیاب تجربہ بھی کیا (فوٹو: عرب نیوز)

دوسری جانب سعودی ریڈ سی اتھارٹی جو 2021 میں سمندری سرگرمیوں کو منظم کرنے اور سمندری ماحول کے تحفظ کے لیے بنائی گئی تھی، ان ساحلوں پر سیاحت کی رفتار کو ماحول دوست بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
اس عالمی دن کی  مناسبت سے اتھارٹی نے ایک خصوصی پیغام جاری کیا ہے جس میں سمندری تفریح کے دوران ذمہ دارانہ رویہ اپنانے پر زور دیا گیا ہے تاکہ بحیرۂ احمر میں ان کچھوؤں کی حفاظت کی جا سکے۔
یہ تمام کوششیں مل کر اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ سعودی ساحلوں پر کچھوؤں کے انڈے دینے کے سیزن کا مستقبل اب اس بات پر منحصر ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی ساحلی سیاحت اور اس طویل العمر سمندری مخلوق کے قدرتی گھروں کے تحفظ کے درمیان کس طرح ایک بہترین توازن برقرار رکھا جاتا ہے۔

 

شیئر: