بلوچستان: سرکاری ملازمین کے احتجاج میں شدت، دفاتر کی تالہ بندی اور تادم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان
بلوچستان: سرکاری ملازمین کے احتجاج میں شدت، دفاتر کی تالہ بندی اور تادم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان
جمعرات 18 جون 2026 18:31
زین الدین احمد، اردو نیوز، کوئٹہ
حکومت بلوچستان کے مطابق ’دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف کارروائیاں کی گئیں‘ (فوٹو: عبدالوحید)
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سرکاری ملازمین اور صوبائی حکومت کے درمیان جاری تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔
بلوچستان گرینڈ الائنس کی جانب سے ملازمین کی گرفتاریوں اور مبینہ تشدد کے خلاف صوبہ بھر میں غیر معینہ مدت کی ہڑتال اور سرکاری دفاتر میں تالہ بندی کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس اعلان کے بعد کئی اضلاع میں سرکاری دفاتر اور تعلیمی ادارے بند ہو گئے ہیں جس کے باعث طلبہ کی پڑھائی اور سرکاری امور متاثر ہیں۔ گرینڈ الائنس کی جانب سے جمعے سے تادم مرگ بھوک ہڑتال بھی شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
حالیہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب بدھ کو کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے موقعے پر گرینڈ الائنس نے ریلی نکال کر اسمبلی کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی۔
تاہم پولیس نے مظاہرین کو چمن پھاٹک کے قریب روک دیا اور آنسو گیس کی شیلنگ کے بعد گرینڈ الائنس کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔
گرینڈ الائنس کے مطابق یہ احتجاج پرامن تھا مگر حکومت نے طاقت کا استعمال کیا جس کے ردِعمل میں صوبہ بھر میں مکمل ہڑتال اور تالہ بندی کا اعلان کیا گیا۔
گرینڈ الائنس کے آرگنائزر عبدالقدوس کاکڑ کا کہنا ہے کہ ’ملازمین گذشتہ دو برس سے اپنے مطالبات کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں لیکن حکومت سنجیدہ نظر نہیں آتی۔‘
’حکومت مذاکرات کے دوران کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کے بجائے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے ذریعے طاقت کے استعمال، گرفتاریاں، معطلی اور جبری ریٹائرمنٹ جیسی انتقامی کارروائیاں کر رہی ہیں۔‘
ان کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا کہ ’ملازمین کو احتجاج کا جمہوری حق نہیں دیا جا رہا جس کی وجہ سے ہم مجبور ہوگئے ہیں کہ احتجاج کے زیادہ سخت ذرائع استعمال کریں۔‘
گرینڈ الائنس نے بدھ کو ہونے والی گرفتاریوں کے بعد اعلان کیا ہے کہ ’سکولوں اور کالجوں سمیت تمام سرکاری دفاتر کی تالہ بندی کی جائے گی، محکمہ صحت اور ہسپتالوں کے شعبہ ایمرجنسی کے علاوہ کسی بھی محکمے کے ملازمین ڈیوٹی سرانجام نہیں دیں گے۔‘
بلوچستان گرینڈ الائنس کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ’ہمارا احتجاج 12 مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا‘ (فوٹو: عبدالوحید)
گرینڈ الائنس کے آرگنائزر عبدالقدوس کاکڑ کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا، صوبے بھر میں ریلیاں اور احتجاجی مظاہرے منعقد کیے جائیں گے۔ 19 جون سے کوئٹہ میں احتجاجی کیمپ بھی لگایا جائے گا جس میں ملازم تادم مرگ بھوک ہڑتال کریں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہمارا احتجاج 12 مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا جس میں سب سے بڑا مطالبہ ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس (ڈی آر اے) ہے جس کا مقصد مختلف محکموں کے ملازمین کے درمیان تنخواہوں کا فرق کم کرنا ہے۔‘
بلوچستان گرینڈ الائنس کے مطابق وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ، ہائی کورٹ، سول سیکریٹریٹ اور اسمبلی سمیت مختلف محکموں کے ملازمین کی تنخواہیں بہت زیادہ ہیں جبکہ دیگر محکموں کے ملازمین کی تنخواہیں ان سے کم ہیں۔ اس بنیادی فرق کو ختم کرنے کے لیے حکومت کو وفاق کی طرز پر یہ الاؤنس دینا چاہیے۔
گرینڈ الائنس کے مطابق وفاقی حکومت گذشتہ سال 30 فیصد اور رواں برس 15 فیصد الاؤنس دے چکی ہے، دیگر صوبوں میں یہ الاؤنس دیا جا چکا ہے مگر بلوچستان کے قریباً تین لاکھ ملازمین تاحال اس سے محروم ہیں۔
گرینڈ الائنس کے مطابق ’19 جون سے کوئٹہ میں احتجاجی کیمپ اور تادم مرگ بھوک ہڑتال کا آغاز کریں گے‘ (فوٹو: عبدالوحید)
ان کا مزید کہنا ہے کہ مہنگائی میں مسلسل اضافے کے باوجود تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے ملازمین معاشی دباؤ اور مشکلات کا شکار ہیں۔
دوسری جانب حکومت بلوچستان کا کہنا ہے کہ ڈی آر اے الاؤنس کی ادائیگی سے صوبائی خزانے پر سالانہ 15 سے 20 ارب روپے تک کا اضافی بوجھ پڑے گا جبکہ پہلے ہی بجٹ کا بڑا حصہ تنخواہوں اور پنشن پر خرچ ہو رہا ہے۔ صوبے کی مالی حالت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ اس مطالبے کو منظور کیا جائے۔
بلوچستان گرینڈ الائنس 2025 میں 30 سے زائد محکموں کے سرکاری ملازمین کی تنظیموں کے اتحاد کے طور پر قائم ہوا تھا۔ شروع میں یہ تحریک ریلیوں، جلسوں اور قلم چھوڑ ہڑتال تک محدود تھی لیکن بعد ازاں تالہ بندی، شاہراہوں کی بندش اور دھرنوں کی صورت اختیار کر گئی۔
جون 2025 میں بھی بجٹ اجلاس کے موقعے پر احتجاج کے دوران درجنوں افراد اور پھر جنوری 2026 میں شاہراہوں کی بندش اور احتجاج میں شدت لانے پر درجنوں ملازمین کو گرفتار کیا گیا۔
چند روز قبل حکومت نے احتجاج میں شریک محکمہ کالجز کے 40 کے قریب اساتذہ کو سرکاری قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دے کر جبری ریٹائر کردیا تھا جن میں گرینڈ الائنس کے سربراہ عبدالقدوس کاکڑ بھی شامل ہیں۔
حکومت اور گرینڈ الائنس کے درمیان مذاکرات کے متعدد ادوار ہوئے، تاہم گرینڈ الائنس کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے مذاکرات کے دوران کئی وعدے کیے مگر ہر بار اِن کی خلاف ورزی کی۔
دوسری جانب حکومت بلوچستان کا مؤقف ہے کہ سڑکوں کی بندش اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔